کھیلوں کا فروغ کھلاڑیوں کی عزت سے مشروط ہے: کرم خان 

  کھیلوں کا فروغ کھلاڑیوں کی عزت سے مشروط ہے: کرم خان 

  

       پشاور (سٹی رپورٹر)کرم جیم کے کوچ کرم خان نے کہا کہ جب تک کھلاڑیوں کو عزت نہیں دی جائے گی صوبے میں کھیلوں کا فروغ ناممکن ہے کیونکہ کھیل آباد ہی کھلاڑیوں کے دم سے ہیں جو نیئر مسٹر سرحد،جونیئر مسٹر پشاور، نیشنل گیمز گولڈ میڈل،مسٹر پاکستان گولڈ میڈل سمیت چھ سے زائد مقابلوں کے ونر کرم خان نے ایک بیان میں کہاکہ تن سازی مقابلے جیتنے کیلئے کم از کم 4سے 5 لاکھ روپیہ خرچ ہوتا ہے جو کہ بغیر کسی اسپانسر کے اپنی جیب سے برداشت کرنا پڑتا ہے تن سازی مقابلے جیتنے کیلئے مختلف مقابلوں میں 20لاکھ سے زائد خرچ کئے مقابلوں کی تیاری کیلئے خیبرپختونخوا باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن جنرل سیکرٹری طارق پرویز نے حکومت کی جانب سے ملنے والے فنڈز میں سے آج تک ایک روپیہ بھی ہمیں نہیں دیا اوراس سے زیادہ زیادتی یہ ہمارے ساتھ ہوئی کہ کسی بھی سرکاری ادارے میں نوکری کیلئے بات تک نہیں کی پشاور میں کھیلوں کی ترویج کیلئے جیم کھول کر کئی جوان کھلاڑیوں کو بھی تیار کیا تاہم مقابلوں کے بارے میں ایسو سی ایشن نے کبھی بھی نہ ہی اطلاع دینا گوارا کی اورنہ ہی کوئی ایونٹ شیڈول کا پوسٹر بھیجا۔انہوں نے کہا کہ2019میں اپنا روزگار چھوڑ کر مقابلوں کی تیار ی کی لیکن جب نوکری کی بار آئی تو میری جگہ کسی اور چہیتے کی سفارش کرکے اسے نوکری دی گئی انہوں نے کہا کہ صوبے میں باڈی بلڈنگ تب ہی فروغ پاسکتی ہے جب اس میں شفاف طریقے سے انتخابات کراکر پروفیشنل لوگوں کو منتخب کیا جائے نہ کہ یہ نام نہاد کھلاڑیوں کا مال ہڑپ کرنے والوں کوجو پچھلے 23سال سے تن سازوں کاحق مار رہے ہیں۔انہوں نے وزیر کھیل اور متعلقہ حکام سے باڈی بلڈنگ کے فروغ میں کردار ادا کرنے اور تن سازوں کا مال ہڑپنے والوں کو بے نقاب کرکے سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -