شریف برادران کے لئے کڑا امتحان

شریف برادران کے لئے کڑا امتحان
شریف برادران کے لئے کڑا امتحان

  

کائنات کے وجود میں آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کو زمین پر اُتارا تو جیسے جیسے اس کی تعداد بڑھتی گئی، وہ زمین پر رہنے کے لئے زندگی کو ایک سسٹم کے تحت گزارنے کے لئے ایک نظام وضع کرتا چلا گیا۔ اِسی نظام میں حکمران اور رعایا کا نظام وضع ہوا۔انسانی جبلت کے تابع ہو کر مضبوط حکمرانوں اور سرداروں نے رعایا اور کمزوروں پر ظلم ڈھانے شروع کئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے مظلوموں کو مضبوط کیا اور فرعون و نمرود خاک ہوئے۔اسلام نے حکمرانی کا اعلیٰ تصور دیا اور حکمران کو رعایا کا خادم بنایا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے عملی طور پر ایسی حکمرانی کی جس کی نظیر نہیں ملتی۔برصغیر کی تقسیم کے بعد ہندوستان میں جمہوریت مضبوط ہوئی،جبکہ پاکستان میں جمہوریت کے نام پر بادشاہت اور ڈکٹیٹر شپ مضبوط ہوئی، زیادہ تر حکمرانوں نے ذاتی دولت میں بے پناہ اضافہ کیا اور رعایا کو غریب تر کیا، چاہے وہ پیپلزپارٹی ہو، مسلم لیگ (ن) ہو، مسلم لیگ(ق) ہو، تمام حکمرانوں کے پوری دُنیا میں محلات اور مال و دولت میں اضافہ ہوا، حکمرانوں نے اپنے آپ کو حضرت عمر فاروقؓ کے طرزِ حکمرانی میں ڈھالنے کے دعوے کئے،لیکن عوام کی اکثریت دو وقت کی روٹی کے لئے پریشان ہے۔

پاکستان میں احتساب کے قانون اور ادارے موجود ہیں، لیکن وہ طاقتور کا احتساب کرنے کے بجائے کمزوروں کو شکنجے میں لاتے ہیں۔ عرصہ دراز سے عمران خان نے احتساب کا واویلا مچایا، لیکن خود ان کی ٹیم میں صاف گو لوگ موجود نہیں۔ میاں صاحبان کے ستارے گردش میں آئے اور وہ پانامہ کے ’’جن‘‘ کی لپیٹ میں آ گئے۔ پانامہ میں نام آتے ہی تمام سیاسی جماعتیں بشمول پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف سخت مہم کا آغاز کیا اور وزیراعظم پر کرپشن ، منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات کو لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کی سماعت شروع کر دی۔ وزیراعظم کی فیملی نے لندن فلیٹ کی ملکیت کو تسلیم کر لیا اور وہ دفاعی پوزیشن میں آ گئے۔ قطری شہزادے کے خط سے ان کا کیس مزید پیچیدہ ہو گیا، سپریم کورٹ کے دو ججوں کے فیصلے میں وزیر اعظم کو صادق اور امین نہ لکھے جانے اور جے آئی ٹی کی تشکیل کا ہونا حکومت کے لئے مزید مشکلات کا سبب بنا۔ پوری دُنیا میں حکومتی سربراہوں کو منتخب کرتے وقت پارٹیاں اِس بات کا خاص خیال رکھتی ہیں کہ اُن کے سربراہ کا تعلق بزنس سے نہ ہو۔ حالیہ امریکی صدر کا بزنس مین ہونا امریکیوں کے لئے ایک مسئلہ بنا ہوا ہے، کیونکہ اعلیٰ عہدہ اپنے بزنس کی ترقی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ میاں شریف (مرحوم) سات بھائی تھے، اُن کی اولادیں وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بنیں اور اُن کی فیملی کے بزنس لاکھوں سے کھربوں میں پہنچ گئے۔ میاں شریف کے باقی بھائیوں کی اولادوں کے بزنس کروڑوں تک ہی مشکل سے پہنچ پائے، حکومتی وزراء کی سات رکنی ٹیم رات دن وزیراعظم کی فیملی کو بچانے میں مصروف ہے۔

میاں صاحب پانامہ کیس میں بھٹو والی غلطی دھرا رہے ہیں۔ بھٹو صاحب کا کیس اتنا پیچیدہ نہیں تھا اُن کا قتل سے براہِ راست تعلق بھی نہ تھا۔آسانی سے قانونی طور پر کیس لڑا جا سکتا تھا، لیکن ان کے وکلاء کورٹ میں بھٹو کے کیس کو سیاسی بنانے کی کوشش کرتے رہے جس کا نتیجہ پاکستانی عوام کے سامنے ہے۔ بھٹو کا کیس قانونی طور پر مضبوط تھا اور نہ ہی کسی انٹرنیشنل کورٹ میں چلانے کے قابل۔ آصف علی زرداری کے دورِ حکومت میں کیس دوبارہ کھولنے کی کوشش کی گئی جو کہ تکنیکی وجوہات کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔ وزیراعظم نے بیر بل کی جو فوج بنائی ہوئی ہے وہ کیس قانونی دفاع کے بجائے سیاسی شعبدہ بازی سے حل کرانا چاہتے ہیں۔ کیپٹن صفدر کی پیشی کے فوراً بعد مریم نواز کو جے آئی ٹی نے بُلا لیا۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ اپنے کیس کو قانونی اور کہنہ مشق قانون دانوں کے توسط سے لڑیں۔

دوسری جانب عمران خان بھرپور طریقے سے وزیراعظم کو نااہل کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر حکومت اس کڑے امتحان سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو میاں نواز شریف کی بادشاہت سیاسی جماعتوں کے لئے ناقابلِ تسخیر ہو جائے گی اور کئی دہائیوں تک میاں نواز شریف کی نسلیں پاکستانی عوام بر بادشاہت کریں گی اور عمران خان بادشاہوں کو حسرت سے دیکھا کریں گے۔

مزید :

کالم -