آخری قسط۔ ۔ ۔امریکی صدر ٹرمپ کی کہانی ، انہی کی زبانی

30 جون 2017 (14:04)

شاہد نذیر چودھری

میری زندگی کا ہر دن کسی نہ کسی ڈیل میں گزرا ہے لہذا میں فیصلہ کرنا بخوبی جانتا ہوں۔سیاست ہو یا کاروبار ،ہر کام فیصلہ اور حوصلہ مانگتا ہے ۔میں نے شب و روز یہی کام کیا ہے۔ 

امریکی صدر کی کامیاب زندگی کے راز،ٹرمپ کی کہانی ، انہی کی زبانی ... پانچویں قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مجھے کسینو کا کاروبار کرنا بہت پسند ہے ۔لیکن اسکو محدود نہیں ہونا چاہئے،بڑے پیمانے کا کاروبار ہو اور اس میں گلیمر ہو ،اچھا لگتا ہے۔انسان محنت کرے تو شوق کے ساتھ ۔۔۔اور اس میں کوئی حد نہیں ہونی چاہئے۔اس میں پیسے کا بہاؤ ہوتا ہے اور مجھے یہ بھلا لگتا ہے۔اگر آپ اس کاروبار کو نہایت منظم انداز میں چلا رہے ہوں تو اس سے خاصا نفع حاصل کیا جاسکتا ہے۔اور اگر اسکو زیادہ بہتر طور پر منظم کرکے چلا رہے ہوں تو بے تحاشا پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔

میرابھائی رابرٹ اور ہاورے فری مین دونوں میری کمپنی میں وائس پریزیڈنٹ ہیں ۔رابرٹ مجھ سے دوسال چھوٹا ہے۔میرے اور اسکے درمیان بہت سی باتوں میں واضح فرق ہے۔وہ بڑا نفیس اور نرم گو، بہت باصلاحیت نوجوان ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ کئی بار میں اسکے ساتھ ناروا سلوک کرجاتا ہوں مگراس نے کبھی میرے سامنے شکایت یا احتجاج نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ وہ میرے بہت قریب ہے۔ رابرٹ کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ میرے بغیر بھی معاملات کو ہینڈل کرلیتا اور اچھی ڈیل بنالیتا ہے۔وہ ہمیشہ اچھا انسان واقع ہوتا ہے جبکہ میں کبھی کبھار بُرا ثابت ہوتا ہوں ۔ وہ کوئی احمقانہ کام نہیں کرتا ،نہ فلک شگاف قہقہ لگاتا ہے ۔اس کا ذہن بہت اچھا ہے اور بہترین تجزیہ کرتا ہے۔

میں اسکے فیصلوں کو سراہتا ہوں ۔اس نے حال ہی میں ایک دوڈیل کے دوران جو قبل ازوقت تجزیہ کیا وہ بالکل ٹھیک نکلا لہذا میں اس پر اعتماد بھی کرتا ہوں اور انحصار بھی۔

میری بیوی بھی کچھ کم نہیں ۔میں سمجھتا ہوں میرا بھائی اور میری بیوی دونوں میرے لئے ہی دنیا میں آئے ہیں ۔میری بیوی آوانا(سابقہ بیوی)بھی میری مخلص ساتھی ہے۔اس میں بھی بہت سی خوبیاں ہیں ۔میں سوچ رہا ہوں کہ نئے ہلٹن کارپوریشن کسینو کو جس کا نیا نام اب ٹرمپ کیسٹل ہے اسکو آوانا کے سپرد کردوں ۔ وہ بچوں اور گھرداری کے معاملات میں مجھ سے محنت سے توجہ دیتی ہے۔ وہ پیدائشی طور پر مینیجیریل خوبیاں لیکر پیدا ہوئی ہے اور شیف عملہ کو سنبھالنا اس سے بہتر کوئی نہیں جانتا ۔

آوانا اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہے۔اسکے والد الیکٹریکل انجینر ہیں ۔وہ چیکوسواکیہ میں پیدا ہوئی ۔اسکے والد بہترین اتھلیٹ بھی تھے اس لئے اپنی بیٹی میں بھی انہوں نے یہ خوبیاں پیدا کردی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے چھ سال کی عمر سے ہی میڈل جیتنا شروع کردئیے تھے۔

میری اس سے پہلی ملاقات 1972 میں ہوئی تھی۔ان دونوں اس نے اپنے ملک کی جانب سے سکائی ٹیم میں شامل ہوکرسپاروونٹراولپک میں شرکت کی تھی۔ایک سال بعد جب اس نے گریجویشن مکمل کرلی تو مونٹریا ل منتقل ہوگئی اور ماڈلنگ شروع کردی ۔وہ بہت جلد کینیڈا کی نمایاں ماڈلز میں شمار ہونے لگی۔یہ اسکی ایسی خوبیاں تھیں جن کا کوئی بھی قدردان مرد متلاشی ہوتا ہے ۔مجھے اس سے پہلی ملاقات اچھی طرح یاد ہے۔

1976 کی بات ہے ۔ اگست کا مہینہ تھا۔مونٹریال میں سمر اولپمک گیمز کا اہتمام کیا گیا تھا ۔میں نے اس سے پہلی بہت سی خواتین کے ساتھ ڈیٹ ماری تھی لیکن کبھی سنجیدگی سے ان میں دلچسپی نہیں لی تھی۔آوانا ان خواتین سے بہت مختلف تھی۔ اور اسکی ان خوبیوں کی وجہ سے میں نے اس سے شادی کا فیصلہ کیا۔اپریل1977 میں ہماری شادی بہت جلدی میں ہوئی ۔میں نے اس پر انحصار کیا اور اس دوران میں جس پراجیکٹ پر کام کررہا تھا اسکی انٹیرئیر ڈیزاننگ کی ذمہ داریاں اس پر ڈال دیں تو اس نے بڑے احسن طریقہ سے اسکو انجام دیا۔

ختم شد

مزیدخبریں