تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا: رانا تنویر

  تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا: رانا تنویر

  

     کراچی (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیرِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی وقت کی ضرورت ہے۔تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔عمران خان نے اپنے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں سوائے انتقامی کارروائیوں کے کوئی کام نہیں کیا۔چیئرمین پی ٹی آئی کسی اور کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ہم قوم کے لیے مشکل فیصلے کررہے ہیں۔لوگوں کے ریلیف دینے کے بعد الیکشن میں جائیں گے۔تین چار روز میں نئے چیئرمین ایچ ای سی کی تعیناتی کردی جائے گی اور اردو یونیورسٹی کے وی سی کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔وہ جمعہ کو آئی بی سی سی کی نئی عمارت کی افتتاحی تقرب سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے۔اس موقع پر سیکریٹری آئی بی سی سی غلام علی ملاح نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں صوبائی وزیر تعلیم اسماعیل راہو، سیکرٹری بورڈز مرید راحموں بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ آئی بی سی سی نے معیاری بلڈننگ بنائی ہے۔اس سے طالب علموں کو دستاویزات کی تصدیق میں سہولت ملے گی۔ کام کرنے کی نیت اچھی ہو تو کبھی پکڑ نہیں ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اردو یونیورسٹی کے وی سی کو 15 جولائی تک کینیڈا سے وطن واپس آنا تھا لیکن وہ نہیں آئے، اب مزید دو دن نہ آئے تو قائم مقام وی سی کے احکامات دے دیے گئے ہیں، اردو یونیورسٹی ایڈہاک ازم کا شکار ہے،یونیورسٹی بے قاعدگیاں ہیں اورمافیا بیٹھی ہوئی ہے۔وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ کوالٹی ایجوکیشن پر یقین رکھتا ہوں، آہستہ آہستہ تعلیم بہتر ہو رہی ہے، میں جامعات کی عالمی درجہ بندی سے مطمئن نہیں ہوں۔انہوں نے کہا کہ قومی درجہ بندی ہونی چاہیے، ہایئر ایجوکیشن کمیشن کو ڈائریکشن دے دی ہے۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ جامعات کو جتنی مالی مدد کی ضرورت ہو گی کریں گے، پی ٹی آئی حکومت نے فنڈز 30 ارب کیا تھا ہم 120 ارب روپے سے اوپر لے گئے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں اب پی ایچ ڈی کی مانگ نہیں رہی بلکہ ہنر مند افراد کی ضرورت ہے،  کوالٹی کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ ضروری ہیں، لاکھوں ٹیچرز جن کی تربیت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک جیسی تعلیم کا خیال تھا، ہم نے سنگل قومی نصاب ختم کر کے اسے قومی نصاب کر دیا ہے۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ اسلام آباد انٹر بورڈ نے اچھی اصلاحات کی ہیں۔ملک بھر کے بورڈز اس پر کام کریں۔ امتحانات اور مارکنگ کے سسٹم پر اصلاحات لائیں۔بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ یہ ہماری اتحادی حکومت ہے۔ہمارے گورننس کے ایشوز ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین کو پامال کیا جاتا ہے۔پارلیمنٹ کی بالادستی وقت کی ضرورت ہے۔کرپشن کاخاتمہ بھی پارلیمنٹ کرے گی۔تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 2018 کے جنرل انتخابات کیسے ہوئے سب کو پتہ ہے۔2018 میں ہم سسٹم کو چلانے کے لیے آئے تھے۔زرداری اور نواز شریف نے کہا بھی تھا کہ عمران قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں لیکن عمران خان نے سوائے انتقامی کارروائیوں کے کچھ نہیں کیا۔عمران خان فاشسٹ ہے وہ کسی اور ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔مران خان کو چاہیے کہ اب انتظار کرے اور ایک سال تو ہمیں موقع دے۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ ہم قوم کے لیے مشکل فیصلے کر رہے ہیں۔لوگوں کو ریلیف دینے کے بعد الیکشن میں جائیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -