افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی

افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی
افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی

  



اقوام متحد ہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اس وقت 23لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں رہائش پذیر ہیں جن میں 13لاکھ رجسٹرڈ جبکہ10لاکھ غیر رجسٹرڈ ہیں۔ادارے کے مطابق 2016ء میں افغان مہاجرین کی واپسی میں بڑی تیزی دیکھائی دی اور تین لاکھ سترہزار لوگ واپس افغانستان چلے گئے،جبکہ 2017ء میں اس تعداد میں بڑی کمی واقع ہوئی اور اب تک صرف 32ہزار مہاجرین واپس جا چکے ہیں۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول، چارسدہ میں باچاخان یونیورسٹی پر مسلح حملوں کے بعد دہشت گردوں کے خلاف پورے ملک میں موثرکارروائی کے لئے نیشنل ایکشن پلان کے سامنے آنے کے بعدپاکستان میں افغان مہا جرین کے مسائل میں اضافہ ہوا، یہی وجہ تھی کہ پہلی بار اتنے بڑی تعداد میں یہ لوگ اپنے ملک واپس چلے گئے۔پاکستان میں ان بڑے دہشت گرد کاروائیوں کا الزام افغانستان پر لگایا گیا تو اس وجہ سے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات انتہائی خراب ہوئے جس کی وجہ سے باڈر پر بھی پہلی بار آمدورفت کے لئے پاکستان کی طرف سے ویز ے کے شرط کولازمی قرار دیا گیا۔

پشاور میں افغان کمشنریٹ میں مہاجرین کے نمائندہ تاج محمد تلوار نے بتا یا کہ پچھلے سال کے نسبت پاکستان میں مہاجرین کے پولیس کی طرف سے پکڑدھکڑ میں بہت کمی آئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسائل بالکل ختم ہو گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ باڈر پر ویزہ کی شرط ہے جس کی وجہ سے یہاں پر آباد افغان باشندے بہت مشکل سے افغانستان سفر کرتے ہیں جبکہ پہلے ان لوگوں کو آمد ورفت میں بڑی آسانی ہوتی تھی۔

تاج محمد نے کہا کہ کمشنریٹ اور مہاجرین کے بین الاقوامی ادارے یو این ایچ سی ار کے ساتھ اْن افغان مہاجرین کے پاکستا ن میں سکونت کے مسئلے کے حل کے لئے بات چیت کررہے ہیں جنھوں نے پاکستانی لڑکیوں سے شادی کی ہے اور یا پاکستانی نے افغان لڑکی سے شادی کی ہو۔ انھوں نے کہا اس کے بارے میں پاکستان کے وزرات داخلہ ایک نئی ویزہ پالیسی مرتب کررہا ہے جس سے ان لوگوں کے مسائل حل ہو جائینگے۔

موجودہ وقت میں پاکستان میں آباد مہاجرین کئی قانونی مسائل سے دوچار ہے۔ مسعود خان جو کہ پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل ہے اور ایک غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ یواین ایچ سی آر کے مدد سے مہاجرین کے قانونی مدد کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان نے مہاجرین کے بین الاقومی قانون جینوا کنوینشن پر دستخط نہیں کیا ہے تو اس وجہ سے ان بے گھر لوگوں کومشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خان نے کہا کہ 2016ء4 میں پندرہ سو سے زیادہ مہاجرین کو چودہ فارن ایکٹ کے تحت پولیس سے رہائی دلائی گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 2017ء میں صوبائی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پولیس کے طرف سے مہاجرین کے پکڑ دھکڑ اورگھروں کے لئے اجازت نامے نہیں مانگے جائے گے، جس سے ان لوگوں کو بڑی سہولت مل گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ مہاجرین کے یہاں پر کاروبار اور جائیداد کے مسائل بھی سامنے آرہے ہیں۔ان کے بقول بورڈ بازار میں پچاس دوکانداروں کے اسی لاکھ روپے مارکیٹ کے مالک سے وصول کرکے ان کو دئیے گئے ہیں۔

مسعود خان نے کے مطابق افغانی اور پاکستانی جوڑوں کے لئے نیچریلزیشن ایک پالیسی بنائی جا رہی ہے جس کے تحت ان لوگو ں کو ایک خاص مد ت کے لئے ویزہ جاری کیا جائے گا اور آئندہ کے لئے بھی ایک موثر لائحہ عمل سامنے لایا جائے گا۔

پشاور میں قائم افغان قونصلیٹ کے ایجوکیشن اتاشی کے مطابق 2016ء میں پاکستا ن میں نوے ہزار افغان طلباء وطالبات زیر تعلیم تھے جس کے لئے پورے پاکستان میں ایک سوستائیس(127) تعلیمی ادارے قائم ہیں جو کہ یواین ایچ سی ار کی مدد سے کام کررہے ہیں۔ جن میں ابتدائی تعلیم سے لیکر ڈگری لیول تک تعلیم دی جارہی ہے۔ان کے بقول اب تک بیس ہائیر سکینڈری لیول تک ادارے پاکستان میں بند ہو چکے ہیں جبکہ سکولوں کی تعدادکافی زیادہ ہے، جس کی وجہ سے پچپن ہزارطلباء وطالبات کے تعلیمی سال ضائع ہوگئے ہیں۔

محمدناصر حسینی جو کہ حاجی کیمپ پشاور میں شھیدمیر فتح محمدہائی سکول کے پرنسپل ہے،نے کہا کہ افغان تعلیمی اداروں میں طلباء کے تعداد بڑی حد تک کم ہوئی ہیں جس کی بنیادی وجہ یہاں پر مہاجرین کے 2016ء میں کافی مشکلات تھے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے علاقے سے بڑی حد تک لوگوں کی واپسی ہو چکی ہے اور جو لوگ یہاں پر رہ گئے ہیں تو اْن لوگوں کے کاروبار اتنا خراب ہو چکے ہیں کہ وہ گھروں میں بیٹھ کر زندگی گزار رہے ہیں۔ حسینی کے بقول 2017ء میں بڑی حد تک مشکلات کم ہوگئے لیکن اب بھی لوگ اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجتے اور اس تشویش میں مبتلا ہے کہ کہی دوبار ہ یہاں پر مہاجرین کے مشکلات نہ بڑھ جائے۔

سمیع اللہ خان جو کہ پشاور میں تاج آباد کے رہائشی ہے اور پچھلے سال میٹرک میں اپناتعلیم ادھورہ چھوڑ دیاہے۔ انھوں نے کہا کہ جب یہاں پر حالت خراب ہوئے تو اْس کی وجہ سے میرے خاندان کے کاروبار بھی متاثرہو ا جس کی وجہ سے گزارہ مشکل ہوگیا تھا تو میں نے بھی مزدوری شروع کی۔

پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین اپنے ملک واپس جانے کے بارے میں بڑی تشویش میں مبتلا ہیں اور ان لوگوں کے لئے بڑا مسئلہ وہاں پر امن وامان، کاروبار اور رہائش جیسے بنیادی مسائل درپیش ہے۔

تاج محمد جو کہ خود افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرھار کے ضلع خوگیانی کے رہائشی ہے اس بار ے میں کہتے ہیں کہ ہمارا صوبہ چونتیس اضلاع پر مشتمل ہیں لیکن بمشکل سے چار اضلاع میں حکومتی رٹ قائم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک جگہ پر طالبان ہے تو دوسرے جگہ پر داعش قابض ہے۔تاج نے کہا کہ 2016ء میں جب بڑی تعدادمیں افغان مہاجرین کی واپسی شروع ہوئی تو افغان حکومت نے ‘‘گل وطن، خپل وطن ‘‘کے نام سے ایک مہم شروع کیا جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ واپس آنے والے خاندان کو چھ ما ہ کے راشن،رہائش کے لئے زمین اور گھر بنانے میں مالی معاونت شامل تھا، لیکن اس پوری منصوبے میں وہاں کے حکومت ناکام ہوا جس کی وجہ سے افغان مہاجرین کے واپسی میں بڑی حد تک کمی آئی۔

افغان مہاجرین کے رضاکارانہ واپسی کے لئے خیبرپختونخوا میں دو مراکز چمکنی اور اضاخیل جبکہ ایک بلوچستان میں قائم کیا گیا ہے۔موجودہ وقت میں پاکستان ایک پلان پر کام کررہاہے جس کے تحت پاکستا ن میں مقیم افغان مہاجرین کے لئے ویزہ جار ی کرنے کے لئے نئی پالیسی سامنے لائی جائے گی جس کے تحت تاجروں، طلباء4 ، پاکستان میں شادی شدہ جوڑے اور مریضوں کے لئے ایک خاص مدت کے ویزے جاری کئے جائینگے۔ لیکن یہاں پر افغان مہاجرین اس پلان پر جلد عمل درآمد کے انتظار میں ہے کیونکہ اس میں کافی عرصہ گزار گیا لیکن کوئی عمل درآمدسامنے نہیں آیا۔

پاکستان اور افغا نستا ن کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کچھ عرصے سے برقرار ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر کئی بڑے واقعات سامنے آئے ہیں جس کی وجہ طورخم جلال آباد اورچمن سپن بولدک کے درمیان تجارتی راستے ایک سال کے مدت میں پانچ دفعہ بند ہو گئے ہیں۔موجود وقت میں چمن باڈر پر واقع دو گاؤں لقمان اور جہانگیرمیں پاکستانی حکام کے جانب سے مردم شماری کے دوران شدید جھڑپ سامنے آنے کے بعد کشیدگی برقرار ہے۔

پچھلے ہفتے قزاقستا ن کے شہر آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی وزیراعظم محمد نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی نے ملاقات کی، دونوں رہنماء اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں دونوں ممالک ملکر کام کریں گے۔دوسری جانب پاکستان کے دفترخارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیاہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے چین ثالث کا کردار ادا کریگا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