متاثرین کا حملہ توڑ پھوڑ ہنگامہ، ملازمین تھانہ چھوڑ کر فرار 

متاثرین کا حملہ توڑ پھوڑ ہنگامہ، ملازمین تھانہ چھوڑ کر فرار 

  

  ملتان ( خصو صی  رپورٹر  )  الپہ کے علاقے میں پولیس فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کا معاملہ،  متوفی فہیم کے اہل خانہ نے گزشتہ رات تھانے پر دھاوا بول دیا دھاوے کے دوران تھانے کا ریکارڈ ضائع ہوگیا الماریوں، فرنیچر، شیشے ٹوٹ گئے  ایف آئی آرز، رجسٹرز اور کاغزات زمین پر بکھیر دیے دھاوے کے دوران تھانے کی گاڑیوں کو بھی توڑا گیا تھانے میں تعینات پولیس ملازمین تھانہ چھوڑ کر موقع سے (بقیہ نمبر10صفحہ6پر)

بھاگ گئیدھاوے کی اطلاع پر مختلف تھانوں سے پولیس کی بھاری نفری الپہ پہنچ گئی واقعہ کی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل دی گئی ہے، بتایا جاتا ہے کہ چھوٹی جھوک کے قریب کار سواروں نے روکنے پر گاڑی بھگائی تھی پیچھا کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کی جانب سے فائر کئے گئے فائرنگ سے دو نوجوان زخمی ہوئے، جبکہ 2 بھاگ گئے نشتر ہسپتال میں فہیم نامی نوجوان جاں بحق ہوگیا تھا ذرائع کا کہنا ہے کہ کار سواروں نے شراب پی رکھی تھی  پولیس نے کار سواروں کو ڈاکو ظاہر کرنے کی کوشش کی ورثا نے پولیس مقابلہ جعلی قرار دیتے ہوئے دھانے پر دھاوا بولاورثا نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس مرنے والا کا کریمنل ریکارڈ  سامنے لیکر آئے  ملتان کے تھانہ الپہ پر حملے کے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا، مقدمہ میں 48 نامزد اور 200 نامعلوم افراد کو ملزمان قرار دیتے ہوئے دہشت گردی، اقدام قتل سمیت سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں مقدمہ سب انسپکٹر غلام سرور کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، درج مقدمہ کے متن میں کہا گیا ہے کہ 200 سے زائد افراد مسلح ہو کر تھانہ الپہ پہنچے اور تھانہ پر حملہ کر دیا، فائرنگ کی اور تھانے میں داخل ہو کر صحن میں کھڑی تین گاڑیوں کو نقصان پہنچایا جس کے بعد حملہ آور عمارت میں داخل ہوئے، ایس ایچ او، محرر اور فرنٹ ڈیسک کے کمروں میں توڑ پھوڑ کی اور گاڑیوں کی۔ موجود رقم بھی اٹھا کر لے گئے، واضح رہے کہ تھانہ الپہ میں گزشتہ شب پولیس مقابلے میں فہیم نامی شخص مارا گیا تھا، حملہ آوروں نے واقعہ کو جعلی قرار دیا لیکن پولیس مرنے والے کو کریمنل ریکارڈ یافتہ قرار دے رہی ہے تھانہ الپہ کے علاقے میں ایک روز قبل ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے کے بعد ورثا نے تھانہ پر حملہ کر دیا، جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے پہنچ کر حالات کو کنٹرول کیاتھانہ الپہ کے علاقے چھوٹی جھوک میں گزشتہ شب مبینہ پولیس مقابلے میں فہیم نامی نوجوان مارا گیا اور اعظم زخمی ہوا، درج ایف آئی آر کے مطابق فہیم کے ورثا نے تھانہ الپہ پر حملہ کیا توڑ پھوڑ کی اور فائرنگ بھی کی، جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی، فہیم کے ورثا نے پولیس مقابلے کو جھوٹا قرار دے دیا اور الزام عائد کیا کہ پولیس نے گھروں میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کیپولیس نے سارا دن اڈا بند بوسن کی مارکیٹ بند کروائے رکھی، کئی تھانوں کی پولیس، ایلیٹ اور ڈولفن سکواڈ گشت کرتے رہے،  فہیم کے ورثا نے اڈا بند بوسن پر احتجاج بھی کیا جبکہ زخمی اعظم کے ورثا نے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا، مرنے والے فہیم کی لاش گھر پہنچی تو کہرام برپا ہو گیا، ورثا نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے بلاوجہ فہیم کو فائرنگ کر کے قتل کیا، ہمیں انصاف دلایا جائے،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والا شخص فہیم ریکارڈ یافتہ ہے، ورثا نے تھانے پر حملہ کیا ہے جس کا مقدمہ دہشت گردی، اقدام قتل سمیت سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات کے تحت درج کیا جا چکا ہے، امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے کے لیے اڈا بند بوسن اور تھانہ الپہ میں بھاری نفری تعینات ہے

مزید :

ملتان صفحہ آخر -