پلاٹ کیس، میر شکیل الرحمن کے جوڈیشل ریمانڈ میں 22روز کی توسیع

  پلاٹ کیس، میر شکیل الرحمن کے جوڈیشل ریمانڈ میں 22روز کی توسیع

  

لاہور(نامہ نگار) احتساب عدالت کے ڈیوٹی جج جوادالحسن نے غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں گرفتار جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کے جوڈیشل ریمانڈ میں 22 روز کی توسیع کرتے ہوئے انہیں 21 جولائی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیاہے۔ میر شکیل الرحمن کو گزشتہ روز کوونا وائرس کے باعث عدالت میں پیش نہیں کیا گیا،نیب کی طرف سے میر شکیل الرحمن،سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، سابق ڈی جی ایل ڈی اے ہمایوں فیض رسول اور بشیراحمد کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا چکا ہے، نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے دائر استغاثہ میں کہا گیاہے کہ میر شکیل الرحمن نے اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کی ملی بھگت سے ایک ایک کنال کے 54 پلاٹ ایگزمپشن پر حاصل کئے، میرشکیل الرحمن کا ایگزمپشن پر ایک ہی علاقے میں پلاٹ حاصل کرنا ایگزمپشن پالیسی 1986ء کی خلاف ورزی ہے، میر شکیل الرحمن نے میاں نواز شریف کی ملی بھگت سے 2 گلیاں بھی الاٹ شدہ پلاٹوں میں شامل کر لیں، نیب پراسیکیوٹر نے دائر استغاثہ میں یہ نشاندہی بھی کی ہے کہ میر شکیل الرحمن نے اپنا جرم چھپانے کے لئے پلاٹ اپنی اہلیہ اور کمسن بچوں کے نام پر منتقل کروا لئے،میاں نواز شریف اور میر شکیل الرحمن کے خلاف ریفرنس دو جلدوں پر مشتمل ہے، میر شکیل الرحمان کے خلاف ریفرنس 14 کروڑ 35 لاکھ مالیت کا دائر کیا گیا ہے، ریفرنس میں 21 گواہوں کو شامل کیا گیا ہے۔نیب کا مزید موقف ہے کہ 12 مارچ 2020 ء کو شروع ہونے والی انکوائری میں میاں نواز شریف کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے، میاں نواز شریف نے من پسند فرد کو نوازنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

، اختیارات کا کثرت سے غلط استعمال کیا گیا، نواز شریف نے بادشاہی طرز حکمرانی سے بطور چیئرمین ایل ڈی اے قانون کی دھجیاں اڑا دیں، میاں نواز شریف کے اقدامات سے سڑکیں اور گلیاں تک من پسند فرد کو سونپ دی گئیں، میاں نواز شریف نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بغیر کسی عوامی مفاد کے اراضی الاٹ کی، میاں نواز شریف کی جانب سے پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور ایگزیمپشن قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، میاں نواز شریف نے پلاٹوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ اور ایگزیمپشن میں نوازنے کی مثال قائم کرتے ہوئے جلد نوازی میں قوانین کو پس پشت ڈال دیا۔

مزید :

علاقائی -