بارشیں‘ بلوچستان کی صورتحال تشویشناک ہے،دردانہ صدیقی 

بارشیں‘ بلوچستان کی صورتحال تشویشناک ہے،دردانہ صدیقی 

  

پشاور(سٹی رپورٹر)بلوچستان حکومت عوام اور شہریوں کا احساس کرے عوام چاروں طرف سے پانی میں گھرے ہیں۔انسانی لاشیں کھلے آسمان تلے بییارومددگار پڑی ہیں۔کھانے پینے کا سامان مویشی پانی کی نذر ہوچکے ہیں۔بعض علاقوں میں صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے متاثرین کی امداد اور صورتحال جاننے کے لئے ہیلی کاپٹر سروس فوری متحرک کی جائے اور انہیں پانی سے نکال کر محفوظ مقام پر پہنچایا جائے۔ان خیالات کا اظہار سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان دردانہ صدیقی، ناظمہ صوبہ خیبر پختو نخوا بلقیس مراد اور ناظمہ ضلع پشاور نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔ انہوں نیکہا کہ بلوچستان حکومت کے پاس وسائل کم ہیں تووفاق سے فوری طور پر وسائل حاصل کئے جائیں۔عوام کو بییارو مددگار نہ چھوڑا جائے۔حکومتی سطح سے ڈزاسٹر مینجمنٹ کا شعبہ متحرک ہو اور عوام کو ریسکیو کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہنگامی صورتحال میں صوبائی اور وفاقی حکومت کی زمہ داری ہے کہ بارش سے متاثرہ علاقوں میں عوام کو امداد مہیا کرے۔لیکن افسوس ہمارے حکمران اور ادارے بھی سیاست کے جوڑ توڑ میں تو بہت تیزی دکھاتے ہیں اور مال خرچ کرتے ہیں لیکن عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے انکے پاس وسائل نہیں ہوتے۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان سمیت ملک بھر بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا ڈیٹا جمع کیا جائے اور متاثرین کی امدادی کاروائیوں کو موثر اور فعال بنایا جائے۔دردانہ صدیقی نے کہا کہ الخدمت سمیت دیگر این جی اوز محدود وسائل کے باوجود امدادی کام انجام دے رہی ہے لیکن جو کام بڑے پیمانے پر حکومتوں کے کرنے کا ہے اسے حکومتی سطح سے ہی انجام دیا جاسکتا ہے۔ حلقہ خواتین جماعت اسلامی کی قیادت نے دیر کی قومی شاہراہ جو پانچ اضلاع (لوئردیر، اپردیر، لوئرچترال، اپر چترال اورباجوڑ)کی رابطہ سڑک ہے پر تالاش اورشمسی خان کیمقام پربرساتی نالے کیاوپر پل کی تعمیر میں ہونیوالی تاخیر کو بھی اس حکومت کی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کہا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -