سپریم کورٹ کے انصاف پر اٹھنے والا سوال 

  سپریم کورٹ کے انصاف پر اٹھنے والا سوال 

  

  یونانی ڈرامہ نویس، سفوکلیس نے کہا تھا:  ”کتنی خوف ناک بات ہے جب کسی منصف سے انصاف کرتے ہوئے جانچ کی غلطی ہوجائے۔“

حکومت میں شامل اہم سیاسی جماعتوں کی طرف سے قومی اہمیت کے حامل ایک کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بنچ کا بائیکاٹ عدالت کی دنیا میں کسی بھی تاریخی حوالے سے ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ خاص طور پر جب بنچ کی قیادت خود چیف جسٹس سپریم کورٹ کررہے تھے۔آخری مرتبہ ایسا قدرے چھوٹے پیمانے پر دیکھنے میں آیا جب 2002  ء میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے نظر ثانی کی ایک اپیل واپس لے لی تھی۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ عدلیہ آزاد نہیں رہی۔ سوال یہ نہیں کہ کیا پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ قانون کی نظر میں درست تھی یا غلط، بلکہ مسلہئ بنیادی نوعیت کا ہے: اہم سیاسی جماعتوں کا فیصلے کرنے والے عدالتی نظام پراعتماد اٹھ گیا۔ کیا یہ عدالتی بحران محض کیس ہارنے والوں کی وقتی تلخی ہے یا معاملہ اس سے کہیں بڑھ کرہے؟ 

غیر معمولی مختصر حکم نامہ:  سپریم کورٹ نے چھبیس جولائی 2022  ء کو  ایک مختصر حکم نامہ جاری کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو غلط اور چوہدری پرویز الہی کو قانونی طور پر منتخب شدہ وزیر اعلیٰ پنجاب قرار دے دیا۔ لیکن یہ ایک غیر معمولی مختصر حکم نامہ ہے، کیوں کہ مختصر حکم ناموں میں وجوہ کوبمشکل ہی بیان کیا جاتا ہے۔مذکورہ حکم نامے میں کچھ وجوہ جزوی طور پر بیان کی گئی ہیں۔ بنیادی دلیل یہ ہے آئین کے آرٹیکل 63-A   کی بابت دائر کیے گئے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے سترہ مئی 2022 ء کے مختصر حکم نامے کی تفہیم اور نفاذ، اور اس کے ساتھ ساتھ ڈپٹی سپیکر کا اس مخصوص آرٹیکل کا استعمال غلط تھا۔ 

بالفاظ دیگر، بجائے اس کے دیکھا جاتا کہ یہ معاملہ پیچیدہ آئینی سوالات لیے ہوئے ہے، اسے محض ”غلط تفہیم اور نفاذ“ کا ایک سادہ سا کیس سمجھ لیا گیا۔لیکن مختصر حکم نامے کا اصل زور اس بات کو ثابت کرنے پر تھا کہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کیس (پی ایل ڈی 2015سپریم کورٹ 401)”پارٹی کا فیصلہ کہ ووٹ کسے دینا ہے، کا حق پارٹی کے سربراہ کو حاصل ہے“میں جسٹس عظمت سعید کے اکثریتی ممبران کی طرف سے لکھے گئے فیصلے کو موجودہ تین رکنی بنچ اپنے لیے قانونی نظیر بنانے کا پابند نہیں جانا۔ 

یہی ایشو تنازع کی بنیاد ہے: اگر قانونی طور پر پارلیمانی پارٹی ووٹ دینے کی بابت ہدایات جاری کرنے کی مجاز ہے تو پرویز الہی فاتح ہیں، لیکن اگر یہ حق پارٹی سربراہ کا ہے تو حمزہ شہباز فاتح ہیں۔ اس ذیل میں سپریم کورٹ کے ایک لارجر بنچ کا پارٹی سربراہ کے حق میں کیا گیا فیصلہ موجود ہے، لیکن اس مختصر حکم نامے کی رو سے تین رکنی بنچ مندرجہ ذیل وجوہ کی بنیاد پر اسے قانونی نظیر بنانے کا پابند نہیں: پہلی وجہ یہ کہ اُس فیصلے میں فل کورٹ کے سترہ میں سے صرف آٹھ ججوں کی رائے اس کے حق میں تھی، جب کہ کسی فیصلے کو آئندہ فیصلوں کی نظیر بننے کے لیے سترہ میں سے کم از کم نو ججوں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ 

دوسری، ووٹ دینے کی ہدایت کے اختیار کی بابت یہ فیصلہ آرٹیکل 63-A  کے واضح مندرجات کے منافی ہے، جن کے مطابق پارلیمانی پارٹی کا سربراہ ہی ایسی ہدایات دینے کا مجاز ہے۔ الغرض، جسٹس عظمت سعید کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔ 

تیسری، یہ حقیقی فیصلہ نہیں بلکہ محض ”تبصرہ“ ہے کیوں کہ اس کیس میں آرٹیکل 63-A   کے غیر آئینی ہونے کا سوال پیش نظرتھا، نہ کہ اس آرٹیکل کے تحت ہدایت دینے کا حق کس کا ہے۔ 

آخری، موجودہ چیف جسٹس، عمرعطا بندیال جنھوں نے 2015  ء میں جسٹس عظمت سعید کے اکثریتی فیصلے کی حمایت کی تھی، نے آرٹیکل 63-A   پر کوئی رائے نہیں دی تھی۔ گویا جسٹس عمر بندیال نے 63-A   پر جسٹس عظمت سعید کے فیصلے کی حمایت نہیں کی تھی۔

غلط دلیل:  مختصر حکم نامے میں دی گئی دلیل غلط ہی نہیں، اپنے جواز سے از خود متصادم ہے۔ اس سے جواز پید اہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کے لارجربنچ کو اس کیس کی سماعت کرنی چاہیے تھی۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ مختصر حکم نامے میں بھی ساڑھے تین صفحات اس پر تحریر کیے گئے ہیں کہ جسٹس عظمت سعید کا اکثریتی فیصلہ کیوں اس کے لیے قانونی نظیر نہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ کوئی سیدھا سادا آسان معاملہ نہیں تھا بلکہ اس حوالے سے پیچیدہ عدالتی مثالوں کی تاریخ اس کے سامنے تھی۔ چنانچہ اس مسئلے کے حل کے لیے کم از کم نو ججوں پر مشتمل لارجر بنچ تشکیل پاناچاہیے تھا۔ 

دوسری یہ کہ اگر جسٹس عظمت سعید کا فیصلہ، کہ آرٹیکل 63-A   پارٹی سربراہ کو اختیار دیتا ہے کہ وہ اعتماد کے ووٹ پر اراکین کو ہدایت دے، آرٹیکل 63-A(1)(b)  کے واضح الفاظ کے ساتھ متصادم تھا جس میں ”پارلیمانی پارٹی“ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، تو پھر اسی منطق کی رو سے سپریم کورٹ کے انہی تینوں ججوں کا سترہ مئی 2022  ء کو سنائے گئے اکثریتی فیصلے کا مختصر حکم نامہ بھی آئین سے متصادم ہے کیوں کہ اس میں ووٹ نہ گننے کی شرط آرٹیکل 63-A   کے پیرائے میں پڑھی گئی جب کہ آئین میں یہ الفاظ موجود ہی نہیں۔ دوسرے الفاط میں آئین کی تشریح کرتے ہوئے بے ربط اور ناقص سوچ کارفرما دکھائی دی۔ 

تیسرا، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کیس کے فیصلے کے پیرا نمبر ایک میں جسٹس بندیال نے مندرجہ ذیل دوٹوک الفاظ میں جسٹس عظمت سعید کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”پورے حترام کے ساتھ میں متعلقہ حقائق کی تعریف اور مذکورہ بالا رائے میں بیان کردہ تمام نکات پر دیے گئے فیصلے کو برقرار رکھنے کی بنیاد اور وجوہات سے متفق ہوں۔“

یقینا،اگر اب کوئی جج مختلف قانونی تشریح کرنا چاہتا ہے، تو اس سے بذات خود پتا چلتا ہے کہ یہ کیس آئینی اعتبار سے پیچیدہ نوعیت کاحامل ہے۔ مختصر یہ کہ اس کیس کی سماعت چھوٹے تین ججوں کے بنچ کی بجائے سپریم کورٹ کے کم از کم نو سینئر ترین ممبران پر مشتمل ایک لارجر بنچ کو کرنی چاہئے تھی کیونکہ یہ محض ”تفہیم اور نفاذ“ کا نہیں بلکہ آئینی تشریح کا پیچیدہ معاملہ تھا جس میں مبینہ طور پر غلط نظیریں شامل ہیں۔ اور نظر آرہا تھا کہ یہ مقدمہ آئینی اور سیاسی طور پر دور رس اثرات مرتب کرے گا۔ 

یہ غیر متعلقہ ہے کہ آیا مختصر حکم نامے میں نکالے گئے نتائج درست ہیں یا نہیں۔ ہارنے والا فریق اپنے خلاف عدالتی فیصلے کو صرف اسی صورت میں قبول کرے گا جب اسے ایک منصفانہ، شفاف اور قانونی طور پر درست عمل کا نتیجہ سمجھا جائے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس عدالتی بحران کی جڑ غلط عدالتی انتخاب میں پیوست ہے جہاں کیس کا جلد از جلد فیصلہ کرنے کو عدالتی عمل کے منصفانہ اور شفاف ہونے پر ترجیح دی گئی۔ 

مزید :

رائے -کالم -