بارش اور سیلاب سے تباہی، اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں 

 بارش اور سیلاب سے تباہی، اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں 

  

ملک بھر میں بارش اور سیلاب سے آنے والی تباہی قیامت ڈھا رہی ہے،نہ صرف جانی نقصان بڑھتا جا رہا ہے بلکہ املاک،انفراسٹرکچر اور مال مویشیوں کے اتلاف کی خبریں بھی تواتر سے آ رہی ہیں،اِس وقت تک360 سے زائد انسانی جانوں کے نقصان کی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں، تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ سیلابی پانی بستیوں کی بستیاں بہا کر لے گیا ہے،جنوبی پنجاب کے علاقوں ڈیرہ غازی خان، راجن پور،خان گڑھ،کوٹ ادو،مظفر گڑھ اور تونسہ شریف تباہی کی زد میں ہیں سیلابی پانی میں بچوں کی لاشیں تیرتی دیکھی گئی ہیں اور ایک ہی مقام سے کیچڑ میں لت پت چار بچوں کے جسد ِ خاکی ملے ہیں یہ تو دیہی علاقوں کا حال ہے،بڑے اور چھوٹے شہروں کی حالت بھی ناقابل بیان ہے۔کراچی،کوئٹہ، راولپنڈی، اسلام آباد کے بعض سیکٹروں، آزاد کشمیر، اندرون سندھ اور کے پی کے میں بارش اور سیلابی پانی نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں،دوسرے نمبر پر سندھ ہے،باقی صوبوں میں بھی تعداد کم نہیں ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے ایک جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اس قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے قلیل اور طویل مدت پالیسیاں بنائی جائیں انہوں نے متاثرہ علاقوں میں زیادہ سے زیادہ ریلیف پہنچانے کا حکم دیا۔صوبائی اور وفاقی ڈیزاسٹرز مینجمنٹ کے اداروں نے انہیں بریفنگ دی،وزیراعظم نے متاثرہ افراد اور زخمیوں کی مالی امداد 50ہزار سے بڑھا کر دو لاکھ کرنے کی ہدایات جاری کیں، جزوی طور پر متاثرہ مکانوں کی امداد25 ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ اور مکمل متاثرہ گھروں کی تعمیر کے لیے امداد پچاس ہزار سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کرنے کا حکم دیا۔وزیراعظم نے مون سون کی بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصان کے تعین کے لیے وفاقی وزراء کی ایک کمیٹی بھی قائم کر دی ہے جو آئندہ چار دن کے اندر متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے رپورٹ پیش کرے گی،14 اگست کو کمیٹی کی سفارشات پر قلیل، وسط اور طویل مدتی جامع پلان تشکیل دیا جائے گا۔جنوبی پنجاب میں سب سے زیادہ نقصان تونسہ شریف میں ہوا ہے جہاں  ردو کوہیوں میں طغیانی سے دریائے چناب اور دریائے سندھ بے قابو ہو گئے اور سیلابی پانی سے دو سو کے قریب دیہات صفحہئ ہستی سے مٹ گئے،40 افراد لقمہ ئ  اجل بن گئے۔پنجاب میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کی وجہ سے اس اہم سانحے کی طرف توجہ نہیں دی جا سکی اور متاثرین کئی دن بے یارو مددگار غیبی امداد کی راہ تکتے رہے۔پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے عہدہ سنبھالتے ہی راجن پور، روجھان اور تونسہ میں سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں انہوں نے متاثرہ علاقوں میں خیمے لگانے، خوراک پہنچانے اور میڈیکل ٹیمیں بھیجنے کا حکم بھی دیا ہے جو مناظر ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ کم یا زیادہ ہر سال کا معمول ہیں،مون سون آتا ہے، سیلابی ریلے شروع ہوتے ہیں، تباہی آتی ہے،جانوں کا ضیاع ہوتا ہے،حکومت امدادی سرگرمیوں کا اعلان کرتی ہے۔ چند دِنوں کے شور شرابے کے بعد پھر معاملہ دب جاتا ہے اور ہم اگلے مون سون تک ہر قسم کی سوچ بچار ختم کر دیتے ہیں اگرچہ وزیراعظم شہباز شریف نے وزراء کی جو کمیٹی بنائی ہے اس سے یہ کہا ہے کہ اُس کی سفارشات پر طویل اور قلیل مدتی پالیسیاں بنائی جائیں گی مگر یہ کام تو صوبائی حکومتوں کا ہے کہ وہ بارش اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل بنائیں،سب سے اہم کام یہ ہے کہ زائد پانی کو سٹور کرنے کا کوئی بندوبست کیا جائے جو ایک طرف تباہی نہ مچا پائے تو دوسری طرف  بوقت ِ ضرورت کام بھی آئے۔ لاہور میں گزشتہ حکومتوں نے انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینک بنانے کا کامیاب تجریہ کیا ہے جس کے اثرات سامنے آ چکے ہیں کہ لاہور کے اکثر علاقوں میں بارش کا پانی زیادہ دیر ٹھہرتا نہیں اور نیچے ذخیرہ ہو جاتا ہے،اس سے ایک طرف انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کے امکانات کم ہوئے ہیں تو دوسری طرف معمولاتِ زندگی کو رواں دواں رکھنے میں بھی مدد ملی ہے۔

کراچی میں بارشوں سے حالیہ دِنوں میں جو تباہی ہوئی ہے شہر کی کوئی سڑک سلامت نہیں رہی،لوگوں کے گھر تباہ ہو گئے ہیں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کراچی میں نکاسی ئ آب کا نظام بالکل ناکارہ ہو چکا،نالوں پر تجاوزات قائم ہو گئی ہیں اور سیوریج سسٹم بارش کے پانی کا بوجھ اٹھانے سے یکسر قاصر ہے یہی وجہ ہے کہ بارش ہوتی ہے تو پورا شہر ندی کا منظر پیش کرتا ہے سوال یہ ہے کہ کراچی میں پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے انڈر گراؤنڈ ٹینک کیوں نہیں بنائے جا سکتے،عام دِنوں میں کراچی پانی کی کمی کا شکار رہتا ہے اور عوام کو اپنی ضرورت کے لیے پانی مہنگے داموں خریدنا پڑتا ہے یہی ذخیرہ شدہ پانی بوقت ضرورت کام میں لایاجا سکتا ہے۔ وزیراعظم اگر اس حوالے سے کوئی طویل مدتی منصوبہ بنانا چاہتے ہیں تو انہیں صوبوں کی مشاورت سے بڑے شہروں میں پانی ذخیرہ کرنے  کے نظام کو فروغ دینا چاہیے،اس کا ماڈل اب لاہور میں دستیاب ہے،اس سے ایک طرف مون سون کے موسم میں اضافی پانی سے ہونے والی تباہی سے چھٹکارا مل رہا ہے تو دوسری طرف شہروں کی ضروریات کے لیے پانی بھی دستیاب ہے جہاں تک دیہی علاقوں میں سیلابی پانی سے ہونے والی تباہی کا تعلق ہے تو اس پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہمارے دریا اور نہریں کیوں سکڑ گئی ہیں،چونکہ دریا خشک رہتے ہیں،اس لیے لوگوں نے اُن میں اپنی بستیاں بنا لی ہیں۔ تجاوزات کا سلسلہ دریاؤں تک بھی پھیل گیا ہے جب بارش اور بھارت کے دریاؤں کا پانی ہمارے دریاؤں میں داخل ہوتا ہے تو یہی لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ زیادہ تر انسانی جانوں کا ضیاع بھی دریاؤں کے کناروں پر رہنے والوں کا ہوا ہے اس مسئلے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے وگرنہ ہر سال اسی قسم کے مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ سیلابی موسم میں دریا اپنی گزرگاہ سے بھی باہر امنڈ آتے ہیں اس لیے نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ہمارا ایک بڑا مسئلہ پیشگی اقدامات سے لاپرواہی بھی ہے۔اس سال محکمہ موسمیات نے معمول سے زیادہ بارشوں کی پیشگوئی کی تھی یہ الرٹ بہت پہلے جاری کر دیا گیا تھا اب یہ متعلقہ محکموں اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ وقت سے پہلے صورت حال سے نمٹنے کے لیے اقدامات اور انتظامات کریں مگر جتنا نقصان ہوا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ اس ضمن میں مناسب پیشگی انتظامات نہیں کیے گئے۔بعد میں لکیر پیٹنے کی روایت ہمارے ہاں ایک مستقل مرضی کی شکل اختیار کر گئی ہے، بارشوں اور سیلابوں کو روکنا تو ممکن نہیں مگر دیگر ممالک نے ان کے آگے بند باندھے ہیں،ہمیں پانی کی دیہی علاقوں میں بھی ضرورت ہوتی ہے اور شہری علاقوں میں بھی،اس لیے ذخیرہ کرنے کا کوئی نظام وضع کر لیا جائے تو نقصان سے بھی بچا جا سکے گا اور پانی کی ضروریات بھی پوری ہوں گی لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب ہماری حکومتیں اور ادارے ڈنگ ٹپاؤ کی بجائے مستقل نوعیت کی پالیسیاں بنائیں اور حکومتوں کی تبدیلی کا اُن پالیسیوں پر کوئی اثر نہ پڑے۔

مزید :

رائے -اداریہ -