26سینیٹروں کے دستخطوں سے چیئرمین کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جا سکتی ہے 

26سینیٹروں کے دستخطوں سے چیئرمین کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جا سکتی ہے 

تجزیہ:  قدرت اللہ چودھری

حزب اختلاف کی اے پی سی کے اس فیصلے کے بعد کہ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرکے انہیں ہٹایا جائے گا اور ان کی جگہ نیا چیئرمین لایا جائے گا۔ اس سلسلے میں سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں اور ملاقاتوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ سے حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ارکان ملاقاتیں کرکے انہیں اپنے تعاون کا یقین دلا رہے ہیں، خود چیئرمین بھی پراعتماد ہیں، اور ان کا اعتماد ان کے بیانات سے بھی جھلکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ متوازن طریقے سے سینیٹ کا ایوان چلا رہے ہیں، چیئرمین سینیٹ کو اگرچہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے مل کر کامیاب کرایا تھا کیونکہ اس وقت دونوں کی کوشش یہ تھی کہ  کہیں مسلم لیگ (ن) کا چیئرمین منتخب نہ ہو جائے، لیکن اب چیئرمین کی حمایت میں حکومت کے ساتھ چند چھوٹی جماعتیں اور آزاد امیدوار ہی کھڑے رہ گئے ہیں، سینیٹ کی دونوں بڑی جماعتیں یعنی مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی اب انہیں ہٹانا چاہتی ہیں۔ مجموعی طور پر حزب اختلاف کو ساٹھ سے زائد سینیٹروں کی حمایت حاصل ہے اس لحاظ سے نمبر گیم تو حزب اختلاف کے حق میں ہے لیکن ایسے مواقع پر بعض نادیدہ عوامل بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں جو سینیٹروں کو اپنا ذہن تبدیل کرنے پر آمادہ بھی کرسکتے ہیں۔ جیسے اخترمینگل نے اپنا ذہن انقلابی طور پر تبدیل کیا ہے وہ کئی مہینوں سے ایسے بیانات دے رہے تھے جن سے متر شح ہوتا تھا کہ وہ حکومت سے خوش نہیں، کیونکہ ان کے چھ نکات پورے نہیں ہوئے۔ اس دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے حکومت سازی کے وقت تو تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا لیکن ضروری نہیں کہ وہ بجٹ منظور کرانے میں بھی حکومت کی مدد کریں۔ اس دوران انہوں نے بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے بھی ملاقاتیں کیں، عین ممکن تھا کہ وہ اے پی سی کو بھی رونق بخشتے، لیکن وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر جہانگیر ترین متحرک ہوئے اور اختر مینگل کو رام کر لیا، ان کے مطالبات بھی مانے گئے، اختر مینگل کو وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کا فوری فائدہ تو یہ ہوا کہ بلوچستان کی ترقی کے لئے اربوں روپے کے وعدے ہوگئے۔ وزارت ان کی پارٹی کے پاس پہلے ہی نہیں ورنہ شاید اس سلسلے میں بھی کوئی پیش رفت ہو جاتی، البتہ دو دوسری اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) کو مزید ایک ایک وزارت ملنے کے امکانات روشن ہیں، تو خیر بات ہو رہی تھی سینیٹ میں نمبر گیم کی، چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لئے 26ارکان (سینیٹ کے کل ارکان کا ایک چوتھائی) کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تعداد تو حزب اختلاف آسانی سے پوری کر لے گی، اگر عدم اعتماد کی قرارداد پیش ہوگئی تو پھر 7دن کے اندر اس پر رائے شماری ہوگی۔ قرارداد کی منظوری کے لئے 53ارکان کی حمایت درکارہے۔  دعوے کے مطابق یہ ارکان بھی حزب اختلاف کے پاس موجود ہیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی قرارداد منظور ہو جائے گی، بظاہر تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں کیونکہ دونوں جماعتوں یعنی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے ارکان اے پی سی کے فیصلوں کی پابندی کریں گے اور ان دونوں جماعتوں ہی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پہلے چیئرمین سینیٹ کو ہٹائیں گی اور پھر فیصلہ کریں گی کہ نیا چیئرمین کس کو بنایا جائے، اگرچہ کئی نام سامنے آئے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی حتمی نہیں ہے، اور محض  اندازوں ہی سے بات کی جارہی ہے، حتیٰ کہ آصف علی زرداری نے بھی ازراہ تفنن ہی سہی کہہ دیا ہے کہ وہ چیئرمین بنیں گے، کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ایسا ممکن نہیں، کیوں ممکن نہیں، ان کے پاس اپنے دلائل ہوں گے لیکن اگر آصف علی زرداری سنجیدہ ہو جائیں اور دوسری پارٹیاں ان کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوں تو یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں، بس اتنا کرنا ہوگا کہ وہ سندھ سے اپنی پارٹی کے سینیٹ کے کسی رکن سے استعفا دلائیں اور اس کی خالی نشست پر خود الیکشن لڑیں، وہ قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔  سینیٹر منتخب ہوکر وہ یہ نشست چھوڑ سکتے ہیں، ضمنی الیکشن میں ان کی جیت یوں یقینی ہے کہ سندھ اسمبلی جو سندھ سے سینیٹر  کے انتخاب کا انتخابی ادارہ یعنی ووٹر ہے اس میں پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہے اور وہ اپنے امیدوار کو جو کوئی بھی ہو،  بڑی آسانی سے سینیٹر منتخب کراسکتی ہے۔ یہ مشق اسی صورت کرنا ہوگی جب یہ طے ہو جائے کہ چیئرمین کے لئے آصف زرداری سنجیدہ امیدوار ہیں اور باقی جماعتیں بھی ان کے حق میں ہیں۔ اگر دوسری جماعتیں ساتھ نہ دیں تو پھر آصف زرداری کی مذاق میں کہی ہوئی یہ بات حقیقت کا رنگ اختیار نہیں کرسکتی، ایسی صورت میں یہ ہوگا کہ موجودہ سینیٹروں ہی میں سے کسی کو چیئرمین شپ کا امیدوار بنایا جائے گا،  راجہ ظفر الحق کا نام مسلم لیگ (ن) کی طرف سے آرہا ہے، بعض اخبارات نے پرویز رشید کا نام بھی لیا، لیکن انہوں نے بروقت وضاحت کردی ہے کہ وہ امیدوار نہیں ہیں، پیپلز پارٹی کی طرف سے بھی شیری رحمن اور سلیم مانڈوی والا کا نام آرہا ہے جو اس وقت ڈپٹی چیئرمین ہیں۔ رضا ربانی پر تو شاید پیپلز پارٹی ہی متفق نہ ہو، لیکن مسلم لیگ (ن) کو ان کے نام پر اعتراض نہیں ہوگا، کیونکہ وہ تو پہلے بھی رضا ربانی ہی کو چیئرمین بنانے کے حق میں تھی یہ تو پیپلز پارٹی تھی جس نے کسی میجک کی چھڑی کے زیراثر صادق عمرانی کو ووٹ دینے پر اتفاق کرلیا، اگر اس وقت رضا ربانی کو منتخب کیا گیا ہوتا تو شاید آج اس نئی مشق کی ضرورت پیش نہ آتی، لیکن سیاست کے رشتے بہت نازک ہوتے ہیں اور بعض اوقات سانس لینے سے بھی خستہ ہو جاتے ہیں۔

26ارکان

مزید : تجزیہ /رائے