A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

’’گوادر کے تعلیمی مسقبل‘‘ کے عنوان سے گوادر پریس کلب میں انتخابی امیدواروں کا اظہار خیال

’’گوادر کے تعلیمی مسقبل‘‘ کے عنوان سے گوادر پریس کلب میں انتخابی امیدواروں کا اظہار خیال

Jun 30, 2018 | 16:32:PM

گوادر(ظریف بلوچ) الف اعلان اور بامسار گوادر کے اشتراک سے ’’گوادر کے تعلیمی مسقبل‘‘ کے عنوان سے گوادر پریس کلب گوادر میں پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام میں حلقہ پی بی 51 گوادر سے صوبائی اسمبلی کے امیدواران بی این پی مینگل کے میر حمل کلمتی، متحدہ مجلس عمل کے سعید احمد، آزاد امیدوار اویس اقبال اور نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما کہدہ علی نے اپنی اپنی پارٹیوں کے تعلیمی منشور پیش کیے جبکہ امیدواروں نے گوادر میں تعلیم کے حوالے سے شرکاء کے سوالات کے جوابات دئیے۔ اس موقع پر میر حمل کلمتی کا کہنا تھا کہ گوادر میڈیکل کالج کو 2013 میں منطور کیا گیا تھا۔مگر نیشنل پارٹی کی حکومت نے اسکو تربت منتقل کردیاتھا۔

آنے والے دنوں میں میرا پروگرام ہے کہ گوادر میں مقابلہ کے امتحانات کی تیاری کے لئے ایک اکیڈمی بناؤں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے دس سالہ دور میں سب سے زیادہ کام تعلیم پر کیا اور سکولوں کے وزٹ کرکے مسائل سے آگاہی حاصل کی۔ تعلیم میرے انتخابی منشور کا اہم حصہ ہے۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما کہدہ علی نے کہا کہ بہتر مسقبل کے لئے کوالٹی ایجوکیشن کی ضرورت ہے اور نیشنل پارٹی کی اولین ترجیح ایک پڑھا لکھا بلوچستان ہے۔ تعلیم کے بہتری کے لئے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے اپنے ڈھائی سالہ دور وزارت اعلٰی میں تعلیم پر سب سے زیادہ کام کیا ہے۔

جماعت اسلامی کے امیدوار سعید احمد نے کہاکہ ہمارا نعرہ ایک کلاس اور ایک استاد ہے۔ ہر تحصیل میں ماڈل سکول کا قیام ہمارا منشور ہے۔ اگر ہمیں موقع دیا گیا تو گوادر سے باہر پڑھنے والے طلبا و طالبات کو رہائش کی سہولت فراہم کریں گے۔ گوادر میں جتنے بھی شلٹرلیس سکول ہیں انکی ذمہ داری ہم لیں گے۔ پروگرام سے خطاب میں آزاد امیدوار اویس اقبال نے کہا کہ اگر موقع ملا تو ہم کراچی سے اساتذہ لاکر گوادر کے تعلیمی نظام کو بہتر بنائیں گے۔ بلوچستان کے تعلیم نظام میں ایمرجنسی لانے کی ضرورت ہے۔ ضلع گوادر میں تعلیم کا برا حال ہے۔ تعلیم کے حوالے سے ہمیں اپنا لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔ الف اعلان اور بامسار کی جانب گوادر کے تعلیم کے حوالے سے بامسار کے رضاکار نبیل احمد نے پریزنٹیشن پیش کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ضلع بھر میں ایک سو پچاس سے زائد سکولوں کو انفراسٹرکچر کی کمی کا سامنا ہے جبکہ ضلع بھر میں اساتذہ کی 256آسامیاں خالی ہیں۔انکا کہنا تھا کہ گوادر میں بچیوں کے لئے 37فیصد جبکہ بچوں کے لئے 63فیصد سکولز ہیں۔ جبکہ اس وقت گوادر میں 35 ہزار سے زائد بچے اور بچیاں سکولوں سے باہر ہیں۔ 

مزیدخبریں