سازشی فارمولے ناکام ہوں گے

سازشی فارمولے ناکام ہوں گے
سازشی فارمولے ناکام ہوں گے

  

بڑا قابل رحم طبقہ ہے، بے چاروں پر ترس آتا ہے۔ اربوں کھربوں کے اثاثے اور مزید کی طمع میں ذلت و رُسوائی کی طرف گامزن۔ صدیوں پہلے دانشور نے کہا تھا: ”کھوپڑیوں کے پیالے کبھی نہیں بھرتے، کیونکہ اُلٹا پیالہ کبھی نہیں بھرتا“۔

غلط فہمی، بدترین غلط فہمی، کیا دولت اور طاقت سے ہر شخص کا ایمان خریدنا ممکن ہوتا ہے؟.... وہ بھی ان درویش صفت لوگوں کا جو اپنے رب کے سامنے سربسجود ہو کر بن مول بِک چُکے ہوں ۔ چند کروڑ کیا دنیا کا تمام خزانہ بھی ان کے قدموں میں ڈال دیا جائے تو پاو¿ں کی ٹھوکر مار کر گزر جائیں کہ دولت حریص کے لئے نعمت ہوتی ہے، بے غرض کے لئے فتنہ و تباہی۔ طاقت احمقوں کے لئے ہتھیانے کا درجہ رکھتی ہے، جبکہ دانشمندوں کے لئے غرور کی ماں، انسان کو ذلیل کر دینے والی بدترین دشمن.... دولت مند و طاقتور اپنے انجام کو پہنچیں گے اور بے غرض و دانشمند اپنے.... کہ جس شاہراہ پر چلو گے ، اسی کے اختتام کو منزل تصور کیا جائے گا۔

انسان جب طاقت اور دولت سے ہرچیز کو اپنا مطیع بنانے کا یقین کر لیتا ہے تو خوفناک خود فریبی سے ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہے، مگر یہ دونوں چیزیں جب انسان کے پاس ہوں تو وہ بعض اوقات بے صبرا ہو کر ایسی گھٹیا حماقتیں کر ڈالتا ہے کہ دولت اور طاقت بھی اسے رُسوائی سے نہیں بچا سکتیں۔ کائنات کی سب سے مقدس کتاب کہتی ہے: ” بے شک انسان بنایا گیا ہے، بڑا بے صبر اور حریص“....(سورة المعارج آیت19)

دولت سے ضمیر خریدنے والے پراپرٹی ٹائیکون کی سازش تو کامیاب نہ ہو سکی کہ پروردگار جھوٹ کو سچ پر غلبہ نہیں لینے دے گا۔ انشاءاللہ موروثی سیاسی گروپوںکا فارمولا بھی بدترین ناکامی سے دوچار ہوگا۔ ان کی اقتدار کی موجودہ تقسیم کے مطابق آئندہ انتخابات مل کر لڑنے کی ساری تدبیریں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ قوم متحرک ہو چکی، تبدیلی کا سورج طلوع کر کے ہی دم لے گی۔ صبح نو کی اُمید ہو تو رات کا اندھیرا بھی روشنی دینے لگتا ہے۔ اگر تو مان لیا جائے کہ پاکستان میں بسنے والے اٹھارہ کروڑ لوگ محض بے زبان جانور ہیں، عقل و شعور سے عاری، جمہوریت کے ثمرات سے ناواقف، ایماندار حکمرانی کے خواص سے لاعلم، پتھر کے زمانے کے بے بس غلام پھر تو موروثی سیاسی گروہوں کا مل کر دوبارہ اقتدار پر قبضہ جمانے کا استدلال درست مانا جا سکتا ہے، لیکن اگر حقیقت اس کے برعکس ہے اور یقیناً ہے کہ عوام کا شعور پہلے سے کہیں بلند ہو چکا، مرکز اور صوبوں پر حکومت کرنے والی پارٹیوں پر ان کی گہری نظر ہے، ساڑھے تین کروڑ جعلی ووٹ خارج ہو چکے، سول سوسائٹی اپنے مستقبل کے لئے انتہائی فکر مند اور نتیجہ اخذ کر چکی کہ وسائل سے مالا مال پاکستان کا اصل مسئلہ کرپٹ مافیا سے نجات حاصل کر کے ایماندار قیادت کا انتخاب ہے۔ موجودہ طبقے کے رحم و کرم پر اگر ملک چھوڑ دیا تو ترقی کا خواب کبھی شرمندئہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ کسی بھی معاشرے کی سول سوسائٹی کا اپنے مستقبل کے لئے فکر مند ہونا انتہائی مثبت بات ہوتی ہے اور پاکستانی سول سوسائٹی کے کریڈیٹ میں عدلیہ بحالی کی ایسی تابناک مثال موجود ہے کہ ہم امید کر سکتے ہیں کہ باشعور سول سوسائٹی ایماندار قیادت ضرور چُن لے گی۔

 کالم نگار اپنے کالموں میں تواتر سے اس بات کا تذکرہ کر رہے ہیں کہ پی پی پی ، مسلم لیگ (ن) اور ان کے ساتھ اقتدار میں شامل سدا بہار اقتدار پرست ٹولے کے درمیان اتفاق ہو چکا کہ اقتدار کی بندر بانٹ کا موجودہ مفاہمتی فارمولا اگلے پانچ سال بھی اسی طرح جاری رکھا جائے.... خدشہ بجا ہے کہ اقتدار ان لوگوں کی کمزوری ہے۔ جی ہاں! احتساب سے بچنے کے لئے اختیار چاہئے ہوتا ہے۔ کرپٹ مافیا غیر قانونی طور پر اثاثوں کو بچانے کے لئے ہر طرح کا سمجھوتا کر سکتا ہے، لیکن خود فریبی کا یہ کھیل کب تک چلے گا؟ اس کا اختتام تو آخر ہونا ہی ہے اور اختتام قریب تر ہے۔ سول سوسائٹی ان کے عزائم پورے نہیں ہونے دے گی۔ میڈیا میں سرمایہ کاری دھری کی دھری رہ جائے گی۔ پرویز مشرف کی مثال ابھی کل کی بات ہے کہ ہر سطح پر ناکام رہا۔ ویسے بھی سچ کو جھوٹ کے پردے میں چھپانا ناممکن ہوتا ہے۔ سچ کی حدت کے سامنے جھوٹ کے برف پوش پہاڑ لمحہ بھر میں پگھل کر اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں۔ میڈیا کے چند لوگ بھی اگر سچ کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور انشاءاللہ ہوں گے تو سارا پروپیگنڈہ ناکام رہے گا۔ کھیل فیصلہ کن لمحات میں داخل ہو چکا ہے۔ خود فریبی، ایسی خود فریبی کہ ترس آتا ہے جو یہ گمان کئے بیٹھے ہیں کہ ان کے گٹھ جوڑ سے کرپشن سے پاک قیادت کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔ شاید وہ جانتے نہیں کہ پاکستان کی تاریخ کے یہ سب سے منفرد انتخابات ہوں گے جو آمریت اور جمہوریت یا دائیں بازو اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان نہیں، کرپٹ مافیا اور عوام کے درمیان ہوں گے۔ عوام نے پہلی بار ایسی قیادت کا انتخاب کرنا ہے، جن کے اثاثے ڈکلیئر ہوں ، پورا ٹیکس ادا کرتے ہوں ، ان کے دامن پر کرپشن، منی لانڈرنگ اور موروثیت کو پروان چڑھانے کا کوئی داغ نہ ہو۔ یقین جانئےہمارے ہاں آج تک ان اہم امور کو سامنے رکھ کر امیدواروں کا انتخاب نہیں ہوا، جو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ ان کی نا اہلی کو بھلا کر لوڈشیڈنگ، کرپشن، ویران انڈسٹری، مہنگائی، لاقانونیت اور تھانہ و پٹوار کے کینسر سے نڈھال عوام پھر انہی موروثی گروہوں کو اپنے اوپر مسلط کر کے اپنی گردنیں ان کے تیز دانتوں کو پیش کر دیں گے ، وہ بدترین خود فریبی کا شکار ہیں۔

اہلیت جناب اہلیت.... کارکردگی کی بنیاد پر انتخابات لڑے جاتے ہیں۔ منشور سامنے رکھ کر عوام کو اپنی کامیابی گنوائی جاتی ہے۔ بائیس بائیس گھنٹے لوڈشیڈنگ، تباہ حال انڈسٹری، بے روزگاری، مہنگائی کا طوفان بدتمیزی، دہشت گردی کا بے قابو جن، کرپشن کے نت نئے قصے اور تھانہ و پٹوار کے مظالم کون سی کارکردگی جناب ؟.... اٹھارہویں، اُنیسویں اور ایسی ہی ترامیم جن کا مقصد اشرافیہ کو سہولتیں دینا تھا۔ عوام کو کیا ملا سوائے ذلت بھری زندگی کے؟.... عجیب دیوانے لوگ ہیں۔ ابھی تک اس گمان میں ہیں کہ ان کا مقابلہ تحریک انصاف سے ہے۔ سب مل کر عمران کا راستہ روک لیں گے ۔ ہرگز نہیں، مقابلہ جاگیردارانہ سوچ رکھنے والوں اور تبدیلی کے خواب دیکھنے والوں کے درمیان ہے۔کرپشن سے پاک ایماندار حکمرانوں کی تڑپ عوام میں روزبروز بڑھتی جا رہی ہے اور اگلے عام انتخابات کے نتائج اسے ظاہر کر دیں گے ۔ عوام کی غالب اکثریت موروثی سیاسی گروہوں سے تنگ آچکی کہ ان کے لئے ملک اور عوام اپنی جاگیر اور ہاری کی طرح ہیں۔ اسی وجہ سے پندرہ سال سے ریاضت کش عمران خان کو بے پناہ پذیرائی مل رہی ہے۔ کیا کپتان کوئی نیا نظریہ لے کرآیا؟.... نہیں.... اس کا نظریہ وہی ہے، البتہ عوام نے اب اس سچائی کو تسلیم کر لیا ہے کہ انصاف کی حکمرانی کے بغیر ریاست کا نظام نہیں چل سکتا۔ ٹیکس کے یکساں اور شفاف نظام کو رائج کر کے ہی معیشت کو سنبھالا جا سکتا ہے اور کرپشن سے پاک اپنے اصل اثاثوں کو ظاہر کرنے والے لوگ ہی آزادانہ نظم و نسق چلا سکتے ہیں۔ اگر عمران اپنے مو¿قف پر ڈٹا رہا اور وقت قیام سجدے میں نہ گر پڑا تو عوام اس پر اعتماد کریں گے ، ورنہ وہ جستجو جاری رکھیں گے ۔

عوام اب موروثی سیاسی گروپوں سے تنگ آچکے، لہٰذا ان کا کوئی شراکت اقتدار فارمولا کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ سرائیکی صوبہ، بہاولپور صوبہ، لیپ ٹاپ تقسیم اور پیلی ٹیکسیاں سب ناکام رہیں گی۔خادم اعلیٰ پنجاب کاش! تھانہ و پٹوار کلچر کی اصلاح کر کے معاشرتی انقلاب برپا کر دیتے۔ آدھا پاکستان ان کے انقلاب سے مستفید ہوسکتا تھا، مگر اسی کی دہائی میں سیاسی کیئریر کا آغاز کرنے والے خادم اعلیٰ صاحب آج بھی تھانہ و پٹوار کی طاقت پر اقتدار کے مزے لوٹنا چاہتے ہیں اور ان دونوں خباثتوں کی اصلاح کر کے انقلاب برپا نہ کر سکے۔ وہ خونی انقلاب سے ڈراتے رہتے ہیں۔ خادم اعلیٰ پنجاب پھر بھی متحرک ہیں۔ عوام کی فلاح کے لئے تگ و دو کرتے نظر آتے ہیں، جبکہ سندھ، خیبر پی کے اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ تو بالکل صفر ہیں۔ محض شو پیس، ان کے کریڈٹ میں کوئی ادنیٰ سا کارنامہ بھی نہیں کہ جس پر تنقید کی جاسکے۔ چلئے ایسے نایاب عجوبے بھی معاشرے کی خوش ذوقی کے لئے رہنے چاہئیں۔

ہماری موجودہ نوجوان نسل بھی سندھ، سرحد اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتی ہے کہ یہ تینوں صوبے کیوں پسماندگی کا شکار رہے۔ مرکز اور صوبوں میں نفرت کیوں ہے۔ مرکز ان صوبوں پر اپنے مہرے بٹھا کر کیا کھیل کھیلتا رہا۔ پنجاب خوش قسمت ہے کہ اس کا وزیراعلیٰ عوام کی فلاح کے لئے کچھ نہ کچھ کرتا نظر تو آتا ہے۔ بہرحال کام کے نتائچ تو اخلاص اور نیت پر منحصر ہوتے ہیں۔ نہیں نہیں حضور والا ہرگز نہیں، یہ فارمولا ضرور ناکامی سے دوچار ہوگا۔ موروثی سیاسی گروپوں کا گٹھ جوڑ اور موجودہ اقتدار کا فارمولا اگلے عام انتخابات نہیں جتوا سکے گا۔ کیونکہ ان کا مقابلہ عمران خان کی تحریک انصاف سے نہیں، اس بدلتی سوچ سے ہے، جو ایماندار، اہل اور موروثی گروہوں سے پاک قیادت چُننے کا پختہ ارادہ کر چکی ہے۔ دولت سے ایمان خریدنے والے پراپرٹی ٹائیکون کی سازش تو کامیاب نہیں ہو سکی کہ پروردگار جھوٹ کو سچ پر غلبہ نہیں لینے دے گا۔ انشاءاللہ موروثی سیاسی گروہوں کے فارمولے بھی بدترین ناکامی سے دوچار ہوں گے۔ اس مافیا کی اجتماعی شکست کا لمحہ آن پہنچا ہے کہ ہر چیز کی ایک حد ہے۔ جب انسان اس حد کو عبور کرنے لگتا ہے تو منصفوں کا منصف سرکشی کے خلاف اپنا فیصلہ صادر کر دیتا ہے جو فوری نافذ العمل ہوتا ہے۔ ”کیا انسان اس گھمنڈ میں ہے کہ آزاد چھوڑ دیا جائے گا“....(سورة القیمة آیت36) ٭

مزید : کالم