عدلیہ کے فیصلے انصاف پر مبنی ہوتے تو آج کوئی انگلی نہ اٹھاتا،سعد رضوی

عدلیہ کے فیصلے انصاف پر مبنی ہوتے تو آج کوئی انگلی نہ اٹھاتا،سعد رضوی

  

لاہور(جنرل رپورٹر) عدلیہ کے فیصلے انصاف پر مبنی ہوتے تو آج کسی کی جرات نہ ہوتی کہ وہ عدلیہ کے خلاف بات کرتا۔ عدلیہ کے کمزور فیصلوں نے تنقیدکا جواز پیدا کیا۔ من پسند فیصلوں کے بجائے انصاف کے تقاضے پورے کیے ہوتے تو آج حالات یکسر تبدیل ہوتے کمز وریوں کی نشاندہی اور تدراک کے لیے سب کو کردار ادا کرنا چاہیے ان خیالات کا اظہار امیر ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی نے مرکزی رہنما مفتی عمیر الازھری سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اْن کا مزید کہنا تھاکہ عدلیہ کا احترام لازم ہے لیکن ججز خود کو بھی آئین و قانون کا پابند سمجھیں۔عدلیہ کے فیصلوں نے عدلیہ کا گراف کمزور کیا ہے۔عدلیہ کو فیصلے نظریہ ضرورت کے مطابق نہیں بلکہ حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔پاکستان کی فلاح و بہبود ترقی اور خوشحالی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ ملک میں جاری معاشی بد حالی سمیت کسی بھی بحران کا خاتمہ کرنے کی پوری سکت رکھتے ہیں۔ 

غریب کا پیسہ لوٹنے اور آئین پر وار کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے سخت فیصلوں کی ضرورت ہے۔ سعد حسین رضوی نے کہا کہ معاشی بحران کے بعد ملک میں آئینی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ادارے اگر اپنی حدود میں رہ کر کام کرتے تو آج ملک میں یہ حالات نہ ہوتے۔اداروں کی آڑ میں چھپے ہوئے چہروں کو اگر سیاست کا اتنا ہی شوق ہے تو نوکریاں چھوڑ کر عوام میں آئیں۔آج ملک میں جو حالات پیدا کیے گئے ہیں اْن کی ذمہ دار اسٹبلیشمنٹ سمیت موجودہ اور سابقہ تمام حکمران ہیں۔ غریب دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں۔ ہمارے سیاستدان اقتدار کی لوٹ مار کے لیے سرگرم ہیں۔اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے ملک بھر کے اندر بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ذمہ داران اورکارکنا ن کی طرف سے امدادی سرگرمیوں پر بھی گفتگو کی۔ مفتی عمیر الازھری نے ملک بھر میں جاری امدادی سرگرمیوں کے بارے میں مکمل بریف کیااور آئندہ کی حکمت عملی بھی بتائی۔ حافظ سعد حسین رضوی نے ذمہ داران اور کارکنان کو بارشوں اور سیلاب سے متا ثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کا حکم صادر کیا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -