رمضان المبارک: اللہ کی رحمتوں کے نزول کا مہینہ

رمضان المبارک: اللہ کی رحمتوں کے نزول کا مہینہ
 رمضان المبارک: اللہ کی رحمتوں کے نزول کا مہینہ
کیپشن: ramzan

  


مسلمانوں کے لئے نہایت ہی مقدس مہینہ رمضان المبارک آج شروع ہو چکا ہے۔ اس مقدس مہینے میں اللہ کی رحمتوں کا نزول پہلے سے کہیں زیادہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس لئے پوری امت مسلمہ میں اس مہینے کا نہایت احترام کے ساتھ خیر مقدم اور استقبال کیا جاتا ہے اور مظلوم انسانیت کیلئے ہر سال پوری دنیا پر رمضان المبارک کا مقدس مہینہ سایہ فگن ہوتا ہے اور پوری دنیا کے مسلمان اس مبارک مہینے کا استقبال کرتے ہیں اور اسی ماہ مقدس میں ایک ر ات ایسی بھی آتی ہے جو ہزار مہینوں کی عبادات سے افضل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے روزے کو فرض اور رات کے قیام کو نفل قرار دیا ہے جو کوئی بھی رمضان میں اللہ کا قرب حاصل کرے گا ایسا ہی ہے کہ اس نے غیر رمضان میں فرض ادا کیا اور جس نے اس ماہ مقدس میں فرض ادا کیا کہ اس نے 70 فرض ادا کئے۔

یہ صبر کا مہینہ ہے اس کا ثواب جنت ہے اس مہینے میں مومن کی روزی بڑھادی جاتی ہے، چنانچہ حضور نبی کریمﷺ اس مبارک ماہ کی آمد سے پہلے ہی خوشی کا اظہار فرماتے اور صحابہ کرام کو بھی اس کے فضائل اور خصوصیات سے آگاہ فرماتے تاکہ اس مقدس مہینہ میں ان کے اعمال میں پختگی پیدا ہو، نیک کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے عہد میں جب اس مبارک مہینے کا ورود مسعود ہوتا تو لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جیسے ہی رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتا حضور نبی کریمﷺ میں 3تبدیلیاں واضح طور پر محسوس ہونا شروع ہو جاتیں ، پہلی تبدیلی کثرت عبادت ، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اللہ کے پیارے محبوب حضرت محمدﷺ پہلے ہی بہت زیادہ عبادت کرتے تھے لیکن رمضان کے شروع ہوتے ہی پہلے سے بھی زیادہ عبادت کرتے۔دوسری تبدیلی کثرت دعا۔حضور نبی کریمﷺ فرماتے ہیں کہ دعا بھی عبادت ہے رمضان میں جتنی زیادہ سے زیادہ دعا مانگ سکتے جو مانگو، اللہ تعالیٰ قبول کرتے ہیں۔تیسری تبدیلی، اپنے مال کو پانی کی طرح بہاتے ،رمضان میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرتے۔استقبال رمضان کے سلسلے میں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر میری امت کو اس مبارک مہینے کے روزے کی اہمیت معلوم ہوجائے تو وہ خواہش کرے کہ کاش پورا سال ہی روزہ رہے۔ اس لئے ہمیں بھی چاہیے کہ جب یہ مبارک مہینہ آئے تو ہم اس کا زبردست استقبال کریں کیونکہ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے، جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے امت مسلمہ میں ایک نئے جوش اور ولولہ کا حسین منظر دیکھنے کو ملتا ہے، مسجدوں میں رونق بڑھ جاتی ہے اور ہر مسلمان اپنے طور پرنیک عمل کرنے میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مبارک مہینے کی آمد سے ہی بہت سے گنہگار اور نافرمان بھی اسلامی احکامات کی پابندی کرنے لگتے ہیں۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ کی آمد کے ساتھ ہی نیکیوں کا موسم بہار بھی شروع ہوجاتا ہے۔ یوں تو اس مبارک مہینہ کی ہر رات اور ہر دن ہی مقدس ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اسی مہینہ میں ایک رات جسے لیلتہ القدر بھی کہا جاتا ہے تحفہ کے طور پر عنایت کی ہے جو ہزار مہینوں کی رات سے افضل ہے اور فرمایا کہ اس رات کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ روزہ ہی ایک ایسی عبادت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’روزہ میرے لئے ہے اور اس کا اجر و ثواب بھی میں خود دوں گا‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دیگر اوقات و ایام پر روزے کو فضیلت بخشی ہے اور اس کا اجر و ثواب بھی خود دینے کا وعدہ کیا ہے۔ یوں تو جو بھی عبادت کی جائے اس کا اجر و ثواب اللہ تعالیٰ نے خود ہی عطا کرنا ہے پھر روزہ کا خاص طور پر ذکر کرکے فرمانے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے ۔

چونکہ تمام عبادات ظاہری طور پر کی جاتی ہیں۔ مثلاً حج کرنا، نماز پڑھنا،زکوٰۃ دینا اور دیگر جتنی بھی عبادات ہیں ان میں دکھاوے کا عنصر کسی وقت بھی غالب آ سکتا ہے اور روزہ ایسی پوشیدہ عبادت ہے جس کا اللہ تعالیٰ اور روزہ دار کے سواکسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ حالانکہ آپ سحری پوری فیملی کے ساتھ کرتے ہیں جس پر باپ کو معلوم ہے کہ بیٹے نے روزہ رکھا ہے، بچوں کو معلوم ہوتا ہے کہ باپ نے روزہ رکھا ہے، بیوی کو معلوم ہے کہ سحری اکٹھے کی ہے لہٰذا خاوند نے روزہ رکھا ہوا ہے، لیکن کسی وجہ سے اگر روزہ ٹوٹ جاتا ہے تو صرف اسے ہی معلوم ہے کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا ہے اور بیوی جیسے راز داں رشتہ کو بھی معلوم نہیں کہ میرے خاوند کا روزہ نہیں ہے۔ ان حالات میں یہ ایک ایسی پوشیدہ عبادت ہے جس کا صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ میرا بندہ روزہ سے ہے ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روزہ میرے لئے ہے اور اس کا اجر و ثواب بھی میں خدا خود دوں گا۔

اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض کئے ہیں اور اس مہینے کی نفل عبادت کو فرض عبادت کے برابر قرار دیا ہے لہٰذا اس مہینے میں جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ کاقرب چاہتا ہے اسے چاہئے کہ کثرت سے عبادت کرے۔ قرآن کریم کی تلاوت کرے نوافل ادا کرے اور دوسرے روزہ داروں کے لئے افطاری کا بندوبست کرے، ایسے شخص کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ روزہ صرف کھانا پینا چھوڑ دینے کا نام نہیں بلکہ آنکھوں کاروزہ، کانوں کا روزہ، منہ کاروزہ غرض یہ کہ پورے جسم کا بھی روزہ ہوتا ہے۔ لہٰذا سنت طریقے کے مطابق اپنے آپ کو ہر برائی سے بچانا بھی رمضان المبارک کے احترام میں شامل ہے۔ روزہ ہمیں نیک اعمال کرنے کادرس دیتا ہے اس مبارک مہینے میں کثرت عبادت سے اپنے آپ کو جہنم سے بچانے کا موقع ہے۔

جیسا کہ گزشتہ رمضان المبارک میں ہمارے ساتھی عبدالرحمن ناصر صاحب چند روز بیمار رہنے کے بعد ہم سے بچھڑ گئے ۔ اسی طرح محمد ریاض صاحب بھی کئی سال ہمارے ساتھ کام کرتے رہے ہم اکٹھے ہی روزہ بھی افطار کیا کرتے تھے وہ بھی اس مرتبہ ہمارا ساتھ چھوڑ گئے ہیں لیکن ان کی یاد مجھے ہمیشہ ہی رہے گی اس لئے اچھا موقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہے اس مرتبہ رمضان المبارک میں کثرت سے عبادت کر کے اپنی بخشش کرا لیں ۔ کیا معلوم کہ آئندہ رمضان المبارک سے پہلے ہی لسٹ سے ہمارا بھی نام کٹ گیا ہو۔ میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو رمضان المبارک کی رحمتیں سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائیں (آمین)

مزید :

کالم -