گیس کی قلت اورلوڈشیڈنگ دوبارہ شروع، گھریلو صارفین شدید متاثر

گیس کی قلت اورلوڈشیڈنگ دوبارہ شروع، گھریلو صارفین شدید متاثر

لاہور(خبرنگار)شہر میں ایک مرتبہ پھر گیس کی قلت پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے اور شہرکے اکثر علاقوں میں صبح 6بجے سے صبح 9بجے تک اور شام کو 4بجے سے 7بجے تک گیس کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس پر گھریلو صارفین کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پاکستان کو صارفین کی جانب سے ملنے والی شکایات میںاش مغلپورہ، غازی آباد، صدر کینٹ، ہربنس پورہ اور فتح گڑھ سمیت سمن آباد اور ساندہ کے علاقوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کررکھا ہے اور گیس صارفین کا کہنا ہے کہ گیس صبح 6بجے غائب ہو جاتی ہے اور ناشتے کے اوقات میں صبح 8سے 9بجے تک گیس کا پریشر ڈاﺅن رہتا ہے جبکہ اس کے بعد شام کے اوقات میں 4بجے سے 7بجے تک گیس کا پریشر مستقل طور پر ڈاﺅن ہو جاتا ہے جس کے باعث کھانا تیار نہیں ہو پاتا ہے اور مجبوراً بیکریوں یا تندور اور ہوٹلوں سے کھانے پینے کی اشیاءلانا پڑتی ہیں جس میں ناقص کھانے پینے کی اشیاءنے بیماری میں مبتلا کر کے رکھ دیا ہے، پاکستان نے اس حوالے سے گزشتہ روز مختلف علاقوں کا سروے کیا تو غازی آباد عثمان نگر مین بازار نمبر 5کے رہائشی امجد علی چیمہ، دکاندار افتخار علی بھولا، اسلم اور مہر نیامت علی نے بتایا کہ محلہ عثمان نگر میں گیس کی لوڈ شیڈنگ نے شدید پریشانی سے دوچار کر کے رکھ دیا ہے جبکہ محلہ ریاض پورہ گلی نمبر 2کے رہائشی انور حسین، جعفر علی خان، دکاندار شوکت علی، دکاندار جہانگیر،نیامت علی اور نسرین بی بی، کوثر بی بی، سکینہ بی بی سمیت عظمت علی اور احسان نے بتایا کہ گیس کھانا تیار کرنے کے اوقات میں غائب ہو جاتی ہے اور اگر صورتحال پر کنٹرول نہ کیا گیا تو ماہ رمضان المبارک میں گیس کی لوڈ شیڈنگ ایک خطرناک صورتحال ثابت ہوگی، صارفین نے ایم ڈی سوئی گیس کمپنی اور جی ایم سوئی گیس لاہور سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر قابو پایاجائے۔

مزید : ایڈیشن 1