حکومت اور مسیحا آمنے سامنے ، فوجی ڈاکٹر آگئے ، نئی بھرتیوں کا فیصلہ، آئینہ دکھانے پر ینگ ڈاکٹرز کا میڈیا نمائندوں پر تشدد، مقدمہ درج

حکومت اور مسیحا آمنے سامنے ، فوجی ڈاکٹر آگئے ، نئی بھرتیوں کا فیصلہ، آئینہ ...
حکومت اور مسیحا آمنے سامنے ، فوجی ڈاکٹر آگئے ، نئی بھرتیوں کا فیصلہ، آئینہ دکھانے پر ینگ ڈاکٹرز کا میڈیا نمائندوں پر تشدد، مقدمہ درج

  

لاہور،راولپنڈی ، رحیم یارخان(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجا ب حکومت اور ینگ ڈاکٹرز کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں اور حکومت نے ہڑتال کے خاتمے تک آئندہ کوئی مذاکرات نہ کرنے کافیصلہ کیاہے ۔پنجاب حکومت کی درخواست پر آرمی میڈیکل کور نے 150ڈاکٹروں کی خدمات صوبائی حکومت کے سپرد کردی ہیں ۔حکومت پنجاب نے بھرتی ہونے والے ڈاکٹروں کے لیے نیا حلف نامہ بھی تیار کرلیاہے اور ہڑتالی ڈاکٹروں کا لائسنس معطل کرنے اور ایک ہزار ڈاکٹر بھرتی کرنے کا فیصلہ کرلیاہے ۔دوسری طرف ینگ ڈاکٹروں نے حکومتی اقدامات کو نظرانداز کرتے ہوئے ایمرجنسی بند کرنے کی دھمکی دے دی اور پانچ جولائی کو ایوان وزیراعلیٰ کا گھیراﺅ کرنے کا اعلان کردیا۔رحیم یارخان میں کوریج کرنے والی میڈیا ٹیموں کو بھی ینگ ڈاکٹروں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔حکومتی اقدامات اور تمام تر صورتحال کو دیکھتے ہوئے کچھ ڈاکٹروں نے کام کرنے کے لیے محکمہ صحت سے رابطہ بھی کیاہے۔ 13روز کی کھینچا تانی کے بعد آج لاہور میں وزیراعلیٰ کے طرف سے ینگ ڈاکٹروں کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے جو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے جس کے بعد حکومت پنجاب نے آئندہ ہڑتال کے خاتمے تک ینگ ڈاکٹروں سے مذاکرات نہ کرنے کافیصلہ کرلیاہے۔حکومت نے ہڑتالی ڈاکٹروں کے لائسنس معطل کرنے پر بھی غو رشروع کردیاہے ۔ پنجاب حکومت نے ڈاکٹرز کی ہفتہ وار دوچھٹیاں ختم کرتے ہوئے تمام ڈاکٹرز اورمیڈیکل عملے کو کل ہسپتالوں میں طلب کرلیا ہے جس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔حکومت نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ مریضوں کو ریلیف دیا جاسکے۔ پنجاب حکومت کے ترجمان کے مطابق فوری طور پرایک ہزار ڈاکٹر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس ضمن میں دوسرے صوبوں سے آنے والے ڈاکٹروں کو بھی خوش آمدید کہیں گے۔حکومت نے ڈاکٹروں کو ہڑتال پر اکسانے والوں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کرلیاہے جبکہ سینئرز کو ینگ ڈاکٹروں کا ساتھ نہ دینے پر آمادہ کرنے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔دوسری طرف راولپنڈی میں آل پنجاب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے پانچ جولائی جمعرات کووزیراعلیٰ ہاﺅس کے گھیراﺅ کااعلان کرتے ہوئے ایمرجنسی بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے ۔ینگ ڈاکٹرز کاکہنا تھاکہ صورتحال جوں کی توں رہی تو وہ ایمرجنسی بھی بند کردیں گے اور تمام تر حالات کی ذمہ دارحکومت ہے ۔ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث پنجاب حکومت نے بھرتی ہونے والے نئے ڈاکٹرز کے لیے نیا حلف نامہ بھی تیارکرلیاہے جس کے تحت454 کے قریب نئے ڈاکٹرز حلف اٹھائیں گے جس میں ہڑتال نہ کرنے کی نئی شق شامل کی گئی ہے۔نئے ڈاکٹرز کے حلف اٹھا لینے کے بعد ہڑتالی ڈاکٹرز برطرف کیاجاسکتاہے جبکہ یہ ڈاکٹر ز آرمی میڈیکل کور کے ساتھ مل کر کام کریں گے ۔حکومتی اقدامات کے بعد کچھ ہڑتالی ڈاکٹرزنے فرائض سرانجام دینے کے لیے محکمہ صحت سے رابطہ کرلیا ہے جنہوں نے کام کرنے کا عندیہ دیاہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق حکومت پنجاب کی درخواست پر آرمی میڈیکل کور کے 150ڈاکٹروں کی خدمات حکومت پنجاب کے سپرد کردی گئیں ہیں جو آرمی کے یونیفارم میں اپنے فرائض سرانجام دیں گے تاہم ہسپتالوں کا انتظام و انصرام پنجاب حکومت کے پاس ہی رہے گا۔اُدھر رحیم یا ر خان میں میڈیا کی ٹیموں پر تشدد کرنے والے 42ڈاکٹروں کے خلاف تھانہ سٹی اے ڈویژن میں مقدمہ درج کرلیاگیاہے جس میں 12نامزد اور 30نامعلوم ڈاکٹرشامل ہیں۔

مزید : لاہور /اہم خبریں