زمانۂ قدیم میں ہندوستان بہت سی سلطنتوں اور مملکتوں میں منقسم تھا

 زمانۂ قدیم میں ہندوستان بہت سی سلطنتوں اور مملکتوں میں منقسم تھا
 زمانۂ قدیم میں ہندوستان بہت سی سلطنتوں اور مملکتوں میں منقسم تھا

  

مصنف : ای مارسڈن 

صوبہ دار گورنمنٹ:

 زمانہ قدیم میں ہندوستان بہت سی سلطنتوں اور مملکتوں میں منقسم تھا۔ شہنشاہان مغلیہ کے عہد میں ان کی سلطنت صوبوں میں تقسیم کی گئی تھی۔ اب بھی اسی طرح برٹش انڈیا 15 صوبوں میں منقسم ہے۔ جن میں سے 10تو بڑے بڑے ہیں اور باقی چھوٹے چھوٹے۔

 بڑے بڑے صوبے یہ ہیں۔

(1) بنگال (2) مدراس (3) بمبئی (4) صوبہ جات متحدہ (5) بہار و اڑیسہ (6) پنجاب (7) ممالک متوسط (8) برما (9) آسام (10) شمال مغربی سرحدی صوبہ اور چھوٹے چھوٹے صوبے یہ ہیں ۔ (11) دلی (12) اجمیر و مہرواڑہ (13) برٹش بلوچستان (14) کورگ (15) جزائر انڈمان و نکوبار۔

 ان صوبوں میں ہر ایک کی جدا جدا گورنمنٹ ہے مگر وہ سب گورنمنٹ آف انڈیا کے ماتحت ہیں۔ ہر ایک صوبے میں ایک ہی قسم کی حکومت ہے۔ ایک ہی قانون اور اصول کارروائی اور افسروں کے مدارج بھی یکساں، ہر ایک صوبہ باقاعدہ طور پر ہر صیغے کے متعلق گورنمنٹ آف انڈیا کی خدمت میں رپورٹیں بھیجتا ہے۔

 مدراس، بنگال اور بمبئی سب سے پرانے انگریزی صوبے ہیں ان میں سے ہر ایک کا حکمران گورنر کہلاتا ہے اور انگلستان سے مقرر ہو کر آتا ہے۔ ہر ایک گورنر کے ہاں ایک ایک لیجسلیٹو کونسل اور ایگزیکٹو کونسل بھی ہے۔ چھوٹی انتظامی کونسل کے 3 ممبر ہوتے ہیں جن میں سے ایک ضرور ہی ہندوستان کا باشندہ ہوتا ہے۔ خواہ ہندو ہو یا مسلمان، بڑی کونسل واضعان قوانین میں کوئی 50 ممبر ہوتے ہیں جن میں غیر سرکاری ممبروں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔

 4 صوبوں یعنی (1) صوبہ جات متحدہ (2) پنجاب (3) بہار و اڑیسہ (4) اور برما میں اعلیٰ حاکم لیفٹیننٹ گورنر ہیں جنہیں حضور وائسرائے علیٰ العموم ہندوستان کے سول سروس کے افسروں میں سے منتخب کرتے ہیں۔ وہ پانچ سال تک حکمران رہتے ہیں۔ ان میں سے بعض کے چھوٹی سی انتظامی کونسل بھی ہے اور واضعان قوانین کی بڑی کونسل سب کے ہاں ہے۔

 باقی صوبے جو رقبے میں چھوٹے چھوٹے ہیں۔ چیف کمشنروں کے ماتحت ہیں۔ ان کے ہاں کوئی کونسل نہیں ہوتی وہ براہ راست گورنر جنرل کے ماتحت ہیں۔

 ہر صوبہ ضلعوں میں منقسم ہے اور اس طرح برٹش انڈیا کے کل 267 ضلعے ہیں۔ ہر ایک ضلع بجائے خود ہر پہلو سے مکمل ہوتا ہے اور جیسا ایک ضلع کاانتظام ہوتا ہے ویسا ہی سب کا ہے۔ ایک ہی طرح کے عہدہ دار ہیں اور ایک ہی قسم کے قواعد کی پابندی ہوتی ہے۔ بعض ضلعے تو بہت بڑے ہیں مگر وہ علی العموم ایسے ہیں جن میں آبادی کم ہے۔ بعض بعض چھوٹے چھوٹے بھی ہیں مگر ایسے ضلعوں میں عموماً آبادی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ضلع اور آبادی کی اوسط 10سے 15 لاکھ تک ہوتی ہے۔

 پنجاب، اودھ، ممالک متوسط اور چھوٹے چھوٹے صوبوں میں بڑے حاکم کو ڈپٹی کمشنر کہتے ہیں دیگر بڑے بڑے صوبوں میں کلکٹر ان کے ماتحت افسروں کا عملہ ہوتا ہے یعنی اسسٹنٹ و ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر، ایک افسر پولیس، ایک انجینئر، ایک سول سرجن، ایک افسر جنگلات، ایک سپرنٹنڈنٹ جیل وغیرہ۔ بعض افسر تین تین چار چار ضلعوں میں دورہ کرتے ہیں۔ جنہیں حلقہ یا قسمت کہتے ہیں جیسے انسپکٹر مدارس یہ افسر انگریز یا ہندوستانی ہو سکتے ہیں۔ ہندوستانی کلکٹر ڈاکٹر اور سول سرجن وغیرہ بھی ہیں۔

 بعض صوبوں میں تین تین چار چار ضلعے ملا کر ایک کمشنر کے ماتحت کر دیئے جاتے ہیں۔ برٹش انڈیا میں ایسے 50 کمشنر ہیں۔ وہ افسران ضلع کے کام کی نگرانی کرتے ہیں۔

 بنگال اور برما کے سوا ہر ایک صوبے میں تعلقے یا تحصیلیں ہیں جن میں سے ہر ایک ایک افسر کے ماتحت ہے جسے تحصیلدار کہتے ہیں وہ اپنے علاقہ پر اس طرح حکومت کرتا ہے جس طرح ڈپٹی کمشنر ضلع پر، سینکڑوں تحصیلدار ہیں اور وہ سب کے سب ہندوستانی ہیں۔ انہیں نہایت احتیاط سے منتخب کیا جاتا ہے اور وہ سب اچھے تعلیم یافتہ آدمی ہوتے ہیں۔ تمام قواعد کا ٹھیک طور پر عمل درآمد اور زمینداروں کی حفاظت و بہتری کا مدار تحصیلدار کی لیاقت و دیانت اور شوق کارگزاری پر ہے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -