رواں برس کے آخر تک سعودی عرب میں نیا بادشاہ لانے کی تیاریاں شروع، متحدہ عرب امارات بھی میدان میں آگیا، اب تخت کون سنبھالے گا؟ عرب اخبار کے دعوے نے دنیا کو حیران کردیا

رواں برس کے آخر تک سعودی عرب میں نیا بادشاہ لانے کی تیاریاں شروع، متحدہ عرب ...
رواں برس کے آخر تک سعودی عرب میں نیا بادشاہ لانے کی تیاریاں شروع، متحدہ عرب امارات بھی میدان میں آگیا، اب تخت کون سنبھالے گا؟ عرب اخبار کے دعوے نے دنیا کو حیران کردیا

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے نئے فرمانروا شاہ سلمان کو تخت سنبھالے ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی مگر ان کی جگہ نئے حکمران کو لانے کی تیاریاں شروع بھی ہو چکی ہیں اور اور ایک عرب اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسی سال کے اختتام تک نئے فرمانروا مسند اقتدار پر جلوہ افروز ہو سکتے ہیں۔

ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے موجودہ فرمانروا کے نوجوان صاحبزادے پرنس محمد بن سلمان کو رہنمائی فراہم کی جارہی ہے کہ کس طرح وہ امریکی حمایت حاصل کرسکتے ہیں اور سال 2016ءکے اختتام تک سعودی عرب کے فرمانروا بن سکتے ہیں۔ ویب سائٹ نے دو سعودی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ابوظہبی کے کراﺅن پرنس محمد بن زاید النہیان سعودی نائب ولی عہد کو امریکہ کی اولین ترجیح بننے کے بارے میں مشاورت فراہم کررہے ہیں۔

سعودی حکومت نے رمضان المبارک میں بجلیاں گرادیں، وہ قانون متعارف کروادیا جو ملازمت پیشہ غیر ملکیوں کا ’صفایا‘ کردے گا

رپورٹ کے مطابق پرنس محمد بن سلمان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر وہ امریکہ کے لئے بطور سعودی فرمانروا قابل قبول بننا چاہتے ہیں تو مملکت میں غالب مذہبی مکتبہ فکر کی حکمرانی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ امریکی حمایت حاصل کرنے کے لئے دوسرے اہم ترین قدم کے طور پر اسرائیل کے ساتھ روابط کا راستہ کھولنا ہوگا۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیاگیا ہے کہ پرنس محمد بن سلمان اپنے قریبی رفقاءکو پہلے ہی بتاچکے ہیں کہ وہ رواں سال کے اختتام تک سعودی فرمانروا بننے کا اپنا مشن مکمل کرلیں گے۔

تیس سالہ پرنس محمد بن سلمان گزشتہ سال کے آغاز میں اہم ترین عہدوں پر فائز ہونے کے بعد پہلی بار عالمی سطح پر ایک طاقتور شخصیت کے طور پر ابھر کرسامنے آئے۔ وہ نائب ولی عہد کے منصب پر براجمان ہیں جبکہ وزارت دفاع کا قلمدان بھی ان کے پاس ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان اپنی طاقتور شخصیت اور روایت شکن پالیسیوں کے باعث پہلے ہی دنیا کی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ سعودی مملکت کے امور حکمرانی میں ان کا کردار مرکزی نوعیت کا حامل ہو چکا ہے اور اگر وہ عنقریب تخت پر جلوہ افروز ہو جاتے ہیں تو سعودی عرب اپنی تاریخ کے ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کے حکمران بننے کی صورت میں دنیا ایک بالکل نئے اور مختلف سعودی عرب کو دیکھے گی۔

مزید :

عرب دنیا -