استاد کی تربیت

 استاد کی تربیت

  

زمانہ قدیم کی بات ہے کسی ملک میں ایک بادشاہ ہوتا تھا۔اس بادشاہ کو اپنے ملک میں محل نما بڑی بڑی عمارتیں بنانے کا بے حد شوق تھا۔اْس بادشاہ نے اپنی عمر کا آدھا حصہ عالی شان اور بلند و بالا عمارتیں بنوانے میں صرف کر دیا۔

    عوام بادشاہ کے اس عمل سے شدید نالاں تھی۔بادشاہ نے اپنے ملک اور عوام کی ترقی اور خوشحالی کا کوئی خیال نہ رکھا تھا۔اْس دور میں نہ ہی بحری بیڑے خریدے جس سے تجارت کو فروغ حاصل ہو اور عوام کو روزگار کی سہولت ملتی اور نہ اس نے دوسرے ممالک کے ساتھ کوئی تجارتی روابط رکھے تھے۔

    سال میں صرف ایک حج کے موقع پر جب حج پر جانے کی تیاری کرتے تو آس پاس کے بہت سے قبائل کے لوگ جوق در جوق وہاں آ کر اکٹھے ہوتے تھے اور پھر حج پر روانہ ہوتے تھے۔

    حج سے فارغ ہو کر یہ لوگ ضروریات زندگی کی تقریباً سبھی اشیاء خرید کر اپنے ملک میں لے آتے تھے۔

    لوگ شدید تنگ دستی میں زندگی بسر کر رہے تھے۔بادشاہ کو اپنے شوق سے اتنی فرصت کہاں کہ وہ عوام کے لئے کچھ سوچتا۔بادشاہ کے دو بیٹے تھے۔بڑے شہزادے کا نام سکندر تھا جس کا رنگ کالا تھا اور وہ بدصورت بھی تھا جبکہ دوسرے بیٹے کا نام گلاب تھا جو نہایت ہی خوبصورت اور صحت مند جوان تھا۔

    بادشاہ اپنے بڑے بیٹے کے لئے جس ملک میں بھی رشتے کی بات کرتا تو شہزادے کو دیکھ کر وہ اتنا کہتے کہ اگر آپ نے ہماری شہزادی بیٹی کا رشتہ لینا ہے تو آپ اپنے چھوٹے شہزادے کے لئے لے لیں۔یوں اس بات پر بادشاہ کے دونوں بیٹوں کے رشتے نہ ہوتے تھے۔

    ایک دن ایک وزیر نے بادشاہ کو مشورہ دیا اور کہا ماشاء اللہ بادشاہ سلامت آپ کے دونوں بیٹے جوان ہیں اور دونوں ہی بہترین اساتذہ کے زیر تعلیم ہیں میرا مشورہ ہے کہ آپ ملک کی ذمہ داری اپنے دونوں جوان بیٹوں کے حوالے کر دیں۔یوں عوام بھی خوش ہو جائیں گی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شہزادے بھی عوام دوست بن جائیں گے۔بادشاہ کو وزیر کی یہ بات بہت پسند آئی۔اْس نے چھوٹے شہزادے گلاب کے استاد کو محل میں بلوایا اور اپنے بیٹے کے متعلق چند سوالات کیے۔استاد کی اپنے شاگرد کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہ تھی۔

    بادشاہ سلامت کو استاد کی باتیں بہت بْری لگیں اور وہ غصہ میں آ گیا۔استاد استاد ہی ہوتا ہے۔اس نے بادشاہ سے کہا بھلا میں حاکم کو حکم کس طرح دے سکتا ہوں۔بادشاہ نے بڑے بیٹے سکندر کے استاد کو بھی محل میں بلوایا اور سکندر کی کارکردگی کے بارے میں پوچھا۔

    استاد نے بادشاہ کو بس اتنا جواب دیا کہ اگر کسی بات کا کوئی شک ہے تو دونوں شہزادوں کو بلوا لیں آپ کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ بہادر اپنے راستہ کا انتخاب خود کرتا ہے اور میدان میں مخالف سے کیسا سلوک کرتا ہے۔

    بادشاہ سلامت کو بات سمجھ آ گئی اور وہ بہت خوش ہوئے۔

    استاد کو ہیرے جواہرات اور نقد انعام سے نوازا اور دوسرے استاد کی کم عقلی پر بطور سزا اسے جیل بھیج دیا۔اس استاد کی صرف یہی غلطی تھی کہ اس نے اپنے شاگرد کو شاگرد نہیں بلکہ ایک بادشاہ کا بیٹا سمجھ کر تعلیم دی تھی۔شاگرد کسی بادشاہ کا بیٹا ہو یا عام غلام کا استاد کے لئے تو وہ صرف ایک شاگرد ہی ہوتا ہے۔

    بادشاہ کو چھوٹے شہزادے گلاب سے بہت پیار تھا۔استاد کی باتوں سے بادشاہ کو اس بات کا ادراک ہو چکا تھا کہ گلاب کو نظام حکومت سمجھنے میں ابھی بہت وقت درکار ہو گا جبکہ سکندر میں خوب فہم و فراست ہے۔بادشاہ نے انتظامی حوالہ سے اپنے ملک کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔

    وسطیٰ حصہ جس میں پھل،پھول،اناج کی فصلیں اور سرسز و شاداب درخت عام تھے اپنے پاس رکھا اور مشرق و مغرب کا نظام اپنے دونوں بیٹوں کے حوالے کر دیا۔اپنے حصہ کا نظام حکومت چلانے کے لئے چھوٹے شہزادہ گلاب کو بہت سے دانا وزیر،بہترین سپاہی اور سینکڑوں غلام دیئے تاکہ وہ آسانی سے نظام چلا سکے اور اسے کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    جو حصہ بادشاہ نے شہزادہ گلاب کے حوالے کیا اس میں باغات میووں سے بھرے پڑے تھے۔کھیت بھی فصلوں سے بھرپور تھے اور شہزادہ سکندر کو جس حصہ کو حکمران بنایا وہاں کی زمین بنجر اور پتھریلی تھی۔نہ باغات تھے اور نہ ہی درخت۔یہاں صرف برسات کے دنوں میں فصل اْگتی تھی۔

    بادشاہ نے اپنے بڑے بیٹے سکندر کو جو وزیر،سپاہی اور غلام دیئے تھے وہ بھی زیادہ عمر کے اور کمزور تھے مگر شہزادہ سکندر نے اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہ کی کیونکہ اس کو اپنے استاد کی طرف سے بہترین تعلیم کے ساتھ ساتھ بہادری اور شجاعت بھی ملی تھی۔

    سکندر نے اپنے حصہ کے علاقہ کا نظام سنبھالتے ہی اپنے غلاموں کو آزاد کر دیا تاکہ وہ بھی خود کو اس ملک کا شہری کہلوا سکیں۔بادشاہ سلامت نے یہ غلام مختلف ممالک سے خریدے تھے۔سکندر نے ان غلاموں کو جو اس کے حصہ میں آئے تھے آزاد کرکے مختلف کاموں پر لگا دیا اور جو غلام صحت مند تھے ان کو اپنی فوج کا حصہ بنا لیا۔

    یہ غلام جنگی سامان کی تیاری میں ماہر تھے۔سکندر نے یہاں کے لوگوں کی عزتِ نفس کا خاص خیال رکھا اور ان میں گھل مل کر رہنے لگا تاکہ حاکم اور محکوم کا فرق مٹ سکے۔یہاں تک کہ آزاد کردہ غلاموں کو بھی برابری کا مقام عطا کر دیا۔یوں سکندر عوام کے دلوں پر راج کرنے لگا۔

    دوسری طرف شہزادہ گلاب نے اپنے حصہ کی عنانِ حکومت سنبھالتے ہی وہاں کا نظم و نسق چلانے والے افراد جو ایک خاص مقام رکھتے تھے جبراً جیل کی سلاخوں کے پیچھے کر دیا تاکہ وہ لوگ اس کے کسی کام میں مداخلت نہ کر سکیں۔گلاب کی عادات تو پہلے ہی سے خراب تھیں۔

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گلاب کے حصہ کا علاقہ اس کی غلط پالیسیوں اور بے جا فضول خرچی کی وجہ سے اندر ہی اندر کھوکھلا ہو رہا تھا۔وہ ہر وقت نشے کی حالت میں رہنے لگا تھا اور یوں ایک دن موقع پا کر ایک ہمسایہ ملک نے شہزادہ گلاب کے علاقہ پر حملہ کر دیا۔

    وہ شہزادہ گلاب کو قید کرکے اس علاقہ پر قابض ہو گیا۔اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے اب وہ اپنے علاقہ کا حاکم نہیں بلکہ ایک قیدی تھا۔اس نے ان تمام اہم افراد کو جو کاروبارِ حکومت چلانے کے ماہر تھے،فوج جن کے زیر اثر تھی کو جیل کی تاریک کو ٹھڑیوں میں ڈال دیا تھا۔یوں وہ اپنی فوج کو استعمال ہی نہ کر سکا اور شکست کھا گیا۔

    شہزادہ سکندر کو جب اپنے بھائی کی شکست اور علاقہ پر کسی اور کے قبضہ کا علم ہوا تو وہ چین سے نہ بیٹھ سکا۔اس نے اپنی تیار کردہ بھاری فوج لے کر مخالف فوج پر حملہ کر دیا۔

    یہ جنگ کافی دن تک جاری رہی اور بالآخر مخالف فوج پسپا ہو گئی اور اکثر نے ہتھیار ڈال دیے۔یوں سکندر دونوں علاقوں کا حکمران بن گیا۔سکندر کا اندازِ حکمرانی بالکل مختلف تھا۔وہ عوام کے دکھ سکھ میں ان کے ساتھ ساتھ رہتا۔اس نے کبھی بھی عوام کو یہ احساس نہ ہونے دیا کہ وہ رعایا ہیں۔

    اس کے اس اندازِ حکمرانی پر عوام اس پر فریضہ تھی۔اس نے اپنی ذہنی صلاحیتوں سے کام لیا اور عوام سے وہاں کی پتھریلی اور بنجر زمین کو بھی زرخیز کر لیا۔جہاں فصل بارانی تھی اب وہاں کے لوگوں سے اس نے کنویں کھدوا کر نئے کھیتوں کو پانی سے سیراب کر دیا اور دیگر کاموں میں بھی یہ انداز اختیار کیے رکھا۔

    بادشاہ سلامت کو جب گلاب کی شکست اور قید کا علم ہوا تو بہت پریشان ہوئے پھر اچانک سکندر کی جواں مردی اور اعلیٰ ذہنی صلاحیت سے وہ علاقہ پھر حاصل کرنے کا سنا تو انہیں بہت خوشی ہوئی مگر ان کی سمجھ میں یہ نہیں آ رہا تھا کہ وہ سکندر کی فتح کا جشن منائیں یا گلاب کی شکست کا افسوس۔۔۔ایک کی شکست اور ملک کھو دینا اور دوسرے کی ذہنی صلاحیتوں اور بہادری۔یہ دونوں باتیں ہی قابلِ غور تھیں۔کافی سوچ بچار کے بعد بادشاہ سلامت کو سکندر کی لیاقت اور صلاحیت پر فخر محسوس ہو رہا تھا اور گلاب کی کم ہمتی،بے راہ روی اور نالائقی پر افسوس۔گلاب قید میں تھا۔بادشاہ نے سکندر سے اس سے رہائی کا کہا تو فرمانبردار شہزادے نے سرِ تسلیم خم کا اور گلاب کی رہائی کا وعدہ کیا۔

    گلاب نے بڑے بھائی سے معافی مانگی اور ہمیشہ اس کے ساتھ مل کر عوام کی خدمت کرنے کا سچا وعدہ کر لیا۔

    بادشاہ سلامت نے اب حکمرانی کا فریضہ مکمل طور پر شہزادہ سکندر کے حوالے کرنے کا سوچ لیا۔بادشاہ سلامت نے کئی ممالک کے بادشاہوں کو ایک مقررہ دن اپنے ہاں شاہی محل میں دعوت نامے ارسال کرکے مدعو کیا۔اس روز بادشادہ سلامت نے اپنے خاص پروگرام کا اعلان کرنا تھا۔شاہی محل تقریباً مہمانانِ گرامی سے بھر چکا تھا، دوسرے ممالک کے بادشاہ اپنی اپنی نشستوں پر براجمان تھے۔ایک پڑوسی ملک کے بادشاہ نے بادشاہ سلامت کے پاس آ کر کہا کہ شہزادہ سکندر انتہائی بردبار،نیک سیرت اور تعمیر و ترقی کے ذہنی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں میں اپنی شہزادی بیٹی کے لئے سکندر کا رشتہ چاہتا ہوں۔

    بادشاہ سلامت نے جواب دیا بس کچھ دیر انتظار کریں۔تھوڑی دیر بعد بادشاہ سلامت یوں مخاطب ہوئے۔۔۔معزز مہمانانِ گرامی آج میں بہت خوشی سے اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ شہزادہ سکندر بہت ہی ذہین اور ملک و عوام کی بہتری کے لئے بہترین منصوبہ ساز ہیں۔میں پورے ملک کی حکمرانی شہزادہ سکندر کے حوالے کرتا ہوں اور ساتھ ہی سلطان واسطی کی بیٹی شہزادی نیلم سے اس کی منگنی کا اعلان بھی کرتا ہوں۔بادشاہ سلامت نے اس اعلان کے ساتھ ہی شہزادہ سکندر کے سر پر تاج پہنایا۔وہاں موجود ہر فرد خوش تھا اور حیرت سے سکندر کو دیکھ رہا تھا۔

    بادشاہ سلامت کو بھی اس کی سمجھ آ گئی تھی کہ انسان شکل کا جتنا بھی خوبصورت کیوں نہ ہو اگر فطرت اور خصلت اچھی نہیں تو وہ جانوروں سے بھی بدتر ہے اور اسی احساس سے انہوں نے آج شہزادہ سکندر کو بادشاہی کا تاج پہنایا تھا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -