سفارت کاری.... جنگ روکنے کا واحد طریقہ

سفارت کاری.... جنگ روکنے کا واحد طریقہ
سفارت کاری.... جنگ روکنے کا واحد طریقہ

  

شام اس وقت خانہ جنگی کے قریب ہے، اگر انتشار مزید پھیلتا ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل اور عرب لیگ و اقوام متحدہ کے موجودہ نمائندے کوفی عنان نے اس بات کے متعلق اظہار خیال کیا ہے۔ ”شام لیبیا نہیں ہے، جو اندر سے پھٹ جائے، بلکہ یہ اپنی سرحدوں سے باہر کی جانب پھٹ جائے گا۔ اس انتشار کی انسانی قیمت بہت زیادہ ہے، بلکہ ناقابل حساب ہے۔ یہ بات زیادہ حیران کن نہیں ہے کہ عام انسانی ردعمل یہ ہے کہ ہمیں کچھ کرنا چاہے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مقصد کے لئے سنجیدہ سفارتی کوششیں کی جائیں نہ کہ کوئی عسکری کارروائی اس کا حل ہے۔ امریکی یا نیٹو افواج کی کارروائیوں سے نہ لیبیا میں کوئی استحکام، تحفظ اور جمہوریت نے جنم لیا اور یقینا ایسا ہی معاملہ شام کے ساتھ بھی ہے۔ حکومت کی جانب سے کی جانے والی خون آشام کارروائیوں کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ بشارالاسد کو اب بھی شام کی کاروباری اشرافیہ کی حمایت حاصل ہے، خا ص طورپر دمشق اور ایپو کا کاروباری طبقہ بشارالاسد کا حامی ہے، جبکہ کچھ اقلیتیں (عیسائی، شیعہ اور دیگر) بھی ان کی حامل ہیں۔حزب اختلاف شروع سے ہی منقسم ہے۔ یہ مزید تقسیم اس وقت ہو گی، جب حزب اختلاف کے کچھ حصوں نے ہتھیار اُٹھا لئے اور بین الاقوامی مسلح مداخلت کے لئے انہوں نے صدا بلند کرنی شروع کر دی۔ اپوزیشن کا وہ حصہ جو غیر متشدد انداز میں آزادی اور جمہوریت کا راستہ تلاش کرنے کا متمنی ہے وہ اب بھی مسلح مداخلت کا مخالف ہے، لیکن اسے غیر معمولی خطرات کا سامنا ہے۔ کوفی عنان نے تجویز پش کی ہے کہ مذاکرات کا ازسر نو آغاز کیا جائے اور مذاکرات میں شام کی موجودہ حکومت کے حامیوں، ایران، روس کے علاوہ مغربی حکومتیں اور عرب کی علاقائی حکومتیں شامل ہوں۔ عرب حکومتیں مسلح حزب اختلاف کی حمایت کر رہی ہیں۔ کوفی عنان کے مطابق مذاکراتی عمل میں ان عرب حکومتوں کا شامل ہونا ضروری ہے، جبکہ امریکہ نے مذاکرات کی تجویز کو رَد کر دیا ہے۔ کم از کم ایران کی حد تک تو ضرور، کیونکہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے بقول کہ تہران شام کے مسائل کا ذمہ دار ہے، اس لئے اسے مذاکراتی عمل میں شامل نہ کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل بان کی مون واشنگٹن کے مفادات کی شدو مد سے ترجمانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے نمائندے (کوفی عنان) کی تجا ویز کو رد کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کہتے ہوئے ”اسد اپنا اعتبار اور ساکھ مکمل طور پر کھو چکے ہیں اب ہم اُن سے بات نہیں کر سکتے“۔

فرقہ واریت بڑھتی جا رہی ہے:اگرچہ بشارالاسد کا عہد اور اس سے قبل1970ءکی دہائی میں ان کے والد حافظ الاسد جب اقتدار میں آئے تب سے اب تک یہ ایک سیکولر دور ہے۔ 2000ءسے لے کر2012ءتک بشار الاسد نے بھی آزاد خیال ہونے کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا، لیکن اب شام پر فرقہ واریت کا اشتہار لگ چکا ہے۔ حکمران اسد کا قبلہ ال ویٹس ہے (جو کہ شیعہ اسلام کی ایک قسم ہے) جبکہ ان کی رعایا کی اکثریت سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ شام میں اس وقت عالمی مفادات کی جنگ جاری ہے، سنی شیعہ خفیہ لڑائی سعودی عرب، قطر اور ایران کے مابین جاری ہے، ان میں سے ہر قوت یا تو شامی فوج کی حمایت کر رہی ہے یا اس کی مخالفت۔

ایران مغربی اور امریکی مفادات کی اہم وجہ ہے جس کی بدولت امریکہ اور مغرب شام میں دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ دمشق کے ساتھ تہران کا معاشی، سیاسی اور عسکری تعاون اس بات کا ضامن ہے کہ شام کو کمزور کرنے کی کوششیں درحقیقت ایران کو دباﺅ میں لانے کی کوششیں ہیں اور شاید یہی سب سے اہم وجہ ہے جو امریکہ کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ شام کے خلاف اقدامات کرے۔ یقینی طور پر امریکہ، یورپی یونین اور امریکہ کی حمایت یافتہ عرب کی حکومتیں اس شام کی خواہش مند ہیں،جو کہ مزاحمت کرے اور زیادہ مغرب کا حامی ہو (جس کا مطلب ہے کہ ایران کا مخالف ہو) کیونکہ ایسا شام جو امریکہ کے اہم اتحادی ممالک، جن میں اسرائیل، ترکی، عراق اور لبنان شامل ہیں کا پڑوسی ہو تبھی مغرب اس سے خوش رہ سکے گا۔

امریکہ اور اس کے اتحادی اس خطرے سے بھی باخبر ہیں کہ اگر وہ شام میں براہ را ست عسکری کارروائیوں میں ملوث ہوئے ہیں تواس کے مضمرات کیا ہوں گے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اوباما انتظامیہ شام میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے اجازت لئے بغیر حملہ آور ہونے کی کوشش نہ کرے گی اور اقوام متحدہ کی جانب سے اس بات کی منظوری ملنا مستقبل قریب میں تقریباً ناممکن ہے۔ چین اور روس دونوں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ شام کے خلاف طاقت کے استعمال کی مخالفت کریں گے اور اس کے علاوہ یہ دونوں ممالک شام پر مزید پابندیاں کرنے کے بھی مخالف ہیں۔ وائٹ ہاﺅس اور پینٹاگون کو اندر سے ایسے مخالفین کا سامنا ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے شام کے معاملے میں طاقت کا استعمال خود امریکی مفادات کو گزند پہنچانے کے مترادف ہو گا، بے شک وہ شام کے شہریوں کا خیال نہ ہی کریں تب بھی۔

شام اور مزاحمت:شام مشرقی وسطیٰ کی فالٹ لائنوں کے درمیان واقع ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ فرقہ وارانہ تقسیم جنگ سے متاثرہ خصوصاً عراق میں زیادہ گہری ہے۔ شام کے حقیقی غیر متشدد مظاہر ین کا مقصد امریکہ کی پشت پناہی رکھنے والے آمر کے خلاف مظاہرے کرنا نہیں تھا، بلکہ مغرب کے خلاف مزاحمت کا رویہ اختیارکرنا تھا۔ اس تضاد کی بدولت کچھ مظاہرین اس بات پر مجبور ہو گئے کہ وہ شام کی حکومت کی حمایت کریں، کیونکہ وہ حکومت کے خلاف تھے اور اس لئے وہ تمام حزب اختلاف کی قوتوں کے مخالف ہو گئے،کیونکہ وہ سمجھتے ہیں ہیں کہ یہ واشنگٹن کی آلہ کار ہیں۔ اگرچہ اسد نے سامراجیت کے خلاف خطے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ شام کے لوگوں کو پھر بھی حق حاصل ہے کہ وہ ان کی مخالفت کریں، کیونکہ اُن کے دور میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں ہوئیں، لیکن حقیقتاً حقائق اس کے بالکل مختلف ہیں۔ اس بنیاد پر کہ اس کا اتحاد ایران کے ساتھ ہے(اور کسی حد تک اس کی مدد حزب اللہ کو لبنان میں حاصل ہے) امریکہ کا خیال ہے کہ شام کا رویہ اشتعال انگیز ہے، لیکن دمشق امریکی مفادات کے خلاف کبھی بھی مستقلاً کام نہیں کرتا رہا۔ ایک اور بات جو توجہ طلب ہے وہ یہ ہے کہ اسرائیل شام میں تبدیل ہوتے ہوئے حالات کے باوجود خاموش ہے۔ دُنیا یہ امید کر رہی تھی کہ تل ایبب شام میں فوجی آپریشن اور تبدیلی کے لئے مداخلت کی بھرپور مہم چلائے گا، لیکن اسرائیل بہت حد تک خاموش ہے۔

کوفی عنان کا یہ کہنا کہ مسئلے کا سفارتی حل تلاش کیا جائے آغاز ہو سکتا ہے۔ اگر واشنگٹن اس کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو جائے، جنگ کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے جب ملک میں موجود حزب اختلاف کی قوتیں عوامی حمایت کے ذریعے غیر متشدد طریقے سے تبدیلی کی خواہش مند ہوں تو وہ سماجی تحاریک کے ذریعے آزادی اور جمہوریت کو نئے انداز میں شام کو متعارف کروا سکتے ہیں۔

(بشکریہ:”الجزیرہ آن لائن“....ترجمہ :وقاص سعد)  ٭

مزید :

کالم -