وبا کے دِنوں میں موسمی پہناوے!

وبا کے دِنوں میں موسمی پہناوے!

  

یہ مہلک وبا اُن لڑکیوں اور خواتین کی امنگوں پر اثر انداز نہیں ہو سکی جو موسم کے لحاظ سے اپنے پہناووں کا خاص خیال رکھتی ہیں

ایسی ایک مہلک وبا نے پوری دُنیا کو اپنی گرفت میں لیا ہے کہ تہذیب و ثقافت اور سماج و معاشرت میں حیران کن تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ رسوم و رواج اور روایات بدل رہی ہیں اور لوگوں کی تمدنی سوچ و فکر متاثر ہو رہی ہے۔ اجتماعی خوشیاں اپنی جاذبیت کھو رہی ہیں اور انفرادی مسرتیں ٹھٹھر کر رہ گئی ہیں۔موسموں کے بدلنے پر تقریبات کی گہما گہمی کا تصور عنقا ہو چکا ہے۔ سماجی فاصلے نے اُن چاہتوں کو محدود کر دیا ہے،جو قربت کی گرمی سے جنم لیتی تھیں۔ اب بہار، برسات اور موسم سرما کا رنگ بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔

بہار آئی اور گذر گئی پھر املتاس کے پیلے پھولوں کے گجروں کی دلکشی ماند ہوئی اور اب مون سون کی آمد ہے اور اس کی آمد سے پہلے دمک اٹھنے والے رنگ ابھی تک پھیکے دکھائی دیتے ہیں۔

کبھی برسات کا موسم دِل خوش کر دینے والی رنگینیوں سے معمور ہوتا تھا۔ بادلوں کے جھنڈ آسمان پر چھائے رہتے تھے۔ بارشیں مسلسل برستی رہتی تھیں۔ ایک جمعرات کو بارش ہوتی تو اگلی جمعرات تک چلتی رہتی جسے جمعرات کی جھڑی کہتے تھے۔ بارشیں اس طرح ہوتیں کہ رکنے کا نام نہ لیتی تھیں، یہاں تک کہ لوگ اذانیں دینے پر مجبور ہو جاتے۔ دریاؤں میں پانی کی فراوانی ہو جاتی، سیلاب امڈ آتے۔ راوی جو اب ملگجے پانی کی دلدل دکھائی دیتا ہے،کبھی کناروں تک بہتا تھا،لوگ دور دراز سے تفریح کے لئے دریا پر آتے۔کچھ گھرانے پکوان ساتھ لاتے اور کچھ وہاں پر پکاتے تھے۔ کشتی رانی لوگوں کا محبوب مشغلہ تھا۔شہر کے باغوں میں جھولے جھولتے رہتے تھے۔لڑکیاں بالیاں پیلے اور ہلکے نیلے رنگ کے پہناوے پہنتیں۔پھولوں کے ہار اور گجرے شخصیت میں خوشبو، رنگ اور نکھار شامل کر دیتے تھے۔گھروں میں طرح طرح کے کھانے پکتے۔ بارش برس رہی ہے اور گلگلے تلے جا رہے ہیں۔افسوس کہ گذرتا وقت اُن تمام رونقوں کو اپنے ساتھ لے گیا۔اب وہ باغ رہے نہ ان میں پڑے جھولے کہ جن پر جھولتے بچوں کی کلکاریاں سماعت کو بھلی لگتی تھیں۔آنے والے وقت نے نئی نسل کے ہاتھوں میں موبائل فون تھما دیئے۔ لوگ اپنے اپنے خول میں بند ہوتے چلے گئے اور اجتماعی و انفرادی خوشیاں معدوم ہوتی چلی گئیں۔

اب کورونا وائرس کی وبا نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ اس موذی مرض سے بچاؤ کا طریقہ صرف احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہونا ہے۔ تاہم یہ مہلک وبا اُن لڑکیوں اور خواتین کی امنگوں پر اثر انداز نہیں ہو سکی جو موسم کے لحاظ سے اپنے پہناووں کا خاص خیال رکھتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ برسات کے موسم میں ہلکی بافت کے سبک کپڑے بطور لباس استعمال کرنے ہیں اور کپڑے کا رنگ پُرشور نہیں، بلکہ دھیما اور آنکھوں کو بھلا دکھائی دینے والا ہو۔ گہرے رنگ کے لباس مون سون سے میل نہیں کھاتے۔ ایسے رنگوں کا انتخاب کرنا چاہئے جو سرمئی ماحول کے ساتھ رَچ بس جائیں۔ فیشن کا اہتمام کرنے والوں نے وبا کے ان دِنوں میں خواتین کے لئے نت نئے فیشن ترتیب دیئے ہیں۔یہاں تک کہ منہ ڈھانپنے والے ماسک میں بھی جدت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ خواتین کی توجہ، لباس کے علاوہ گھروں میں تیار کئے جانے والے پکوان پر ہوتی ہے۔یوں بھی اس وقت ضروری ہے کہ کھانے ایسے تیار کئے جائیں جو انسانی قوتِ مدافعت کو بڑھانے میں ممد و معاون ثابت ہوں۔چکنائی کا استعمال کم کیا جائے اور ممکن ہو سکے تو مٹن کی یخنی کا استعمال زیادہ کیا جائے۔موسمی سبزیاں شوق سے پکائی جائیں تو بچے بڑے سبھی رغبت سے کھاتے ہیں۔

اب تک اس مرض کے خاتمے کا کچھ اندازہ نہیں کہ جس نے پوری دُنیا میں ایک آفت برپا کر رکھی ہے۔فی الحال اس کا علاج صرف احتیاطی تدابیر پر عمل سے ہی ہو سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس وبا سے اُس وقت تک چھٹکارا ممکن نہیں جب تک کہ اس کی مؤثر ترین ویکسین تیار نہیں ہو جاتی۔ دُنیا بھر کے دوا ساز ادارے سر جوڑے بیٹھے ہیں۔ دیکھیں کیا ظہور پذیر ہوتا ہے۔

زندگی رواں دواں ہے۔موسم اور رُتیں تبدیل ہوتی رہیں گی۔پرندے چہچہاتے اور برگ و سمن کھلتے رہیں گے۔لوگ امید اور ناامیدی، محنت اور بے کاری اور ترقی اور پسماندگی کے پاٹوں کے بیچ آتے رہیں گے۔ وبائیں صورت بدل بدل کر آبادیوں کو سراسیما کرتی رہیں گی،لیکن انسان اس وقت تک تگ و دو میں لگا رہے گا جب تک کہ صور نہیں پھونکا جاتا۔

اپنی ہر تحریر میں مَیں اپنی خواتین بہنوں کو یہ پیغام ضرور دیتی ہوں کہ وہ ربِ رحیم پر یقین، بھروسہ اور اعتماد رکھیں اور اسی سے ہر عافیت کی طالب ہوں۔ مایوسی کفر ہے اور حرام ہے ایسے ہی جیسے خنزیر،خون اور غیر اللہ کے نام کی چیز۔اس ذاتِ کریم سے امید وابستہ نہ کرنا کسی بھی صورت مناسب نہیں ہے۔وہی ہے، جو ہر شے پر قادر ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -