متاثرین کیلئے امدادی سرگرمیاں تیز کرنیکا حکم، ریلیف آپریشن شروع 

متاثرین کیلئے امدادی سرگرمیاں تیز کرنیکا حکم، ریلیف آپریشن شروع 

  

ڈیرہ غازیخان(سٹی رپورٹر) کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلہ پر کی روز سے موسلادھار بارش کے بعد سیلابی دروں کاہا سلطان، چھاچھڑ، سوری شمالی، سوری جنوبی اور بگا کھوسڑا(بقیہ نمبر1صفحہ6پر)

 سے آنے والے مجموعی طور پر ایک لاکھ کیوسک پانی نے راجن پور کے زمینی علاقوں لنڈی سیدان، لال گڑھ، چک شہید، چک زہرانی. فتح پور، محمد پور گم والا، آسنی، اوزمان، شاہ والی اور چک صفدر آباد میں تیار فصلات کپاس اور دیگر غذائی اجناس کو تباہ کر کے رکھ دیا راجن پور میں زیادہ تباہی سیم نالوں میں پڑنے والے شگافوں کے باعث ہوی سیم نالے حکومت پنجاب کی جانب سے سیلابی پانی کو دریائے سندھ تک پہنچانے کے لیے تعمیر کیے گئے تھے جو سیلابی پانی کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوے حالیہ سیلاب میں ماں بچیوں سمیت 6 افراد جاں بحق ہوے ڈپٹی کمشنر نے حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے اعداد و شمار سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب و ریلیف کمشنر کو ارسال کرتے ہوئے سیلاب زدہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے کے سفارش کی ہے سیلاب سے ڈھائی لاکھ ایکڑ زیر آب، ستائیس ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلات تباہ جبکہ ایک ہزار چھیتر افراد متاثر ہوئے سیلاب متاثرین پانی خشک ہونے کے انتظار میں ہیں تاکہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں اور بچی کچھی فصلات کی اب یاری کرسکیں۔

کوٹ چھٹہ،سرائے سدھو،ڈیرہ غازیخان، راجن پور (نمائندہ پاکستان،سٹی رپورٹر، نامہ نگار، ڈسٹرکٹ رپورٹر، تحصیل رپورٹر، نمائندہ خصوصی) وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے ہدایت کی ہے کہ ڈیرہ غازیخان راجن (بقیہ نمبر21صفحہ6پر)

پور، روجھان اور تونسہ میں سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سرگرمیاں مزید تیز کی جائیں اورسیلاب متاثرین کو ریلیف کی فراہمی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کے کھانے پینے اور دیگر ضروریات کا مکمل خیال رکھا جائے، انتظامیہ ریلیف کیمپوں میں متاثرین کو ہرممکن سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کیلئے متعلقہ ادارے کمربستہ ہو جائیں،متاثرہ دیہات میں امدادی کیمپوں میں تمام ضروری اشیاء وافر مقدار میں موجود ہونی چاہئیں،  وزیر اعلی پنجاب نے متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس بھی لگانے کی ہدایت کی انہوں نے کہاکہ متاثرہونے والے دیہات کے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، متاثرہ افراد کو ریلیف کی فراہمی اولین ترجیح ہے. کمشنر ڈیرہ غازیخان ڈویژن عثمان انور نے کہا ہے کہ سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی بین الصوبائی شاہراہ کو مرمت کر کے ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھول دیا ہے. پل قمبر کے نزدیک متاثر ہونے والی انڈس ہائی وے پر خیبرپختونخواہ سے سندھ اور دیگر صوبوں کو جانے والی ٹریفک کی روانی بحال کر دی گئی ہے. انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کی ہدایت پر ڈیرہ غازیخان اور راجن پور کے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں. سندھ اور چناب کے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کی رپورٹ پر بھی متعلقہ انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر د یا ہے. محکمے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پیشگی و حفاظتی اقدامات کررہے ہیں. کمشنر نے کہاکہ رودکوہیوں کے سیلاب کے نقصانات کا سروے شروع کرادیا ہے،تخمینہ لگا کر نقصانات کا ازالہ کرایا جائیگاپٹرولنگ پولیس ڈیرہ غازیخان ریجن کی طرف سے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں جاری ہیں. ایڈیشنل آئی جی پٹرولنگ یاض نذیر گارا، ڈی آئی جی پٹرولنگ سرفراز احمد فلکی اور ایس پی پٹرولنگ ڈیرہ غازیخان ریجن چوہدری محمد شریف کی ہدایات کے مطابق پٹرولنگ فورس کے جوان لوگوں کو ریلیف دینے کیلئے شب و روز سرگرم عمل ہیں. پی آر او ممتاز حسین اے ایس آئی نے بتایا کہ بستی احمدانی اور چوکی والا کے مقام پر آنے والے رودکوہی سیلابی ریلے کی وجہ سے سینکڑوں بستیاں زیر آب آ گئیں جس سے کافی علاقائی لوگ متاثر اور بے گھر ہو گئے  اور انہوں نے انڈس ہائی وے کے کنارے خیمے لگا کر پناہ لی ہوئی ہے، اب وہ لوگ بغیر گھر اور چھت کے دھوپ اور بارش میں رہنے پر مجبور ہیں، پٹرولنگ پولیس کی ٹیموں نے لوگوں اور ان کے قیمتی مویشیوں اور سامان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لئے کشتی بھی مہیا کی ہوئی ہے اور ساتھ ہی اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں میں کھانا اور پانی تقسیم کر رہے ہیں اور بیمار لوگوں کے لئے ادویات کا انتظام بھی کیا جا رہاہے. پی آر او نے مزید بتایا کہ ریلیف کے کاموں میں ضلعی انتظامیہ اوردیگر محکموں کے ساتھ بھی معاونت جاری ہے. ممتاز حسین سب انسپکٹر نے بتایا کہ کسی بھی پریشانی کی صورت میں پٹرولنگ پولیس کی ہیلپ لائن 1124  پر رابطہ کریں پٹرولنگ پولیس 24 گھنٹے عوام کی خدمت کے لئے ہائی ویز پر موجود ہے. ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122ڈیرہ غازیخان ڈاکٹر نیئر عالم نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں اور رودکوہیوں کے سیلاب سے متاثرہ پل قمبر، بستی احمدانی، بستی لاشاری، زندہ پیر موڑ، چوکی والا، مکول اور انڈس ہائی وے کے علاقوں میں 112 ریسکیورز چودہ کشتیوں کے ساتھ ریلیف آپریشن کر رہے ہیں. انہوں نے بتایاکہ اب تک سیلاب میں گھرے 972افراد کو ریسکیو کیاگیا 4033افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیاگیا اسی طرح 35 مویشیوں کو بھی ریسکیو کیاگیا 144 افراد کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی. انہوں نے بتایاکہ ریسکیو ریلیف آپریشن جاری ہے اور ریجنل ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر ناطق حیات براہ راست نگرانی کر رہے ہیں.ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار کی زیر نگرانی ڈیرہ غازی خان میں بارشوں اور رودکوہیوں کی تباہ کاریوں کے بعد کے ریلیف کے کام بھرپور طریقے سے جاری ہیں،پانی کی نکاسی کے بعد ریلیف کیمپس میں رہائش پذیر لوگوں کی اپنے علاقوں میں واپسی کا عمل بھی جاری ہے،مکانوں کے منہدم ہونے کے بعد اب ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرین کو خیمے بھی فراہم کئے جارہے ہیں،وبائی امراض سے نمٹنے کیلئے بنیادی مراکز صحت،ہسپتالوں میں ادویات  وافر تعداد موجود ہیں جب کہ موبائل ہیلتھ وین مختلف علاقوں میں لوگوں کا طبی معائنہ بھی کررہی ہے، لوگوں کو ریلیف دینے کیلئے لوکل گورنمنٹ،ہیلتھ،سول ڈیفنس،ریسکیو1122،سوشل ویلفیئر،آبپاشی،لائیو سٹاک اور دیگر محکموں کے افسران اور سٹاف دن رات اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے انجام دے رہے ہیں،ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل سیف الرحمن بلوانی نے تونسہ،بستی احمدانی،پل قمبر،پردان شرقی ودیگر دور دراز کے علاقوں میں ریلیف کیمپوں کا دورہ کیا،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے  سیف الرحمن بلوانی نے کہا کہ کہ قدرتی آفات سے  نبردآزما ہونے کیلئے