کمرشل میٹرز پرٹیکس، تاجروں کا شہر شہر احتجاج، بجلی بل ادا کرنے سے انکار 

کمرشل میٹرز پرٹیکس، تاجروں کا شہر شہر احتجاج، بجلی بل ادا کرنے سے انکار 

  

 ملتان وہاڑی،محسن وال،میاں چنوں (نیوز رپورٹر،بیورو رپورٹ، (بقیہ نمبر39صفحہ6پر)

نمائندہ پاکستان،نمائندہ خصوصی) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا کہ بجلی کے کمرشل بلوں پر تین سے بیس ہزار سیلزٹیکس کے ظالمانہ نفاذ کو مسترد کرتے ہو ئے بجلی کی ناقابل برداشت قیمت لوڈشیڈنگ کے عذاب کے بعد اب نئے سیل ٹیکس کا نفاذ تاجروں کا معاشی قتل ہے، مہنگائی نے کاروبار تباہی کے دھانے تک پہنچا دیے ہیں ڈالر کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ سے کاروبار کرنا مشکل ہو گیا ہے رہی سہی کسر حکومت کے حالیہ اقدامات نے پوری کر دی ہے جس میں آئی ایم ایف کے اشاروں پر چلتے ہوئے بجلی کے بلوں پر ظالمانہ ٹیکسز عائد کر دیے گئے ہیں ظلم تو یہ ہے کہ ایک یونٹ استعمال کرنے والے تاجر کو چھ سے سات ہزار روپے کے بھاری بل بھیجے گئے ہیں جو کہ سراسر زیادتی ہے بجلی کے بلوں پر عائد بھاری ٹیکس کو تاجر برادری مسترد کرتی ہے اور بلوں کی ادائیگی بھی روک  دینے کا اعلان کرتے ہیں  اگر کسی تاجر کی بجلی کاٹنے کی کوشش کی گگئی تو شدید مزاحمت کا سامنا کر نا پرے گا، ایک کاروبار پر لگے کئی میٹروں،بند دکانوں گوداموں مساجد کی تفریق کے بغیر سب میٹروں پر سیل ٹیکس کا نفاذ درحقیقت غنڈہ ٹیکس کی وصولی کی کوشش ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے زیر اہتمام بجلی کے بلوں پر عائد بھاری ٹیکس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا  احتجاجی مظاہرے میں تاجروں نے بجلی کے بل پھاڑ ڈالے اور بلوں کی ادائیگی روک دینے کا اعلان بھی کیا ہے جس میں مختلف مارکیٹوں اور بازاروں کے صدور اور عہدیداروں مرکزی سنیئروائس چیئرمین شیخ اکرم حکیم، جنوبی پنجاب کے صدر شیخ جاوید اختر، ضلع ملتان کے صدر سید جعفرعلی شاہ، ملتان کے صدر خالد محمود قریشی، جاوید اختر خان، حاجی ندیم قریشی،مرزانعیم بیگ، ملک عمران قیوم بھٹہ، کاشف رفیق، چوہدری ارشاد، حکم علی قریشی، حافظ عمران سجادقریشی، ملک قیصر اقبال، شاہد محمود انصاری، شیخ الطاف، اکمل خان بلوچ،شیخ محمدشفیق،خواجہ احمد فراز صدیقی،ملک کامران بھٹہ،حاجی عبدالغفور، قمرزمان خان، سید خضر شاہ،حاجی طارق نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرے کے شرکا نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور بجلی کے بلوں میں عائد بھاری ٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے بجلی کے موصول شدہ بل پھاڑ ڈالے۔ خواجہ سلیمان صدیقی نے مزید کہا کہ وزیر خزانہ مفتاح اسمعیل نے بجٹ میں تاجروں کو خوشخبری دیتے ہوئے نان فائلر کیلئے فکس ٹیکس لگانے کی نوید سنائی،بجٹ تقریر کے مطابق ریٹیلرز کیلئے سالانہ تین تا دس ہزار انکم و سیل ٹیکس لگانے کا بتاتے ہوئے اسی کو فائنل ٹیکس کہا گیامگر اب فائلر اور نان فائلر کا چکر چلا کر اس ٹیکس کی رقم کو دگنا کر دیا گیا،بجٹ تقریر میں کہیں یہ نہیں کہا گیا تھا کہ یہ ٹیکس ماہانہ بنیاد پر لیا جائے گا،جبکہ اب بھیجے جانے والے بجلی کے کمرشل بلوں پر صرف سیلز ٹیکس کا ذکر ہے۔اور وہ بھی سال میں ایک دفعہ کی بجائے ہر مہینے کے بل کے زریعے وصول کیا جائے گا، انھوں نے کہاحکمرانوں نے اگر یہ ٹیکس واپس نہ لیا تو ٹیکس ادائیگی روکنے سمیت ملک گیر شٹر ڈاون کا فیصلہ کریں 

ملتان چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری نے ملک میں بجلی کی قیمتوں میں 9 روپے 89 پیسے فی یونٹ اضافے کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔واضح رہے کہ یہ اضافہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست پر نیپرا نے جون کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا ہے۔اس حوالے سے چیمبر کے صدر شیخ فیصل سعید نے کہا ہے کہ موجودہ سخت معاشی حالات میں بجلی کے صارفین پر ایک ماہ میں 100 ارب روپے سے زائد کا بوجھ ڈالنا سراسر ظلم اور متوسط طبقے کی کمر توڑنے کے مترادف ہے۔ایسا لگتا ہے کہ وفاقی حکومت کو چھوٹے تاجروں اور سمال انڈسٹری کی مشکلات سے کوئی سروکار نہیں، پیداواری لاگت میں دن بہ دن اضافہ ملکی معیشت اور عوام دونوں کیلئے زہر قاتل ہے۔حکمران ہوش کے ناخن لیں اور ایسا ظالمانہ فیصلہ فوری واپس لیا جائے

بجلی کے بلوں میں ناجائز اور بلاجواز ہزاروں روپے ٹیکس کو مسترد کرتے ہیں،ذاتی مفاد اور ضمنی الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے کے لئے 100 یونٹ بجلی فری کرنے والوں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے 6یونٹ والے کو 6800 روپے 36 یونٹ والے کو 8600 کا بل بھیجا جارہا ہے معیشت کو سنبھالنے والے تجربہ کاروں نے عوام کو چند مہینوں میں دن میں تارے دکھا دیے شہری اور تاجر بجلی کیبلوں میں لگائے گئے فکس سیلز ٹیکس پرکیے گئے پاکستان سروے میں حکومت کے خلاف پھٹ پڑے،دوکاندار مشتاق نے کہا کہ میرے کاروبار اور دوکان کا اندازہ لگائیں،6 یونٹ بجلی کابل 6800 روپے آیا جس میں 6000 ہزار حکومت نے ظالمانہ فکس سیلز ٹیکس لگایا ہے جو کہ مجھ جیسے چھوٹے دوکاندار پرظلم ہے اشفاق نامی دوکاندار نے کہا کہ 100 یونٹ فری کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے یہاں 36 یونٹ کا بل 8600 آیا ہے ہم اپنے بچوں کا پیٹ پالیں یا چور حکمرانوں کی جیبیں بھریں،گلفام، وحید انور اور راشد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو ایف پی اے کی مد میں زائد بل بھیج کرحکومت نے ہمارا جینا حرام کر رکھا تھا اب ہمارے کاروبار بلاجواز اور بغیر چھان بین کے فکس سیلز ٹیکس لگا کر ہمارا معاشی قتل کیا جارہا ہے چھوٹی بڑی دوکانوں کی تمیز کیے بنا کیسے ٹیکس لگایا جاسکتا ہے مقبول،بلال اور مقصود نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے بجلی کے میٹر ایسے لوگوں کے نام پر بھی ہیں جو اس دنیا میں موجود ہی نہیں اور دوکانوں میں بیٹھے کرایہ داروں کو ہزاروں روپے ٹیکس چارج کر دیا گیاجو ہمارے کاروبار تباہ کردے گا حاجی قاسم ملک بشیر،اشفاق بلوچ نے کہا کہ حکومت ریلیف دینے کی بجائے ہمارا جینا دوبھر کردیاانکی نااہلیوں کی بنا پرڈالر روپے کے مقابلے میں اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہے بجلی کے بلوں میں پہلے ہی سیلز ٹیکس موجود تھا اب فکس سیلز ٹیکس لگا کر یہ ایسا ظلم کر رہے ہیں جو برداشت سے باہر ہے حکومت فوری ظالمانہ ٹیکس ختم کریں ورنہ تاجر اور شہری مجبور ہونگے کہ وہ سڑکوں پر احتجاج کے لئے نکل آئیں 

بجلی کے بلوں میں حکومت کیطرف سے لگائے گئے ظالمانہ ٹیکس کے خلاف شہریوں، نے احتجاج کرتے ہوئے حکمرانوں کے خلاف نعرے بازی کی،اس موقع پر شہریوں،میں صحافیوں نے بھی شرکت کی جن میں کسان اتحاد کے جنرل سیکرٹری مہر شوکت سنپال. محمود  پراپرٹی ڈیلر. اشفاق نیاز.. آصف ببی. عمران سہر آرائیں. رانا زبیر. راشد امیدی. سجاول خان بلوچ. ملک شاہد و دیگر نے کہا کہ پاکستانی قوم مہنگائی کی دلدل میں پھسی ہوئی ہے غریب عوام خودکشیوں پر مجبور ہے لیکن ہمارے حکمران اپنی سیاست چمکانے کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہیں، اس موقع پر عوام نے کہا کہ جب تک حکومت ظالمانہ ٹیکس واپس نہیں لیتی ہم پر امن احتجاج کرتے رہیں گے،ایک شہری عمران شاہ نے کہا میرے 5 یونٹ بجلی کے جلے مجھے بجلی کا بل 4500 روپے آگیا. اشفاق گجر کاشف ندیم آرائیں. و دیگر نے فی الفور اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے بجلی کے بلوں میں حکومت کیطرف سے لگائے گئے ظالمانہ ٹیکس اور مہنگائی کے خلاف شہریوں نے کا میاں چنوں کا ٹی چوک میں شدید احتجاج کرتے ہوئے حکمرانوں کے خلاف نعرے بازی کی اس موقع پر کسان راہنما مہر شوکت علی سنپال،سینیئر صحافی چوہدری شعیب افضل، سماجی راہنما شہزاد آصف ببی،نوجوان ویلفیئر ورکر و سماجی شخصیت رانا عظیم اکرم،سماجی راہنما محمود بھٹی،سماجی شخصیت مرزا احمد علی،صحافی برادری سمیت شہریوں نے بھی شرکت کی،اس موقع پر سماجی راہنماں کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم مہنگائی کی دلدل میں پھسی ہوئی ہے غریب عوام خودکشیوں پر مجبور ہے لیکن ہمارے حکمران اپنی سیاست چمکانے کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہیں، اس موقع پر عوام نے کہا کہ جب تک حکومت ظالمانہ ٹیکس واپس نہیں لیتی ہم پر امن احتجاج کرتے رہیں گے،ایک کا کہنا تھاکہ میرے 5 یونٹ بجلی کے جلے مجھے بجلی کا بل 4500 روپے آگیا،احتجاجی شرکاء نے بجلی کے بلوں میں اضافے کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان ظالمانہ ٹیکسز کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -