ملک بھر میں مون سون بارشیں جاری، لسبیلہ میں مزید 7لاشیں برآمد، ساہیوال میں چھت گرنے سے 4خواتین جاں بحق، 7افراد زخمی 

ملک بھر میں مون سون بارشیں جاری، لسبیلہ میں مزید 7لاشیں برآمد، ساہیوال میں ...

  

       لاہور، راجن پور،کراچی ر(جنرل رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)مون سون بارشوں کا  جمعہ کے روز بھی جاری رہا، لاہور سمیت گردنواح میں تیز بارش نے جھل تھل ایک کر دیا جس کے بعد شہر دریا کا منظار پیش کرنے لگا سڑکوں پر موجود شہری محفوظ مقامات کی تلاش میں پھرتے رہے، لاہور کے مختلف علاقوں میں موسلادھابارش سے موسم سہانا ہوگیا،واسا کا عملہ شہر کے مختلف مقامات سے نکاسی آپ کے لئے دن بھر متحرک رہنے کے باوجود پانی کی نکاسی کو بہتر نا بنا سکا۔شہر بھر کی مین شہراہوں سمیت سڑکیں تالاب بن گئیں جبکہ محکمہ موسمیات نے ملک کے بیشتر اضلاع میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کردی۔،،دھرم پورہ،مغلپورہ،باغبانپورہ،فتح گڑھ،شالیمار،غازی آباد،لال پل،فتح گڑھ،ہربنس پورہ،لکشمی چوک،گڑھی شاہو،شملہ پہاڑی،ڈیوس روڈ،ہائیکورٹ،سول سیکرٹریٹ،ضلع کچہری،ریگل چوک کے اطراف بارش ہوئی، محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔علاوہ ازیں ملک کے بیشتر شہروں میں بادل برسنے کا امکان ہے،پنجاب کے بیشتر اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کی توقع ہے، خطہ پوٹھوہار،گجرات، سیالکوٹ، نارروال،قصور، گوجرانوالہ، سرگودھا اورفیصل آباد میں چند مقا مات پر مطلع ابرآلود رہنے تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ،سیالکوٹ، مانسہرہ، ایبٹ آباد،ہری پور کے مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔دریں اثناراجن پور، روجھان اور تونسہ میں سیلاب سے تباہی،نواحی علاقے بستیاں زیر آب، متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔بارشوں کے باعث 27 ہزار 860 ایکڑ پر کاشت فصلیں متاثر ہو گئیں، راجن پور کے سیلاب زدہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے کی سفارش، آبیانہ، زرعی انکم ٹیکس سمیت سرکاری واجبات اور قرض معاف کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔دوسری جانب لسبیلہ میں بھی سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، سیکڑوں مکانات تباہ ہو چکے ہیں، چوبیس گھنٹے کے دوران مزید 7 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں۔اوتھل کھانٹا ندی اور لنڈا ندی سے قومی شاہراہ کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے جبکہ پاک فوج کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔جنوبی وزیرستان کے سیلابی ریلوں نے بھی ٹانک میں تباہی مچادی، مزید 2 افراد جاں بحق، 5 زخمی ہوئے ہیں، قمبر شہداد کوٹ میں بھی پانی سیلابی بند سے ٹکرا گیا، شہروں کا زمینی رابطہ ٹوٹ گیا۔ادھر دریائے چناب کے ملحقہ علاقوں میں سیلاب کا خدشہ، اکھنور کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہو گئی، مرالہ، خانکی، قادر آباد کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین،حافظ آباد، چنیوٹ، جھنگ، سرگودھا اور مظفر گڑھ کیعلاقے متاثر ہوسکتے ہیں۔پی ڈی ایم اے نے ممکنہ سیلاب کے پیش نظر ہائی لیول الرٹ جاری کردیا جبکہ انتظامیہ نے نشیبی علاقوں میں بسنے والوں کو انخلا کا حکم دے دیا۔ملک بھر کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا، چار فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے 1.3 ٹن راشن، ادویات اور دیگر امدادی سامان متاثرہ علاقوں میں پہنچایا گیا، کوئٹہ اور کراچی کو ملانے والی این 25 اور شاہراہ قراقرم کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ا?ئی ایس پی ا?ر) کے مطابق بلوچستان کے 29 اضلاع حالیہ بارشوں اور سیلاب سے نقصان پہنچا، جہاں پاک فوج کا ریلیف ا?پریشن جاری ہے، اوتھل میں 4 دیہات کے 2300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، پی ٹی اے کے تعاون سے بلوچستان کے بیشتر علاقوں بالخصوص لسبیلہ میں مواصلاتی نظام بحال کردیا گیا۔آئی ایس پی ٓر کے مطابق سیلاب متاثرہ علاقوں حب، گڈانی، بیلہ، دودر اور جھل مگسی میں بھی 5 میڈیکل کیمپ قائم کئے گئے ہیں، فوج کی ڈی واٹرنگ ٹیموں نے گوادر کے علاقے کو کلیئر کردیا ہے جبکہ گھور میں بند کوسٹل ہائی وے کو ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے، خیبرپختونخوا، سندھ اور گلگت بلتستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھی پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ یہ وقت سیاسی دکانداری چمکانے کا نہیں بلکہ ہم وطنوں کے ساتھ کھڑا ہونے کا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان میں بارشوں کے باعث جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس کیا  اور انتظامیہ کو متاثرین کی ہر ممکن امداد یقینی بنانے کی ہدایت کی، انہوں نے کہا کہ بارشوں کے باعث بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وہ بلوچستان کے  متاثرہ  لوگوں  کو مشکل گھڑی میں اکیلا نہیں چھوڑیں گے، متاثرین کی امداد،بحالی اور موسمیاتی تبدیلوں پر قابو پانا ترجیحات میں شامل ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ وقت سیاسی دکانداری چمکانے کا نہیں بلکہ  ہم وطنوں کے ساتھ کھڑا ہونے کا ہے۔

بارش

 ساہیوال (بیورورپورٹ،ڈسٹرکٹ رپورٹر) ساہیوال کے علاقہ نائن ایل عارفوالہ روڈ پر  بارش کے باعث چھت گرنے سے 4خواتین جاں بحق،7سے زائد افراد زخمی۔ریسکیو 1122کی ٹیموں نے زخمیوں کو ملبے تلے سے نکال کر ہسپتال منتقل کیا جہاں 40سالہ زرینہ،15سالہ عائشہ،32سالہ ریاض بی بی اور65سالہ بی بی رانی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔مجیداں بی بی،نسیم بی بی،لال بی بی،پروین اختر،رابعہ شاہین،،صائمہ،عمیرا بی بی، ظہیر سلمان،اکرام،محمد احمد،فیصل،احتشام کا علاج معالجہ جاری ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق 6زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔حادثہ کے بعد علاقہ بھر کی فضا سوگوار ہو گئی اور لوگ بڑی تعداد میں ہسپتال پہنچ گئے۔دریں اثناء کمشنر ساہیوال ڈویژن سلوت سعید نے ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کا دورہ کیا اور چک نمبر 102/9L میں چھت گرنے کے حادثے میں زخمیوں ہونے والوں کی عیادت کی۔ ڈپٹی کمشنر محمد خضر افضال چوہدری بھی ہمراہ تھے۔ انہوں نے افسوسناک حادثے پر دکھ کا اظہار کیا اورڈیوٹی ڈاکٹروں کو ہدایت کی کہ زخمیوں کوعلاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں اور مکمل صحت یابی تک زخمیوں کو زیر علاج رکھا جائے۔

مزید :

صفحہ اول -