تیس جون کا آخری منٹ 61 سیکنڈ کا ہوگا

تیس جون کا آخری منٹ 61 سیکنڈ کا ہوگا

پیرس (ثناءنیوز ) مغربی خبر رساں ادارے کے مطابق تیس جون سن 2012 کے آخری منٹ کا اصل دورانیہ ساٹھ نہیں بلکہ اکسٹھ سیکنڈز کا ہوگا۔ وقت کی پیمائش پر نگاہ رکھنے پر ماہرین یا ہورولوجسٹس (Horologists) نے اس دن کے آخری منٹ میں ایک سیکنڈ کا اضافہ تجویز کیا ہے۔وقت کی پیمائش اور حساب کتاب سے متعلق دیگر معاملات کے نگران سائنسدانوں کو ہورولوجسٹ کہا جاتا ہے اور رواں ماہ کے اختتام پر ہفتے کے روز علم الساعت کے ماہرین نے ایک منفرد امر تجویز کیا ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق کے مطابق زمین کو سورج کے گرد ایک مرتبہ گردش مکمل کرنے کے لیے مجموعی طور پر 86,400 سیکنڈز اور مزید ایک سیکنڈ کا کچھ حصہ درکار ہوتا ہے جو کہ ایک دن کے برابر ہوتا ہے۔ البتہ سورج اور چاند کی کشش ثقل کے نتیجے میں زمین اپنے محور پر ایک نامحسوس انداز میں ڈولتی رہتی ہے۔ اس حرکت کے نتیجے میں انٹرنیشنل اٹامک ٹائم اور سولر ٹائم کے درمیان فرق پیدا ہو جاتا ہے اور اسی فرق کو ایک مخصوص حد کے اندر اندر رکھنے کے لیے سائنسدان ایسا قدم اٹھاتے ہیں۔انٹرنیشنل اٹامک ٹائم اور سولر ٹائم کے درمیان کا فرق طے کرنے کے لیے کوآرڈینیٹڈ یونیورسل ٹائم کی مدد حاصل کی جاتی ہے۔ جب کبھی نصب شدہ آلات اور پیچیدہ مراحل کے ذریعے ملنے والی معلومات سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے کہ وقت میں اضافہ کیا جائے، تو کوآرڈینیٹڈ یونیورسل ٹائم میں اس باعث ایک سیکنڈ کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔وقت میں لیپ سیکنڈ کے اضافے کا یہ سلسلہ 1972 ءمیں شروع ہوا تھا اور رواں ہفتے کے اختتام پر تاریخ میں پچیسویں مرتبہ سائنسدان یہ قدم اٹھائیں گے۔ اس سے قبل گزشتہ 14 برسوں کے دوران سن 2008ء، 2005 ءاور سن 1998 میں بھی کوآرڈینیٹڈ یونیورسل ٹائم میں لیپ سیکنڈ کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ اضافہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر صرف اکتیس دسمبر یا پھر تیس جون کو ہی کیا جا سکتا ہے۔وقت میں اس اضافے کے بعد دنیا بھر میں موجود کمپیوٹرز کے وقت میں بھی تبدیلی کی ضرورت پڑے گی کیونکہ کمپیوٹرز اور دیگر آلات میں یہ اضافہ آٹومیٹک نہیں ہوتا۔ اے ایف پی کے مطابق سیٹلائٹس اور دیگر تکنیکی سسٹمز کو بھی لیپ سیکنڈ کی وجہ سے درست کرنا ہو گا۔

مزید : صفحہ اول