صدارتی محل میں رہنے کی آرزو نہیں ، مصرکے عوام خاتون اور نہ کہیں،نجلہ علی محمود

صدارتی محل میں رہنے کی آرزو نہیں ، مصرکے عوام خاتون اور نہ کہیں،نجلہ علی ...

قاہرہ (خصوصی رپورٹ) مصر کے عوام نئی خاتون اول 50 سالہ نجلہ علی محمود کے شخصی تاثر کے حوالے سے مختلف گروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ وہ ایک آئیڈیل مسلمان عورت کی بھرپور اور مکمل تصویر ہیں جو اپنے آپ کو سر سے پاﺅں تک ڈھانپ کررکھتی ہیں۔ سادگی اور عاجزی کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے مصر کی ”فرسٹ لیڈی“ کا ٹائٹل اپنے نام کاحصہ بنانے سے یکسر انکار کردیا ہے۔ غیر ملکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بعض مصریوں کا خیال ہے کہ نجلہ علی محمود کودیکھ کر کسی طرح بھی نہیں لگتا کہ وہ مصر کی خاتون اول ہیں۔ ان کا یہ بھی مو¿قف ہے کہ ان کا حلیہ مصری خواتین کی نمائندگی نہیں کرتا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نجلہ علی محمود نے کسی کالج میں رسمی تعلیم حاصل نہیں کی ۔ وہ اپنے خاوند کے نام کاآخری حصہ بھی نہیں پکارتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے خاتون اول کی بجائے اُ م احمد کہا جائے۔ احمد ان کے سب سے بڑے بیٹے کا نام ہے۔ رائج مصری روایات کے مطابق وہ اسی نام سے پکارے جانے کوترجیح دیتی ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ نجلہ علی محمود سابق صدرحسنی مبارک کی بیگمات سوزانے مبارک اور جہان السعادت سے یکسر مختلف ہیں۔ وہ برطانوی طرزکا فیشن کیا کرتی تھیں اور ان کے پاس مختلف ایڈوانس اداروں کی ڈگریاں تھیں۔ رپورٹ کے مطابق مصر جو اس وقت مختلف محاذوں پر ثقافتی جنگ لڑ رہا ہے ایسے میں صدر محمود مورسی کی اہلیہ کا یہ روپ اتحاد اور یگانگت کی علامت ثابت ہوسکتا ہے۔ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ام احمد اس جمہوری انقلاب کا پیکر بھی بننا چاہتی ہیں جس کے وعدے تبدیلی کی جنگ کے دوران کئے گئے تھے۔ وہ ایک ایسی خاتون ہیں جو صدارتی محل میں عوام کے لئے اپنی ماں اور بہن کی شبیہ کی طرح ہیں۔ مصر میں مغربی روایات کے پیروکاروں کاخیال ہے کہ وہ محض قدامت پسندی کی تصویر ہیں۔ تاہم ان کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ اس طرح اسلامی بھائی چارے کا ایک عظیم الشان مظاہرہ سامنے آرہا ہے۔ مصری خاتون اول کا امیج مختلف ویب سائٹس پر بھی لوگوں میں بحث مباحثہ کا پسندیدہ موضوع بن چکا ہے۔ اخبارات میں بھی کالم لکھے جارہے ہیں۔ کالم نگار کا کہنا ہے کہ مصر کے صدر کی اہلیہ کو موجودہ حلئے میں اگر مختلف ممالک کے عالمی سربراہوں کو ملنا پڑا تو خاصی عجیب صورتحال سامنے آسکتی ہے۔ اخبارات کا کہنا ہے کہ اگر انہیں مصافحہ کرنا پڑا تو مضحکہ خیز کیفیت بنے گی۔ مصر کے اخبارات میں نجلہ محمود کے مختلف بیانات سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے ہر انٹرویو میں کہا ہے کہ مجھے خاتون اول ہرگز نہ کہا جائے بلکہ خادم اول کہہ کر پکارا جائے تو زیادہ خوشی ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ میں صدارتی محل میں رہنے کی خواہشمند نہیں ہوں اور نہ ہی مجھے پرتعیش زندگی گزارنے کی کوئی تمنا ہے۔

مزید : صفحہ اول