کوئٹہ میں زائرین پر خودکش حملہ

کوئٹہ میں زائرین پر خودکش حملہ

جمعرات کی شام ایران کے سرحدی شہر تفتان سے کوئٹہ آنے والی شیعہ زائرین کی بس کو دھماکہ سے اُڑا دیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اِس مقصد کے لئے بارود سے بھری گاڑی استعمال کی گئی۔ جائے حادثہ کے قریب سے ملنے والے انسانی اجزاءکے معائنے کے بعد اِس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا کہ یہ خود کش حملہ تھا۔ اِس سانحے میں کم از کم 13افراد جاں بحق اور20 سے زائد زخمی ہوئے ، جاں بحق ہونے والوں میں دو عورتیں اور بس کو اسکارٹ کرنے والا ایک اہلکار بھی شامل ہے۔بس میں قریباً50 زائرین سوار تھے، جن میں سے اکثریت کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے تھا۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق رات گئے بظاہر کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ سے رابطہ کر کے اِس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ۔

 بلوچستان میں ایک عرصے سے امن وامان کی حالت نہایت تشویشناک ہے۔بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ چند عناصر صوبے میں امن قائم ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ مذہبی اور قومیتی بنیادوں پر لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔اِس کا مقصد صوبے اور ملک میں افراتفری کی صورت حال پیدا کرنا اور اہل وطن کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں پیدا کرنا نظر آتا ہے۔ آئی جی ایف سی نے چند روز قبل اپنی پریس کانفرنس میں بھی انکشاف کیا تھا کہ صوبے میں بہت سے ممالک کی خفیہ ایجنسیاں سرگرم ہیں۔اُن کے مو¿قف کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے اور اِس پہلو پر بھی غور کرنا چاہئے کہ صوبے کے اِن حالات کو غیر ملکی قوتیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال تو نہیں کر رہیں۔ تاہم اِس صورت حال میں تشویشناک بات یہ ہے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے وہ کارکردگی نہیں دکھا پا رہے، جس کی اُن سے توقع ہے۔ بس پر یہ حملہ ہزار گنجی بائی پاس فروٹ مارکیٹ کے پاس ہوا ہے، یہ ایک مصروف گزر گاہ ہے اور پولیس کی گاڑیاں دن رات اِس علاقے کا گشت کرتی ہیں۔ اِس پس منظر میں دیکھا جائے تو حفاظتی انتظامات کے باوجود اِس حملے کا کامیاب ہونا قانون نافذ کرنے والوں کی ناکامی ہے۔حکومت کو چاہے کہ صوبے میں سیکیورٹی کی صورت حال پر خصوصی توجہ دے تاکہ مستقبل میں اِس قسم کے واقعات کا تدارک کیا جاسکے۔

یہ بات واضح ہے کہ ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ اِس سال اب تک مختلف واقعات میں اِس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے قریباً60 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ممکن ہے کہ ان واقعات کے پیچھے کوئی غیر ملکی قوت کار فرما ہو، لیکن یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ آلہ کار ہمارے اپنے ملک سے تعلق رکھنے والے افراد ہی بنتے ہیں۔ اِن حالات میں ضروری ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اُن لوگوں کی طرف بھی توجہ دیں، جو ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینے میں کردار ادا کررہے ہیں۔ ملک میں بہت سی درس گاہیں ایسی ہیں جہاں طالب علموں کے دلوں میں فرقہ واریت کا زہر گھولا جارہا ہے۔ ملک بھر میں ایسا لٹریچر بھی عام ہے، جو مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والوں کو دوسرے فرقوں کو نشانہ بنانے پر اُکساتا ہے۔ اِس طرف توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کوئی بھی مسلمان کسی بھی انسان کا ناحق خون نہیں کر سکتا، یہ حملے کرنے والے اور ان کی تلقین کرنے والوں کو کسی صورت بھی اسلام پر کاربند یا محب وطن نہیں کہا جا سکتا۔ حکومت کو چاہے کہ وہ اُن لوگوں کی نشاندہی کرے، جو اہل وطن کو ایک دوسرے کے خلاف متشدد رویہ اختیارکرنے پر اُکسانے میں مصروف ہیں۔ علما کرام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ فرقہ واریت ختم کرنے میں اپنا مو¿ثر کردار ادا کریں۔

اخباری اطلاعات کے مطابق لشکر جھنگوی نے اِس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اِس بات کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ کیا یہ بات درست ہے یا یہ بھی مختلف فرقوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس ملک کے ہر شہری کا اس سرزمین پر برابرحق ہے۔ تمام شہریوں کے جان ومال کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ریاست اپنی یہ ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ اس سے زیادہ تشویشناک ا مر یہ ہے کہ بلوچستان میں حکومتی سطح پر حالات کی دُرستی کے لئے کوئی بے چینی بھی نظر نہیں آ رہی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی شاذو نادر ہی اپنے صوبے کا رُخ کرتے ہیں کہ اُن کا زیادہ تر وقت اسلام آباد میں ہی گزرتا ہے۔ بلوچستان کے حالات اِس بات کے متقاضی ہیں کہ انتظامیہ کو فعال بنایا جائے۔ امن و امان کو متاثر کرنے والے عناصر کو بے نقاب کیا جائے اور انہیں کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ امید ہے اب اِس حوالے سے حکومتی سطح پر بھی سرگرمی نظر آئے گی۔ فرقہ واریت کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے عناصر کی سرکوبی کی جائے گی اور غیر قانونی اسلحے پر قابو پانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ اہل سیاست کے لئے بھی یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ عہدے صرف مراعات حاصل کرنے کے لئے نہیں ہوتے، بلکہ ان کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت اور حفاظت ہے۔

مزید : اداریہ