اپنے فیصلے آزادانہ کرتے ہیں قطر میں مذاکرات کیلئے پاکستان سے اجازت نہیں لی افغان طالبان

اپنے فیصلے آزادانہ کرتے ہیں قطر میں مذاکرات کیلئے پاکستان سے اجازت نہیں لی ...

کابل(این این آئی)افغان طالبان نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے افغانستان میں ایک ممکنہ امن معاہدے کےلئے امریکہ سے مذاکرات کےلئے قطر میں اپنے نمائندے بھیجنے کی پاکستان سے اجازت لی تھی ¾ وہ اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کرتے ہیں۔طالبان کی ویب سائٹ پرشامل کئے گئے ایک بیان کے مطابق وہ تمام معاملات میں اپنی ذاتی پسند ، اسلامی قوانین کی روشنی اور قومی مفاد کے تحت فیصلے کرتے ہیں اور قطعی طور پر یہ کہتے ہیں کہ اسلامی امارات کے نمائندے پاکستان کے کہنے پر قطر نہیں گئے۔ دوسری جان بغیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان میں پاکستان کے سفیر محمد صادق نے کہا کہ ان کی حکومت نے افغانستان میں ایک ممکنہ امن معاہدے کی تائید کی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے چند طالبان کو اس کام کے لئے خلیج کے سفر کی اجازت دی تھی۔اوبامہ حکومت کی جانب سے افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت اورطالبان کے درمیان فوری امن مذاکرات کی امید اس وقت ماند پڑگئی جب مارچ میں طالبان نے امریکی سفارتکاروں کی نگرانی میں کئے جانے والے مذاکرات سے انکار کردیا تھا۔امریکی عہدیداروں کو امید تھی کہ طالبان سے ان کی ابتدائی ملاقات کے بعد گوانتا نامو بے میں قید طالبان رہنماﺅں اور طالبان کی قید میں موجود امریکی سپاہی کی تبادلہ رہائی کی راہ ہموار ہوگی اور آخرکار تمام افغان فریقین کے درمیان مستحکم امن کی گفتگو شروع ہوگی۔

مزید : صفحہ آخر