گھر کی خوشیوں میں ”شوہر“کا بھی خیال رکھیں!

گھر کی خوشیوں میں ”شوہر“کا بھی خیال رکھیں!

  

خوشیوں سے بھرے آسوہئ حال گھر کا جب ذکر کیا جاتا ہے، تو اس میں گھر کا ہر فرد شامل ہوتا ہے، قدرت کے حساب کتاب کے مطابق، مرد گھر کا سربراہ ہوتا ہے اور عورت گھریلو امور کی ذمے دار۔ یہ الگ بات ہے کہ اب مرد کے شانہ بشانہ معاشی جدوجہد میں بھی برابر شریک ہے۔ اگرچہ اس طرح عورت پر دہری ذمے داری عائد ہو جاتی ہے، مگر اس کے باوجود بہرحال عورت ہی کی ذمے داری ہے اور کوئی بھی عورت اس سے پہلو تہی نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی عورت چاہتی ہے کہ اس کا گھر خوشیوں سے بھرا رہے،اس کے بچے فرماں بردار اور تمیز دار ہوں، اس کا شوہر اس سے خوش اور مطمئن ہو تو اسے چاہئے کہ اپنے طرز عمل میں تھوڑی سی تبدیلی لے آئے اور اپنے گھر کو اپنے سلیقہ اور شعار سے حقیقی معنوں میں جنت بنا دے۔

شوہر کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا خیال رکھیں، اُن کی چیزوں مثلاً گاڑی یا دکان کی جابیاں، گھڑی، والٹ، ٹائی، جوتے، کپڑے اور دیگر چیزیں ایک مقررہ جگہ پر رکھیں، تاکہ بوقت ضرورت اُنہیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو اور وہ بغیر کسی دقت کے صاف ستھری حالت میں دستیاب ہو جائیں۔ باہر سے اُلجھن، پریشانی اور تھکن لے کر آنے والے شوہروں کے لئے خاتون خانہ ایک مسکراہٹ اکسیر کا کام دیتی ہے اِس لئے شوہر سے ہمیشہ مسکرا کر ملیں تاکہ وہ گھر آ کر سکون اور راحت محسوس کریں۔ شوہر کے آنے کا وقت ہو تو گھر بالکل صاف ستھرا رکھیں تاکہ انہیں اچھا لگے اور ساتھ ساتھ خود بھی تیار ہو کر رہیں، شوہر جب کام سے تھکا ہوا آئے اور اسے گھر اور بیوی صاف ستھرے مسکراتے ہوئے ملیں، تو اُن کے سارے دن کی تھکن دُور ہو جا تی ہے اِس لئے اِس بات کا خصوصیت سے خیال رکھیں۔

بے وقت شوہر کے گھر آنے پر بیجا سوالات مت کریں اور اسی طرح دیر سے آنے پر بھی بے تکی پوچھ گچھ مت کریں، تسلی سے کھانے کے دوران یا آرام کرتے وقت پوچھیں اور اُن کی بتائی ہوئی بات پر یقین کا تاثر بھی دیں،کیونکہ جب آپ انہیں اعتماد دیں گی تو پھر وہ بھی ہر حال میں آپ کے اعتماد کا بھرم رکھیں گے اور آپ کی دل آزاری والے کام ہر گز نہیں کریں گے، اُن کی آمد پر چائے اور پانی کا پوچھیں اگر گرمی یا دوپہر کا ٹائم ہو تو شربت، لسی یا لیموں پانی کافی فرحت کا باعث ہوں گے، خصوصاً ان کی پسند کے کھانے کو دل جمعی سے پکائیں اور اکثر و بیشتر ان کا اہتمام بھی کریں۔ کھانے، پینے اور دیگر چیزوں کے خیال کے علاوہ ان کی خدمت کو بھی اپنا شعار بنائیں۔ کبھی ان کا سر دبائیں، کبھی سر میں تیل کی مالش کر دیں اور کبھی پیر دبا دیا کریں۔ اِن تمام باتوں سے اُن کے دل میں آپ کی محبت اور قدر بڑھے گی۔

اُن کے کام یا کاروبار میں دلچسپی لیں اور کاروباری امور پر حسب توفیق بات کریں اور حسب ضرورت مشورہ بھی دیں تاکہ انہیں احساس ہو کہ آپ ہر کام میں ان کے ساتھ ہیں، اپنے بچوں کو اُن کے باپ کا فرمانبردار بنائیں اور انہیں باپ کا ادب کرنا سکھائیں، بچوں کو اس بات کی تعلیم دیں کہ جب بچوں کے والد گھر آئیں تو خوشی اور مسرت کا اظہار کریں۔ ان کے ساتھ چیخ و پکار اور بدتمیزی نہ کریں، سکون کے ساتھ کھیلیں، شور شرابا نہ کریں، بچے اگر تمیزدار ہوں گے تو یقینا آپ کی ہی تعریف ہو گی۔ ان تمام چھوٹی چھوٹی باتوں پر عمل کر کے آپ اپنے گھر کی خوشیوں کو بڑھا سکتی ہیں۔ یہ باتیں بظاہر چھوٹی ہیں مگر نہایت بڑے، دیرپا اور مثبت نتائج کی حامل ہیں۔ یاد رکھئے! بحیثیت خاتون آپ نہ صرف اپنے گھر کے امن و سکون کے قیام کی پابند ہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں سے اپنے شوہر کی کاروباری یا پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں کیونکہ جب شوہر حضرات گھر کی طرف سے پُرسکون اور مطمئن ہوں گے تو باہر بہتر طور پر کام کر سکیں گے اور یقینا کامیابیاں حاصل کریں گے اور اس میں لازمی آپ کا حصہ بھی ہو گا، تو پھر آیئے! یہ مقولہ سچ دکھایئے کہ……

”ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہوتا ہے“۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -