طرز سیاست بدلے بغیر تبدیلی ممکن نہیں

طرز سیاست بدلے بغیر تبدیلی ممکن نہیں
طرز سیاست بدلے بغیر تبدیلی ممکن نہیں

  

وزیر اعظم عمران خان نے یہ کوئی انوکھی بات نہیں کی کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں وہ اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی۔ یہ قصہ تو بہت پرانا ہے، بے نظیر بھٹو جب وزیر اعظم تھیں یہی کہتی تھیں، نوازشریف کو بھی کئی بار یہ کہنا پڑا، آصف زرداری بھی صدر مملکت ہوتے ہوئے پیپلزپارٹی کی حکومت بارے یہی دعویٰ کرتے رہے، غرض پاکستان میں تو یہ معمول کی بات ہے کہ کوئی وزیر اعظم اپنی حکومت کی مضبوطی کا دعویٰ کرے، یہ ہماری سیاست کا بہت پرانا چلن ہے دوسری طرف اپوزیشن کا تکیہ کلام بھی وہی ہے، جو ہم کئی دہائیوں سے دیکھتے اور سنتے آئے ہیں حکومت کو جانا ہوگا۔ کچھ اور عرصہ رہ گئی تو ملک تباہ ہو جائے گا۔ حکمرانوں کے جانے کا وقت آ گیا ہے بہتر ہے کہ عزت و آبرو سے چلے جائیں وگرنہ عوام زبردستی نکال دیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ تکیہ کلام آج بھی زوروں پر ہے اور کوئی دن ہی جاتا ہے جب کوئی اپوزیشن لیڈر با جماعت یہ مطالبہ نہ داغتے ہوں کہ عمران خان استعفا دے کر گھر چلے جائیں۔ یہ ڈرامہ بالکل ایک ہی سکرپٹ کے ساتھ برسوں سے دکھایا جا رہا ہے، صرف کردار بدل جاتے ہیں، یا ہیرو ولن اور ولن ہیروں کا کردار ادا کرنے لگتا ہے۔

ہر نئے جمہوری تجربے کے ساتھ ہم یہ سوچتے ہیں کہ اب ہماری جمہوریت بالغ ہو گئی ہے، اب ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی، اب ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی روش اپنا لی جائے گی۔ مگر جلد ہی سب خوش فہمیاں دور ہو جاتی ہیں۔ اس بار تو خیر شروع دن سے انہونی ہوئی۔ تحریک انصاف کی حکومت بنی تو پہلے دن سے اپوزیشن نے اسے مسترد کر دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے تو حلف تک نہ اٹھانے کی تجویز پیش کر دی، مگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے ان کی ایک نہ سنی۔ اب اصولاً تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ جب نئے جمہوری سیٹ اپ کو تسلیم کر کے آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تو اسے چلنے دیا جاتا لیکن ماضی کی دو حکومتوں کے اپنی مدت پوری کرنے کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا گیا اور مختلف الزامات لگا کر اسے چلتا کرنے کے مطالبات کئے جاتے رہے۔ پہلی بار ایک منتخب وزیر اعظم کے لئے مختلف القابات ایجاد کئے گئے، کبھی سلیکٹیو اور کبھی کٹھ پتلی کے ناموں سے پکارا گیا۔ حالانکہ اپوزیشن کے پاس بہت آسان راستہ موجود تھا کہ وہ متحد ہو کر ایوان کے اندر سے تبدیلی لے آتی اور حکومت کو گھر بھیج دیتی، مگر تبدیلی کی بڑھکیں مارنے والے اس پر متحد نہ ہوئے اور نہ آج ہیں البتہ یہ نعرہ پوری شدت سے لگایا جا رہا ہے کہ عمران خان اقتدار چھوڑ دیں اور ملک کا مزید بیڑہ غرق نہ کریں۔ اب پھر وہی کھچڑی پک رہی ہے جو ہم اپنی سیاسی تاریخ میں بار ہا دیکھ چکے ہیں، کوئی نئے مینڈیٹ کا مطالبہ کر رہا ہے اور کسی کے نزدیک ان ہاؤس تبدیلی وقت کی ضرورت ہے۔ اس پنج سالہ آئینی مدت کا کیا کرنا ہے، جو 2018ء کے انتخابات میں موجودہ حکومت کو ملی، اس کی کسی کو کچھ پروا ہ نہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف اس نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی کہ ملک میں تبدیلی لائے گی، اس کے دعوؤں کا کوئی شمار قطار نہیں نا تجربہ کاری کے باعث وزیر اعظم عمران خان کو جو مشورہ دیا جاتا رہا وہ اسے قبول کرتے رہے، کسی نے کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس کی بھینسیں بیچ دیں تاکہ کفایت شعاری کا اچھا تاثر جائے تو انہیں بیچ دیا گیا۔ وزیر اعظم نے کسی کے مشورے سے یا پھر از خود یہ فیصلہ کیا کہ وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنایا جائے گا، بلا سوچے سمجھے اس کا بھرپور ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ لیکن جلد ہی عقل آ گئی کہ ایسا ممکن نہیں، یہ ریاستی ادارے کی علامت ہے اسے یوں ختم نہیں کیا جا سکتا، پھر یہ ابال آیا کہ تمام گورنر ہاؤسسز کو ختم کر دیا جائے۔ لاہور کے گورنر ہاؤس کی دیواریں گرانے کا نادر شاہی حکم بھی جاری کر دیا گیا۔ جلد ہی تبدیلی کے اس غبارے سے بھی ہوا نکل گئی۔ آج سب کچھ اپنی اپنی جگہ پر موجود ہے اور تبدیلی کہیں دور بیٹھی ہانپ رہی ہے۔ پھر بلا سوچے سمجھے یہ بڑھک ماری گئی کہ ملک میں ایک کروڑ نوکریاں پیدا کی جائیں گی۔ بڑی تالیاں بجیں، بہت شہرہ ہوا، لیکن جب آنکھ کھلی تو کچھ بھی موجود نہیں تھا۔ پچاس لاکھ گھر بنانے کا شوشہ بھی بڑے کروفر سے چھوڑا گیا۔ درخواستیں بھی مانگی گئیں، پاکستان ہاؤسنگ فاؤنڈیشن بھی بنا دی گئی، مگر حالت یہ ہے کہ پانچ سال میں پچاس لاکھ گھر بنانا تو درکنار پچاس ہزار گھروں کی تعمیر بھی ممکن نظر نہیں آ رہی۔ جنوبی پنجاب والے تو ویسے ہی حکومت سے متنفر ہوئے پھرتے ہیں کہ انہیں علیحدہ صوبے کا جھانسہ دے کر ووٹ لئے گئے، پھر علیحدہ سیکریٹیریٹ بنانے کا لولی پاپ دیا گیا، مگر اس معاملے میں بھی ہنوز دلی دور است کی صورت نظر آتی ہے۔

اقتصادی شعبے میں پہلے ہی حکومت کی کارکردگی ناقص تھی، کورونا نے آکر اس کی کارکردگی کے سارے دعوے ہوا میں اڑا کے رکھ دیئے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ بے روز گاری خوفناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ مہنگائی نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے، بجلی گیس اور پٹرول کو مہنگا کرنے کی پالیسی اختیار کر لی گئی ہے، جس کے بعد عوام کو ریلیف ملنے کی رہی سہی امید بھی ختم ہو گئی ہے۔ ان سب حقیقتوں سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا، مگر سوال یہ ہے کہ اس ساری صورت حال میں اپوزیشن کا کردار کیا ہے ایک تتر بتر اپوزیشن جو اکھٹی ہونے کو تیار نہیں بس ایک ہی راگ الاپتی ہے کہ حکومت گھر چلی جائے، یہ حکومت اگر گھر چلی جاتی ہے تو ہمارے پاس متبادل کیا ہے۔ کیا ملک بغیر حکومت کے چلے گا۔ کیا وقت سے پہلے حکومت کو گھر بھیج کے ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہو سکے گا۔ پھر تو آج کی حکومت کل کی اپوزیشن بن جائے گی اور پھر چوہے بلی کا یہ کھیل جاری رہے گا۔ کیا سب دیکھ نہیں رہے کہ اپوزیشن صرف مخالفت برائے مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ میں بہتری کے لئے اس نے کوئی تجاویز پیش کی ہیں اور نہ کورونا سے نمٹنے کے لئے حکومت کو مثبت مشورے دیئے ہیں۔ صرف یہی راگ الاپنے سے کیا حاصل ہو سکتا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم کٹھ پتلی ہے، فیصلے نہیں کر سکتا، جبکہ حکومت فیصلے بھی کر رہی ہے اور پورا نظام بھی چل رہا ہے۔

ہمیں تسلیم کر لینا چاہئے کہ ہمارا بگاڑ یکطرفہ نہیں دو طرفہ ہے یہ آج سے نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ حکومت اگر عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتی تو اپوزیشن بھی اس معاملے میں ناکام رہتی ہے۔ سیاسی جوڑ توڑ اور اقتدار کی غلام گردشوں میں کئے جانے والے فیصلوں کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا دنیا بھر کی جمہوریتوں سے ہماری جمہوریت اس لئے نرالی ہے کہ اس میں حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں ہی عوام کو بھول کر اپنے مخصوص مقتدر طبقے کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کرتی ہیں۔ جب تک ہمارا یہ طرز سیاست تبدیل نہیں ہوتا، اس وقت تک ملک میں حقیقی تبدیلی نہیں آ سکتی مگر ہماری اشرافیہ اس تلخ حقیقت کو کبھی تسلیم نہیں کرے گی۔

مزید :

رائے -کالم -