سازشوں پر نظر رکھنا ہو گی

سازشوں پر نظر رکھنا ہو گی
سازشوں پر نظر رکھنا ہو گی
کیپشن: pic

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اُڑنے والا پرندہ کسی سانحہ یا طوفان کی بدولت اونچائی سے نیچے گر کر زخمی ہو جائے تو پھر فطری طور پر وہ زخموں سے ٹھیک ہو کر بھی دوبارہ زیادہ بلندی پر نہیں اُڑا کرتا، کیونکہ جونہی وہ اس سطح پر پہنچتا ہے ،اسے نیچے گر جانے کا خوف گھیر لیتا ہے۔چند ہفتے قبل جب لندن میں پاکستان مسلم لیگ قائداعظم اور علامہ طاہر القادری کی جماعتوں میں اتفاق کا چارٹر تیار ہوا تو ان خبروں پر رانا ثناءاللہ ،سعد رفیق اور خواجہ آصف کے بہت ہی عجیب و غریب بیانات سامنے آئے۔ ہمارے ان پڑھ ووٹروں کو ان کے بیانات کی وجہ سے ہی چودھری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی کی لندن سرگرمیوں کا علم ہوا۔مجھے بتانے والوں نے بتایا کہ اس وقت جناب شعیب بن عزیز کی میڈیا ٹیم نے ان سارے بیانات کے تسلسل کو روکا، بلکہ سختی کے ساتھ انہیں بند کرایا کہ حکومتی کارندے چودھری پرویز الٰہی کی مشہوری کیوں کریں، چنانچہ یہ سلسلہ بند ہو گیا اور چینلوں پر بھی ان حکومتی بیان بازوں کے بیانات روک دیئے گئے اور اخبارات میں بھی اس موضوع پر ان ”نگینوں“ کے کم کم ہی ارشادات دیکھنے کو ملے۔
آپ کو بتاتا چلوں کہ میڈیا دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔اگر احتیاط کے ساتھ اس کا استعمال کریں تو نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم کی طرح چند الفاظ بھی صفحہ اول پر شائع ہوتے تھے، حالانکہ ان کی سیاسی پارٹی تانگہ کی پارتی کہلاتی تھی، بلکہ اس چارپائی کے اردگرد تک ہی محدود تھی ،جس پر بیٹھ کر نواب صاحب حقہ کے کش لیتے رہتے تھے، کیونکہ وہ ہمیشہ موقع محل کے اعتبار سے اور وقت کوسامنے رکھ کر ہی بیانات جاری کرتے تھے، جبکہ انہی کے ہم پلہ سیاست دان کنونشن لیگ کے سابق جنرل سیکرٹری ملک محمد قاسم روزانہ نہیں تو ہفتہ میں پانچ دن تسلسل کے ساتھ پریس کانفرنسیں کرتے تھے، لیکن ان کی خبر چند سطروں میں محض اندر کے صفحات پر شائع کی جاتی تھی، جبکہ پریس ٹرسٹ کے اخبارات تو ان پریس کانفرنسوں کی خبریں سرے سے شائع ہی نہیں کرتے تھے۔
خدا خدا کرکے ان بیان بازوں کے بیانات کہ جنہیں اب پاکستان بھر کے عوام محض مذاق میں ہی لیتے ہیں جان چھوٹی تھی کہ یہ منہاج القرآن والا حادثہ پیش آیا۔ اس حادثہ کی وجوہات یا ذمہ داروں کا تعین تو شاید کبھی نہ ہو سکے، منہاج القرآن کے سلسلے میں جو واقعہ رونما ہوا ہے، اس پر ہرگز بیان بازی کی ضرورت نہ تھی، ثناءاللہ کی جو عزت و تکریم ایک وکیل کے حوالے سے اس کے اپنے شہر میں ہے، اس کے بارے میں کیا فیصل آباد میں تعینات ہمارے تعلقات عامہ کے افسروں کو علم نہیں ہے۔ خدا معلوم یہ خدا کا بندہ خود کو یوں اس حالت میں لاتا ہے کہ جس سے اس کے بیانات اُلٹا اس کی اپنی پارٹی اور اس کے اپنے ہی کارکنوں میں بھی پسند نہ کئے جائیں۔
لاہور کا حادثہ بالکل ایسا ہی ہے ،جیسا کہ 2008ءمیں زلزلہ آیایا 1993ءمیں سیلاب آیا اور اس سے تباہی ہوئی۔پولیس جو بھی جنگلہ جات ہٹانے گئی تھی، اس پر ظاہر ہے کہ پہلے نوٹس دیا گیا ہوگا۔تعمیل نہ کرنے پر ہی انتہائی قدم اٹھایا گیا ہو گا۔ویسے بھی اچھی شہرت کے حامل افسران وزیراعلیٰ کی کبھی نہیں مانتے۔اس شہر کو تجاوزات سے پاک کرنے کے لئے جب یہ ساری کارروائیاں مارشل لاءکے دور میں کی جاتی تھیں تو نہ تو کسی ٹریڈ یونین والے کا بیان سامنے آتا تھا اور نہ ہی یوں میڈیا میں اسے اچھالا جاتا تھا۔سب کی ماں مری ہوتی تھی۔ آج جب یہ سارا کام پرائیڈ آف پرفارمنس D.G ایل ڈی اے احد چیمہ کررہے ہیں تو وہ سب کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے ۔ حادثے کو حادثہ کی طرح ہی لینا چاہیے۔ تجاوزات گرانے والوں پر جب آگے سے پتھر برسائے جائیں گے تو پھر فورس کو اپنے بچاﺅ کے لئے ہتھیاروں کا استعمال بے جا ہرگز نہیں کہلائے گا۔ ظاہر ہے کہ سینکڑوں بندوقوں سے ہزاروں ہوائی فائر کئے گئے ہوں گے۔
ہر سپاہی کو جو کارتوس ملتے ہیں، وہ گنے چنے ہوتے ہیں۔ ان کی تعداد لکھی ہوتی ہے اور واپس آنے پر انہیں ہر کارتوس کا حساب دینا پڑتا ہے۔ یہ حساب کتاب ہو رہا ہو گا۔ تعداد بھی گنی جارہی ہو گی۔ اگر دو چار ہزار کارتوس ہوائی فائرنگ میں چلائے جائیں اور سامنے سے پتھراﺅ بھی ہو رہا ہو تو مدافعت میں جمع ہونے والے زخمی بھی ہو سکتے ہیں اور حادثاتی طور پرمارے بھی جا سکتے ہیں۔آپ اپنے بچاﺅ میں جو قتل کرتے ہیں، وہ قابل معافی ہوتا ہے۔ مغربی پاکستان کے گورنر نواب آف کالاباغ ملک امیر محمد خان کا جب قتل ہوا تو ان کے بیٹے نے پولیس کو بتایا کہ جب اس کے باپ نے پستول اس پر تان کر فائرنگ کرکے اسے مارنے کی کوشش کی تو پھر آگے سے اپنے بچاﺅ میں اس نے بھی باپ پر فائر کردیا،جس سے باپ کی موت واقع ہو گئی۔لاہور ہائیکورٹ کے جج محمد افضل خان نے اس مقدمہ کی سماعت کی اور بیٹے کو اپنے بچاﺅ میں گولی چلانے پر اس کے اس عمل کو جائز قرار دیتے ہوئے ملک اسد خان ملزم کو باعزت بری کردیا۔

ٹھیک ایسی ہی کیفیت یہاں پیدا ہوئی اور جنگلہ ہٹانے والوں پر جب چاروں اطراف سے پتھر برسے تو انہوں نے بھی اپنی جان بچانے کے لئے ہوائی فائرنگ کی۔ہو سکتا ہے اس فائرنگ کی کئی گولیاں مجمع میں سو دو سو لوگوں کو لگ گئی ہوں، لہٰذا ان کا زخمی ہو جانا یا گولی لگ جانے سے مر جانا کوئی نئی بات نہیں۔یہ ایک انہونی امر تھا۔ایک اچانک واقعہ تھا جو رونما ہوا اور اب ہم سب مل کر اس کی لکیریں پیٹنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ چینلوں پر،اخبارات میں ہر طرف انہی معاملات کا چرچہ ہے۔دنیا لگتی ہے اس ایک نکتے پر آکر ٹھہر سی گئی ہے۔یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ متاثرین کے خاندانوں کی فکر ضروری ہے۔ان کی دیکھ بھال ضروری ہے۔ اس کے لئے تو علامہ طاہرالقادری نے کہہ دیا ہے کہ وہ سب کوائف جمع کر رہے ہیں اور ان خاندانوں کی کفالت کریں گے۔ ادھر حکومت نے بھی 30لاکھ فی کس کے حساب سے مرنے والوں کے لئے امداد جاری کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن بیان باز پھر بھی بیان بازی سے باز نہیں آ رہے۔ ایسا کر کے وہ پنجاب کے اس وزیراعلیٰ کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو پارٹی کی صفوں میں اب آنے والے وقتوں میں اپنے بھائی کے ریٹائر ہونے کے بعد پارٹی کا سربراہ بننے چلا ہے اور جسے سب لوگ پاکستان کا ایک طاقت ور ترین وزیراعظم دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔
یہ وہ شخص ہے،جس نے بیکری والے سے مارپیٹ پر اپنے ہی داماد عمران یوسف کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا حکم دے دیا تھا اور جس نے لفظ سفارش کبھی برداشت ہی نہیں کیا۔ رہا احد چیمہ کا معاملہ تو برادرم شعیب بن عزیز پہلے بھی اسے سیکرٹری اطلاعات پنجاب لگانے کا کہہ چکے ہیں، لیکن اس وقت چونکہ ابھی میٹروبس کا منصوبہ مکمل نہیں ہوا تھا، اس لئے تعیناتی نہ ہو سکی۔ بہرحال اب یہ تعیناتی ہو گئی تو محکمہ کو ایک پرائیڈ آف پرفارمنس کی خلعت والا سیکرٹری مل جائے گا۔جناب شعیب اس بات کی بھی فکر نہ کریں کہ شہباز میاں جب وزیراعظم بن جائیں گے تو لاہور سے اسلام آباد کا فاصلہ بڑھ جائے گا۔انشاءاللہ وہ پنجاب کا بھی اضافی چارج اپنے پاس ہی رکھیں گے۔ٹھیک اس طرح جس طرح چودھری پرویز الٰہی نے ان کے کہنے پر فرخ شاہ کو اپنا مشیر ہوتے ہوئے پنجاب کے ڈی جی پی آربھی اضافی چارج دیا تھا۔ یہ وہی محکمہ ہے جس کی شب و روز کی محنت نے وزیراعلیٰ نواز شریف کو وزیراعظم تک پہنچایا تھا اور پھر انہی دیکھتی آنکھوں نے دیکھا کہ فرخ شاہ کے زمانہ میں اسے کس طرح بے توقیر کر دیا گیا اور کس طرح اسے قبرستان بنا دیا گیا۔ محکمے ہوں یا حکومتیں انہیں چلانے والے ہی ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں، لہٰذا برادرم شعیب جناب شہباز میاں کو کمزور نہ ہونے دیں، کیونکہ اس طرح سے چپراسی نما سی ایس پی افسران اور پولیس ان پر جھپٹ پڑے گی۔وہ آج بھی ٹھنڈے کمروں میں جو باتیں قہقہوں سمیت کررہے ہیں، انہیں سنیں اور توجہ دیں اور کبھی کسی جونیئر کو سینئر پوسٹ پر مت رکھیں۔

پنجاب اب کمزوری کی علامت نہیں بن سکتا۔ پورے پاکستان کی بقاءاور ترقی کا دارو مدار اس صوبہ کی بقائ، ترقی اور جانداری پر ہے۔ یہ حادثہ دراصل میاں شہباز کو کمزور کرنے کی ایک ٹھیک ٹھاک اور باریک سازش ہے، ورنہ پنجاب کو تو بہاولپور اور ملتان صوبہ بنا کر پہلے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کا کام تقریباًمکمل تھا، لیکن کاغذی کارروائی کے ساتھ فنڈز بھی درکار تھے جو امریکہ نے مہیا نہ کئے۔ یوں پنجاب بے سروسامانی کی کیفیت سے بچ گیا، جس زرداری کو میاں صاحب ”اپنا“ خیال کرتے ہیں، وہ کب پنجاب کے حق میں تھا۔ پنجاب سے تو پیپلزپارٹی روز اول سے بدلے لے رہی ہے۔کبھی سال سال کے وزیراعلیٰ لگا کر اور کبھی عارف نکئی جیسے لوگوں کو لگا کر ، اب ذرا پنجاب والے چین کی نیند سونے لگے تھے تو اب نئی سازشیں سامنے لائی جا رہی ہیں، اگر میرٹ پر ہی اس سازش کا مقابلہ کیا جائے تو پنجاب بڑی تباہی سے بچ جائے گا۔ٹربیونل ایک بنائیں یا دس، جو واقعات جس جس ترتیب سے رونما ہوئے ہیں، ان کی وجوہات بھی نہ بدل سکیں گی اور نہ ہی ایکشن کبھی دوبارہ اس مشکل میں ہو سکے گا،لہٰذا پنجاب والے بھی اب افہام و تفہیم کی ہی پالیسی انپائیں تو آگے کا سفر زیادہ آسان ہو جائے گا۔
علامہ طاہرالقادری جب کرشن نگر(اسلام پورہ لاہور) سے اتفاق مسجد کے خطیب بنے تو میاں برادرز کے والد مرحوم میاں شریف نے دینی تعلیمات کے لئے بچوں کو ان کے سپرد کیا۔آج میاں نوازشریف اور شہبازشریف جتنی بھی دینی تعلیم کے حامل ہیں، اس کے سلسلے میں علامہ طاہر القادری کی خدمات کو وہ آج بھی یاد رکھتے ہیں۔یہ وہ وقت تھا جب علامہ طاہر القادری کی وی سی آر کی کیسٹ دو تین سو روپے فی کیسٹ ملتی تھی۔ ان کیسٹوں میں دینی معاملات پر طاہر القادری کی تقاریر بے حد دلچسپی سے سنی جاتی تھیں۔ حد یہ تھی کہ 80ءکی دہائی میں یہ وی سی آر کیسٹیں ہزاروں ہی نہیں، بلکہ لاکھوں کی تعداد میں غیر ممالک میں فروخت کی جاتی تھیں۔یہ وہی دور تھا جب میاں نوازشریف نے وزیرخزانہ وٹیکیشن پنجاب بن کر تجارت سے سیاست کی طرف پلٹا کھایا تھا اور وہ پھر رات دن سیاست میں خدمت کے جذبہ کے ساتھ آگے بڑھتے گئے۔یہ وہی دور تھا، جب وہ سڑک کنارے پتھر توڑتے مزدوروں کو روٹی کھاتے دیکھتے تو گاڑی رکوا کر ان کے پاس جا بیٹھتے اور ان کے ساتھ روٹی اور گُڑ کھاتے۔ان کے 1990ءمیں جلسہ جلوسوں کا یہ عالم تھا کہ ہزاروں لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے ان کی کار کے ساتھ دوڑتے رہتے تھے۔علاقہ خواہ ہزارہ، ایبٹ آباد ہو۔ سوات ہو یا چترال، ساہیوال ہو یا کوٹ مومن، کندری کوٹ غلام محمد آباد ہو یا مزار قائداعظم کراچی سب جگہ لاکھوں کا مجمع انہیں دیکھنے اور ان کی تقریر سننے کے لئے موجود ہوتا تھا۔ٹھیک اس عرصہ میں طاہرالقادری نے مقبولیت حاصل کی،اب جبکہ آنے والے وقتوں میں پاکستان کو نسبتاً زیادہ مضبوط جمہوری حکومت کی ضرورت ہے،اس کی مخالف قوتیں ہمارے اس وطن کو پھلتا پھولتا اور ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتیں، لہٰذ ہر آئے دن کوئی نہ کوئی سازش اور نت نیا فتنہ شروع کرا دیا جاتا ہے۔میڈیا کی ذمہ داریاں اب زیادہ بڑھ گئی ہیں اور اب انہیں ہر قدم بہت ہی چھان پھٹک کر رکھنا ہوگا، تاکہ کوئی اس تیز دھار آلے کو پاکستان کے خلاف نہ استعمال کر جائے۔ ٭

مزید :

کالم -