ہمت و حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے،ہمارے لوگوں نے مشکل حالات میں انتظامیہ کے کے ساتھ بھرپور تعاون کیا،ہماری اجتماعی محنت رنگ لائی ہے اور ہم نے اچھے طریقے سے اس آفت سے جان چھڑائی ہے،اب ہم ریلیف کے کاموں میں مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گے،انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دنوں میں سرکاری مشینری مکمل طور پر متحرک رہی ہے، ہم ریلیف کے کاموں اور نقصانات کے سروے میں بھی اپنے فرائض شفاف طریقہ سے انجام دیں گے۔ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ محمد احمد ظفر،ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ذکاء الدین اور ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر نظام الدین نے بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اپنے سٹا ف کے کام کو چیک کیا۔علاوہ ازیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جانوروں کو وبائی امراض سے بچانے کے لئے ویکسی نیشن کا عمل بھی جاری ہے اور اب تک ہزاروں کی تعداد میں مویشیوں کو حفاظتی ٹیکہ جات لگائے جا چکے ہیں۔سیلاب کی صورتحال ریسکیو 1122 نے ضلع بھر میں لوگوں کی ہیلپ کے لئے 5 واٹر ریسکیو پوائنٹ بنائے ہوئے ہیں.واٹر ریسکیو پوائنٹ قطب پل فاضل پور، بستی جوئیہ موضع کِن، حمید آباد روجھان، ستارا پمپ بنگلہ ہدایت اور مرغائی ٹاور کے مقام پر قائم کئے ہوئے ہیں.ریسکیو 1122 نے اب تک 1550 لوگوں کو جن میں مرد،خواتین،بچے اور بوڑھے شامل ہیں واٹر ریسکیو کیا ہے. ریسکیو 1122 نے 2364 لوگوں کو ٹرانسپورٹیشن کی سہولت بھی فراہم کی ہے جس میں مقامی لوگوں راشن اور دوائیاں وغیرہ سیلاب میں پھنسے لوگوں تک پہنچانے کے لیے اندر لے جا رہے ہیں اور واپس آ رہے ہیں.پانی کا لیول حاجی پور سائیڈ پر کم ہو رہا ہے جبکہ مرغائی اور روجھان والی سائیڈ پر پانی کے لیول میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے. ریسکیو 1122 کا عملہ کشتیوں سمیت سیلاب زدہ علاقوں میں موجود ہیں اور لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں معمول سے زیادہ بارشوں کی وجہ سے پہاڑی ندی نالوں میں شدید طغیانی آئی ہے۔25جولائی سے اب تک 400فیصد بارش ہوچکی ہے رود کوہی سنگھڑ،تونسہ، درہ ٹرائیبل ایریا، مٹھاون، وڈور، سخی سرور، رونھگن، سوڑا ٹرائبل ایریا (ڈیرہ غازی خان)کاہا سلطان راجن پور  و دیگر  ندیوں میں شدید طغیانی آئی ہے۔پہاڑی ندی نالوں کے پانی نے وہوا، احمدانی، سوکڑ، منگڑوٹھہ، تونسہ کی یونین کونسلشادن لنڈ،کالا، چھابری زیریں، وڈور، پائیگاں،لوہار والا،چٹ سرکانی، گدائی غربی، درخواست جمال خان جنوبی،شمالی ڈیرہ غازی خان کی یونین کونسلپہاڑی ندی نالوں کے پانی متاثر ہوئیں۔سرکاری فراہم کی گئیں معلومات کے مطابق (ڈپٹی کمشنر)ڈیرہ غازی خان کی ایک لاکھ ایکڑ اراضی زیر آب آچکی ہے۔ شدید طغیانی کی وڈیرہ غازی خان کے 150مواضعات کی تین سو کے قریب بستیاں متاثر ہوئی ہیں۔ ایمرجنسی 1122 ریسکیو کے مطابق سیلابی پانی سے 10 افراد جاں بحق جن میں چار بچے دو خواتین بھی شامل ہیں۔اموات اس سے کہیں زیادہ بتائی جارہی ہیں،جبکہ سیکنڑوں مال مویشی بھی ہلاک۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ ایکڑ رقبہ سیلابی پانی سے زیر آب آگیا جبکہ 50 ہزار ایکڑ رقبہ پر کھڑی فصلیں تباہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ سرکاری جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ڈسٹرکٹ ڈیرہ غازی خان کی ایک لاکھ آبادی متاثر ہوئی جبکہ مقامی ذرائع سے اکھٹی کی گئی معلومات کے مطابق رود کوہی کے سیلاب اس سے بھی زائد کی آبادی متاثر ہوئی ہے۔ ڈسٹرکٹ ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ، کوٹ چھٹہ اور ڈیرہ غازی خان میں دو سے پانچ ہزار کے قریب گھرانوں (مکانات) کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں (سرکاری طور پر اعداد و شمار دستیاب نہیں) جن میں آدھے سے زیادہ مکمل تباہ ہوگئے۔ ان میں کچے مکان 90 فیصد ہیں ڈپٹی کمشنر محمد عثمان انور بریار کے مطابق متاثرین کیلئے 14ریلیف کیمپس قائم کئے گئے ہیں،رودکوہیوں کے متاثرہ علاقوں میں اب تک 500خیمے پہنچائے گئے ہیں جبکہ مزید 500خیمے بھی بھجوا دیئے گئے ہیں۔انہوں نے یہ بتایا ہے کہ متاثرین میں اب تک 400 ٹینٹ،500چٹائیاں،200مچھر دانیاں بھی تقسیم کی جاچکی ہیں۔ ریسکیو 1122 کے مطابق اب تک متاثرہ علاقوں میں 1500سیلاب زدگان کو ریسکیو کیا گیاہے۔ضلعی انتظامیہ خانیوال نے تھانہ سرائے سدھوکی حدود میں دریائے  راوی  وچناب کے برلب  16مواضعات جن میں سرائے سدھو دیہات،فاضل شاہ،محمد شاہ،صاضب لنگرا،چوکی ہراج،سردار پور،باٹی،سعی مرالی،پیپل مرالی،سیال فقیر،قادو مرالی،شریف فقیر،شکرو والا،کنڈ سرگانہ،قتال پور  اورحویلی مبارک شاہ  کے باسیوں کو بارشوں اور دریائے راوی اور چناب  میں متوقع اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر  اپنے مال مویشیوں سمیت محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا کہا گیا ہے۔حالیہ تیز بارشوں کے باعث رود کوہی نے تباہی مچا دی مکینوں اور ان کے جانورو قیمتی سامان کے بچاؤ جس طرح ریسکیوسنٹر کو ٹ چھٹہ نے جرات و بہادری کا مظاہرہ کیا انہیں خراج تحسین پیش کر تے ہوئے پوری ٹیم سلام پیش کرتے ہیں۔ متثرین کی بڑی تعداد نے ریسکیو سنٹر کوٹ چھٹہ کے انچارج سید طفیل عباس اور ان کی پوری ٹیم نے دن رات سیلاب میں پھنسے لوگوں کی بر وقت مدد کر کے صیحح معنوں میں انسانیت کا ثبوت دیا۔ متاثرہ بستی لوہار۔ بستی رمدانی۔ بستی کھوسہ۔ معموری میں ریسکیو ٹیمیں اپنے فرائض دیانتداری سے سر انجام دے کر کئی انسانی زندگی بچائیں۔اور ساتھ ہی مال مویشی قیمتی سامان کو ریسکیو کر نے میں مذکورہ سنٹر کے انچارج طفیل عباس سمیت پوری ٹیم کا کردار کلیدی ہے۔ ان خیالات کا اظہار متاثرہ علاقوں کے سیلاب زدگان میں حاجی نور محمد۔ الہٰی بخش رمدانی۔ مقامی زمیندار زبیر احمد لغاری۔ صوبائی رہنماء پاکستان پیپلز پارٹی ملک رمضان قادر۔ زوار ممتاز حسین کھوسہ۔ عبدالحفیظ گبول۔ سمیت درجنوں نے حالیہ سیلاب میں ریسکیو عملہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذکورہ عملہ ا پنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جانی و مالی نقصا ن کے بچاؤ کے لیے بہترین حکمت عملی اپنائی۔ جو اب بھی سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپ لگا رکھے ہیں۔پاکستان کی فوج پنجاب کے ڈی جی خان اور راجن پور کے علاقوں کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بچا اور امدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہی ہے۔ فوج کی ریسکیو اور ریلیف ٹیمیں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔ ڈی جی خان اور راجن پور اضلاع کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف پہنچانے کے لیے پاک فوج نے فری میڈیکل کیمپ قائم کیے ہیں۔ ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس اور دیگر عملہ کی دستیابی کے علاوہ فیلڈ ایمبولینس، ابتدائی طبی امداد کی کٹس، پینے کا پانی اور ادویات سمیت تمام ضروری سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ ملیریا اور ڈینگی جیسی وبائی امراض کے ممکنہ پھیلا کے پیش نظر ڈاکٹروں اور طبی عملے کی جانب سے مقامی لوگوں کو بیماریوں سے بچا اور عملے کی حفظان صحت سے متعلق آگاہی بھی فراہم کی گئی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -