پل کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟

پل کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟

رنگ روڈ پیکیج 8 میں واقع پیدل چلنے والوں کیلئے تعمیر کردہ ایک پل سے ڈمپر ٹرک ٹکرا گیا جس کی وجہ سے ٹرک پل کے نیچے آکر پچک گیا جس سے ڈرائیور موقع پر ہلاک ہوگیا۔ یہ پل صرف تین سال قبل تعمیر ہوا تھا اور بظاہر اس میں فنی تعمیر کی کوئی خرابی نہیں تھی لیکن جب ایک ٹرک 80 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اس کے ساتھ ٹکرایا تو ظاہر ہے اسے نقصان تو پہنچنا ہی تھا لیکن یہ سوال بہرحال اہم ہے کہ یہ کوئی ریت کا گھروندہ تو نہیں تھا، جو یوں دھڑام سے گر پڑتا۔ ماہرین کو اس امر کا جائزہ لیکر حقائق سامنے لانے چاہئیں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے حکم پر تعمیراتی کمپنی کے مالک کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا گیا ہے۔ یہ بات تو غیرجانبدار اور ماہرانہ تحقیقات کے نتیجے میں ہی معلوم ہوگی کہ تعمیر شدہ پل آخر کیوں گر گیا‘ ٹرک کی ٹکر اس کی وجہ بنی یا واقعی اس کی تعمیر میں کوئی خرابی پنہاں تھی لیکن ہم یہاں جس معاملے کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ تمام کے تمام سرکاری تعمیراتی منصوبوں میں کمیشن مافیا اس حد تک چھایا ہوا ہے کہ سرکاری دفاتر میں جو کوئی بھی کسی تعمیراتی منصوبے میں شریک ہے چاہے وہ کوئی چھوٹا افسر ہے یا بڑا، وہ ٹھیکیداروں سے کمیشن لینا اپنا حق سمجھتا ہے۔ کمیشن کے بغیر نہ تو کوئی ٹھیکہ مل سکتا ہے نہ کسی بل کی ادائیگی ہوسکتی ہے۔ عمومی طور پر خیال ہے کہ کسی بھی منصوبے کا کم ازکم ایک چوتھائی حصہ کمیشن کی صورت میں نکل جاتا ہے باقی 75 فیصد (یا اس کے لگ بھگ) رقم میں سے ٹھیکیدار نے بھی منافع کمانا ہوتاہے۔ ایسی صورت میں ظاہر ہے کسی بھی منصوبے پر پوری رقم خرچ نہیں ہوسکتی اس کا اثر بہرحال منصوبے پر پڑے گا۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ حکومت اپنے دفاتر میں کمیشن مافیا کو کنٹرول کرے لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ کراچی میں کچھ عرصہ قبل شیر شاہ ایکسپریس وے کا پل گر گیا تھا جس کی انکوائری ہوئی ذمہ داری کا تعین کیا گیا، یہ بھی طے پا گیا کہ حادثہ ناقص تعمیر کا نتیجہ تھا لیکن کسی کا کچھ نہیں بگڑا جو ذمہ دار تھے وہ اس شعبے میں اسی طرح موجود ہیں اور تعمیراتی کام کر رہے ہیں یہاں پر اس امر کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ آزادی سے پہلے جو پل انگریزوں کے عہد میں تعمیر ہوئے تھے وہ سو سو‘ ڈیڑھ ڈیڑھ سو سال سے ابھی تک قابل استعمال ہیں۔ ایسے کئی پل اپنی متعینہ عمر سے بھی پچاس سو سال زائد عرصہ گزار چکے ہیں اس وقت پلوں میں سریا بھی استعمال نہیں ہوتا تھا۔ پھر بھی یہ انجینئرنگ کا شاہکار تھے اور لمبی عمر پاتے تھے وجہ یہی تھی کہ ان دنوں کمیشن مافیا کا غالباً کوئی تصور نہیں تھا۔ اس لئے ہمارے خیال میں اگر تعمیراتی منصوبوں کو پائیدار بنانا ہے تو کمیشن خوری کا سلسلہ کلی طور ختم کرنا ہوگا، ورنہ وقتی شوروغوغا کے بعد یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا اور حادثات یونہی ہوتے رہیں گے۔

٭٭٭٭٭

مزید : اداریہ