کراچی:داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کا اجلاس

کراچی:داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کا اجلاس

  

کراچی (سٹاف رپورٹر)داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی اکیڈمک کونسل کا 17 واں اجلاس گزشتہ روز جامعہ کے کانفرنس روم میں  وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی کی زیر صدارت منعقد کیا گیا جس میں گزشتہ اجلاس کے منٹس کی توثیق کی گئی۔ اکیڈمک کونسل نے یونیورسٹی کے نئے سیشن برائے 2022-23ء میں بیچلر آف سائنس (بی ایس) میں تین نئے پروگرامز شروع کرنے کی منظوری دی۔ جامعہ داؤد انجینئرنگ کے 4سالہ ڈگری پروگرام بیچلر آف سائنس میں پہلی بار بزنس انفارمیشن سسٹم، انوائرمنٹل سائنسز اور کیمسٹری میں داخلے دیئے جائیں گے۔ تینوں پروگرامز کیلئے مجموعی داخلہ سیٹوں میں 200 نشستوں کا اضافہ بھی کیا گیا۔ مذکورہ پروگرامز کی تجویز بورڈ آف اسٹڈیز کے 8ویں، 9ویں اور 10ویں اجلاسوں میں مذکورہ پروگرامز کی تجویز دی گئی جس کی توثیق بورڈ آف فیکلٹی کے 8ویں اجلاس منعقدہ 19جولائی 2022ء میں کردی گئی تھی۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال آرٹیفشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) اور سائبر سیکورٹی کے بی ایس پروگرامز میں داخلے دیئے گئے تھے اور دونوں پروگرامز کیلئے 50، 50 سیٹیں رکھی گئی تھیں جو انتہائی کامیابی سے ہمکنار رہے، اس لئے نشستوں میں 100فیصد اضافہ کرکے دونوں پروگرامز کیلئے 100، 100 نشستیں کردی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں اکیڈمک کونسل نے شعبہ کمپیوٹر سسٹم انجینئرنگ کے تحت آرٹیفشل انٹیلی جنس میں ایم ایس پروگرام اور شعبہ کیمیکل انجینئرنگ کے تحت ’فوڈ ٹیکنالوجی‘ میں 4سالہ بی ایس پروگرام شروع کرنے کیلئے اسٹڈی اسکیم پر غور و خوض کیا۔ اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالوحید بھٹو، رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر سید آصف علی شاہ، ڈین فیکلٹی آف انجینئرنگ ڈاکٹر ذیشان میمن، ڈین فیکلٹی آف انفارمیشن سائنسز اینڈ ہیومنٹیز ڈاکٹر غلام عباس کاندھڑو، سابق وائس چانسلر مہران انجینئرنگ یونیورسٹی اے آر میمن، محکمہ کالج ایجوکیشن کے نمائندے فقیر محمد لاکھو اور یونیورسٹی کے تمام شعبوں کے چیئرپرسنز نے اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے کہا کہ گزشتہ سال آرٹیفشل انٹیلی جنس اور سائبر سیکورٹی میں شروع کئے گئے بی ایس پروگرامز انتہائی کامیاب رہے جن کی نشستوں میں  100فیصد اضافہ اور 3 نئے پروگرامز کاآغاز داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کے استحکام اور ترقی کی مثال ہے، ہمارا مقصد تعلیمی اداروں اور انڈسٹری کے درمیان فاصلوں کو ختم کرنا ہے اس لئے مارکیٹ میں رجحان رکھنے والے جدید کورسز متعارف کئے جارہے ہیں، یونیورسٹی کے امور خوش اسلوبی سے چلانے کیلئے حکومت گرانٹ سے ہٹ کر خود انحصاری کے عزم اور مشن پر گامزن ہیں  ، مجموعی اخراجات میں پہلے یونیورسٹی کے اپنے وسائل کا شیئر 10فیصد تھا جو بڑھ کر 32فیصد ہوچکا ہے اور آئندہ سال اسے 40فیصد تک لے جانے کا عزم ہے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -