قومی اسمبلی: بین الحکومتی تجارتی ٹرانز یکشن بل 2022، الیکشن کمیشن کی سالانہ رپورٹ پیش 

قومی اسمبلی: بین الحکومتی تجارتی ٹرانز یکشن بل 2022، الیکشن کمیشن کی سالانہ ...

  

ملتان (نیٹ نیوز)قومی اسمبلی میں بین الحکومتی تجارتی ٹرانزیکشن بل 2022 ء پیش کردیا گیا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی (بقیہ نمبر41صفحہ6پر)

میں مہناز اکبر عزیز نے بل ایوان میں پیش کیا۔اجلا س کے دور ان قومی اسمبلی میں الیکشن کمیشن کی سالانہ رپورٹ 2021  پیش کردی گئی۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضی جاوید عباسی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ ایوان میں پیش کی۔قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے 2022 ء کے چھ ماہ میں 4لاکھ 11ہزار پاکستانی وزارت اوورسیز کیساتھ رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، وزارت اوورسیز  پاکستانیز صحیح کام کر رہے ہیں اور وزارت بیرون ملک کیلئے پروفیشنل لوگوں کو تربیت دیکر بھجوا رہی ہے،سابق قبائلی اضلاع میں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے رہائشی سکیموں سمیت باجوڑ، شمالی و جنوبی وزیرستان میں ان کے بچوں کیلئے سکولوں کے قیام کی تجاو پرزیر غور ہیں۔ جمعہ کو وقفہ سوالات کے دوران ساجد حسین طوری نے کہا گزشتہ چار سالوں کے دوران وزارت اوورسیز کیساتھ 15لاکھ 52ہزار 726رجسٹرڈ ہوئے ہیں اور باقی ممالک کیساتھ بھی لیبر معاہدے ہو رہے ہیں۔ کورونا کی عالمگیر وبا کے بعد حالات بہتر ہو رہے ہیں اور ہرماہ سعودی عر ب 50ہزار پاکستانی جا رہے ہیں، ہمیں بیرون ملک پروفیشنل لوگوں کو بھجوانا چاہیے۔ رومانیہ، پرتگال، ڈنمارک، اٹلی، بیلجیم، ہنگری، یونان، برطانیہ، کویت، لیبیا اور لبنان سمیت مختلف ممالک کیساتھ روزگار سے متعلق معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتیں زیر عمل ہیں۔اوورسیز پاکستانیوں سے ہاؤسنگ کیلئے جو رقوم پاکستان آتی ہیں ان میں سے 7سکیمیں مکمل ہو چکی ہیں۔ لاہور، پشاور، تربت سمیت 7مقامات پر کام مکمل ہے، کئی سکیموں کا افتتاح دو تین ماہ میں ہو جائیگا،ان سات سکیموں میں 9678پلاٹس ہیں، 2847الاٹ ہو چکے، 2003 پلاٹس الاٹمنٹ کی پوزیشن میں ہیں، 144پر مقدمات ہیں، 274کمرشل پلاٹس میں 17الاٹ ہو چکے باقی پر کام ہو چکا، او پی ایف گرین لاہور میں پروگرام لانچ ہو چکا  جس میں 54پلاٹس الاٹ ہو چکے ہیں، دو تین ماہ میں تفصیلات کو حتمی شکل دی جائیگی۔دریں اثناء مرتضیٰ جاوید عباسی نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ادارہ جاتی سپورٹس کی بحالی کی تجویز زیر غور ہے، ملک میں ہاکی کی عظمت رفتہ کی بحالی کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔ سپورٹس فیڈریشن کی مینجمنٹ کی تقرری کا ایک طریقہ کار موجود ہے، ہاکی کی تنزلی کی وجوہات اور ہاکی فیڈریشن سے متعلق امور کا جائزہ لینا ضروری، جبکہ صوبائی، ڈویژن اور تحصیل کی سطح پر اقدامات ہونے چاہئیں،اس وقت ہاکی میں پاکستان اٹھارہویں اور بھارت چوتھے نمبر پر ہے۔ ہاکی فیڈریشن کی تنظیم نو ہونی چاہیے، سکواش اور ہاکی میں پاکستان نے ماضی میں دنیا کی قیادت کی ہے، ان کھیلوں میں دوبارہ بہتر مقام کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ دولت مشترکہ گیمز میں قومی ہاکی ٹیم کے وائس کیپٹن نے اس لئے شرکت سے معذرت کی کہ اگر وہ چلے گئے تو ان کے گھر کا خرچہ کون برداشت کریگا، یہ ایک لمحہ فکریہ ہے، گزشتہ حکومت نے ڈیپارٹمنٹل سپورٹس ختم کردیا تھا مگر اکیڈمیز بھی نہیں بنائی گئیں۔ مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا فیڈریشن کے صدر کی تقرری کا کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں،نوا ب شیر وسیر نے کہا ان کا مطالبہ ہے کہ نئی کمیٹی بنائی جائے۔ سپیکر نے کہا متعلقہ وزیر نہیں، جب احسان اللہ مزاری ایوان میں موجود ہونگے تو یہ معاملہ دوبارہ اٹھایا جائیگا، انہوں نے سوال دوبارہ ایجنڈہ میں لانے کی ہدایت جاری کر دی۔اجلاس کے دوران وزیر مملکت داخلہ عبدالرحمان کانجو نے کہا اسلام آباد میں مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے قبرستانوں کیلئے مختلف مقامات کا تعین کردیا گیا ہے، ہندو اور بدھ مت مذاہب کے پیروکاروں کیلئے آخری رسومات کی جگہیں موجود ہیں۔ اسلام آباد اور پشاور ایئرپورٹ پر سب انسپکٹر اور بالا کیڈر سمیت ایف آئی اے افسران کی تعیناتی اور مدت تعیناتی کے حوالے سے تمام تر تفصیلات ایوان میں پیش کی گئی ہیں۔ اجلاس کے دور ان سپیکر قومی اسمبلی نے ہدایت کی کہ جن وزا ر تو ں سے متعلق سوالات ہوں ان وزارتوں کے ایڈیشنل سیکرٹری کی سطح کے افسر کو ایوان میں موجود ہونا چاہیے۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا ان کے کئی سوالات تھے جن کے جوابات نہیں آئے،شمالی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے افغانستان میں رہ جانیوالے آئی ڈی پیز کی واپسی اور پاکستان میں موجود آئی ڈی پیز کو معاوضہ جات کی ادائیگی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا، جس پر سپیکر نے وزیر پارلیمانی امور مرتضی جاوید عباسی کو نوٹس لینے کی ہدایت کی۔قادر مندوخیل اور دیگر کے توجہ دلاؤ نوٹس پر پارلیمانی سیکرٹری خزانہ رانا محمد اسحاق نے ایوان کو بتایا ملک میں مہنگائی سے ہر طبقہ متاثر ہوا ہے، مہنگائی کی لہر عالمی سطح پر ہے، ہماری حکومت آٹھ ہفتے پرانی ہے، حکومت مہنگائی پر قابو پانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی آنے سے مہنگائی بھی کم ہو جائیگی۔ مقامی پیداوا ر میں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام 4بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ 

قومی اسمبلی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -