مستحکم معیشت سے جغرافیائی و نظریاتی سرحدیں مضبوط بن سکتی ہیں،مہرکاشف

مستحکم معیشت سے جغرافیائی و نظریاتی سرحدیں مضبوط بن سکتی ہیں،مہرکاشف

  

لاہور(سٹی رپورٹر) سابق سینئر نائب صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، اعزازی کوآرڈی نیٹر وفاقی محتسب مہر کاشف یونس نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کی پانچ حساس ترین معیشت کے دہانے پر آگیا ہے۔ معاشی انفراسٹرکچر دیوالیہ ہونے کے قریب ترین پہنچ چکا ہے۔ دنیا میں کئی ترقی پذیر ممالک ایسے بحران میں پھنسے مگر محنت اور جذبے سے حالات کو شکست دے کر نکلے۔ ہمیں قومی ترقی کی سوچ اپنا کر سخت محنت اور ایمانداری سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی استحکام سازگار سماجی حالات سرکاری انفراسٹرکچر اور اکنامک اسٹرکچر کو مستحکم بنائے گا۔ غیر یقینی کی صورتحال سے کاروبار کرنے والے صنعت کار بزنس مین شدید خوفزدہ ہے۔ مختصر، درمیانے اور طویل المدتی میثاق معیشت بناکر پالیسی سازی کی جائے۔ اقتصادی سیاسی و سرکاری پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی مرتب کی جائے۔ فوڈ سیکورٹی، انرجی سیکورٹی، بارڈر سیکورٹی اور عدل و انصاف پاکستان کو آگے لے کر جائے گا۔ اکانومی مستحکم ہونے سے ذرائع آمدن بڑھیں گے جنہیں جدید اکنامک نیٹ ورکنگ سے بزنس سیکٹر کے مزید  موثر نتائج مرتب ہونگے۔ معیشت مستحکم ہونے سے ہی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے ۔ بحران زدہ حالات کے تسلسل میں ملکی معیشت وینٹی لیٹر پر مصنوعی سانسوں سے بھی چل نہیں سکے گی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -