وہ مسکراہٹ سے بھرپور چہرہ

وہ مسکراہٹ سے بھرپور چہرہ
 وہ مسکراہٹ سے بھرپور چہرہ

  

ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کے انتقال کی خبر ملی تو بالکل یقین نہ آیا،سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں فوراً ڈاکٹر اسلم ڈوگر کو فون کیا، وفات کا پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی اس لئے ان سے ڈاکٹر صاحب کا حال پوچھا، جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ تو چلے گئے۔دماغ ماؤف ہو گیا، چلے گئے، ایسے کیسے چلے گئے، انہوں نے تو خود اپنا فیس بک سٹیٹس ڈالا تھا، خود اپنی بیماری کی اطلاع دی تھی، ہسپتال جانے کی وجہ بیان کی تھی۔

ابھی تو ان سے ملنا تھا،مارچ میں لاک ڈاؤن کے دوران انہوں نے مجھے فون کیا تھا،اتفاق سے اس دن ہفتہ تھا، کہنے لگے، ’ہاں بھئی، سویرا، کہاں ہو؟‘ میں نے جواب دیا ’سر گھر پر‘، کہنے لگے ’کیوں؟ ڈیپارٹمنٹ نہیں گئی‘ میں نے کہا’سر! آج ہفتہ ہے، چھٹی ہے‘۔ڈاکٹر صاحب بولے ’لو ہم تو آج بھی کام کر رہے ہیں‘، ان کی اس بات کا جواب میں نے دل ہی میں دے دیا کہ سر اب آپ جیسا جذبہ کہاں سے لاؤں کہ چھٹی کے دن بھی کام کروں۔خیرطے پایا کہ جب کوروناسے جان چھوٹ جائے گی تو ایک ایم فل کے طالب علم کا وائیوا کرنا ہے۔میں نے انہیں کہا کہ سر جب آپ کہیں گے میں آجاؤں گی، کیا معلوم تھا کہ یہ نوبت ہی نہیں آئے گی، وہ اب کبھی نہیں بلائیں گے، اب میرے فون پر کبھی ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کا نام نہیں ابھرے گا۔میری ہر کامیابی پر، ہر خوشی پر ان کا فون فوراً آتا تھا، وہ اتنا ہنس کر اورکھلکھلا کر مبارک باد دیتے تھے کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ ان کی اپنی کامیابی ہے، صاف لگتا تھا وہ صرف زبان سے ہی اظہار نہیں کر رہے بلکہ دل سے خوش ہیں۔دلچسپ بات یہ کہ ابھی میں ان کو اطلاع دینے کے بارے میں سوچ ہی رہی ہوتی تھی کہ ان کا فون آ جاتا تھا، میں شرمندہ ہو جاتی اور وہ ہنس پڑتے۔انہوں نے ہمیشہ مجھے یہی احساس دلایا اور برملا اظہار بھی کرتے رہے کہ تم مجھے عائشہ اور اقصیٰ کی طرح ہی عزیز ہو۔

وہ کبھی دل میں کوئی بات نہیں رکھتے تھے، جو محسوس کرتے فوراً کہہ دیتے، شکوہ ہوتا تو بول دیتے، کوئی بات بری لگتی تب بھی کہنے سے دریغ نہ کرتے۔ عجب آدمی تھے، لوگ دنیا میں اپنے آگے بڑھنے کے لئے راستے بناتے ہیں، وہ دوسروں کے لئے راستہ بناتے تھے، لوگ اپنی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں وہ دوسروں کی کامیابی میں خوش ہوتے تھے، لوگ اپنے لئے مواقع کی تلاش میں رہتے تھے لیکن وہ دوسروں کو موقع فراہم کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ڈاکٹر مغیث کا کمال یہ تھا کہ وہ صبح نو بجے دفتر پہنچ جاتے تھے،ادارے کا چکر لگاتے تھے، پورا عملہ چاک و چوبند رہتا تھا۔پھر رات نو دس بجے تک بغیر آرام کئے کام کرتے رہتے اور کبھی کبھی تو اس سے بھی دیر تک، یہاں تک کہ وہ ہفتے اتوار کو بھی کام کرنے کے عادی تھے۔یہی وجہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آرام سے نہیں بیٹھے اور کام کرتے رہے اور کام کرتے کرتے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ کئی پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں ماس کمیونکیشن کے شعبوں کی بنیاد رکھی، ان کوپروان چڑھایا، لیکن جیسے ہی کسی سے کہیں بھی کوئی اختلاف پیداہوا، اسے چھوڑ کر آگے بڑھ گئے، دراصل وہ اداروں کے نہیں بلکہ ادارے ان کے محتاج تھے۔

ان کے ساتھ کام کرنے کا اپنا ہی مزہ تھا،جس دن ادارہ علوم ابلاغیات میں بطور لیکچرار میرا پہلا دن تھا، اسی دن میرا کیبن تیار تھا جس میں میرے لئے میز کرسی، کمپیوٹر سب کچھ موجود تھا، مجھے کسی چیز کا تقاضا نہیں کرنا پڑا۔ وہ فیکلٹی کو عزت دیتے تھے، اعتماد دیتے تھے، حوصلہ افزائی کرتے تھے اور کام کرنے کی مکمل آزادی بھی میسر ہوتی تھی۔ ان کی وفات کے بعد میرے کولیگ نوید اقبال جن کا تعلق چشتیاں سے ہے اور ہ ڈاکٹر صاحب کے بہت زیادہ قریب تھے کہنے لگے ہم جیسے چھوٹے علاقوں سے تعلق رکھنے والے کئی لوگوں کا ہاتھ انہوں نے تھاما،ورنہ ہمیں کون پوچھتا؟یہ بات دل کو لگی کہ واقعی ہیرے کی پہچان جوہری کو ہوتی ہے اور وہ ہی اس کی تراش خراش کا ہنر جانتا ہے۔غلطی پر اگر ڈانٹتے تھے تو اچھا کام کرنے پر اتنی تعریف کرتے تھے کہ شرمندگی محسوس ہونے لگ جاتی کہ آخر ایسا بھی کیا کمال کر دیا۔وہ سب کی بات سنتے تھے، مشورہ بھی کرتے تھے اور اکثر کہتے’تم لوگ تو جو کرنا ہوتا ہے کر جاتے ہو، لیکن بھگتنا مجھے پڑتا ہے‘۔ جو ٹھان لیتے تھے وہ کر گزرتے تھے۔

ادارہ علوم ابلاغیات میں،میں نے تقریباً ایک سال ان کی سربراہی میں کام کیا (اس کے بعد وہ ’ون مین ون پوزیشن‘ کی پالیسی کا شکار ہو گئے، سربراہی سے دستبردار ہور کر ڈین کی حیثیت سے فرائض سر انجام دینے لگے)۔میں نے اس ایک سال میں بہت کچھ سیکھا،بلکہ وہی سیکھ اب تک کام آ رہی ہے۔ ان کے کام کرنے کے اپنے اصول تھے جن پر وہ ڈٹ جاتے تھے، اپنے ساتھیوں کی حفاظت کرنا جانتے تھے، اگر کسی سے غلطی ہو جاتی تو خود تواس کی بھرپور ’عزت‘ کرلیتے لیکن کسی دوسرے کے سامنے اس کو’ڈیفنڈ‘ کرنے کے لئے حد سے گزر جاتے اسی لئے ہر کوئی ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے پر سکون ہوتا تھا، غلطی کی گنجائش موجود رہتی تھی، ہر بندہ بے خوف و خطر اپنا کام کرتا تھا۔ جب وہ ادارے کے سربراہ تھے تو ہر کام بہت ہی منظم انداز میں ہوتاتھا، وہ ہر جگہ، ہر پلیٹ فارم پر کوئی بھی مسئلہ، کوئی بھی کیس پھرپور طریقے سے لڑتے اور عموماً فاتح بن کر لوٹتے، اگر کہیں کمی بیشی رہ بھی جاتی تو اگلی بار کسر پوری کر لیتے۔ان کے دلائل پر زور اور بات میں دم ہوتا تھا،بعض اوقات بندہ نہ چاہتے ہوئے بھی ماننے پر مجبور ہو جاتا تھا۔

2008 میں گرمیوں کی چھٹیوں میں اسلام آباد میں ایک کورس کے لئے انہوں نے مجھے نامزد کیا، کورس دو ہفتوں کا تھا، میں نے انہیں کہا کہ میں کیسے جا سکتی ہوں، میرا بیٹا چھوٹا ہے اسے نہیں چھوڑ سکتی، کہنے لگے اسے ساتھ لے جاؤ، میں نے مزید آئیں بائیں شائیں کرنے کی کوشش کی تو بڑے آرام سے کہنے لگے جو مرضی کر لو، جانا تو تمہیں پڑے گا اور پھر واقعی مجھے جانا پڑا۔جب وہ ادارے کے سربراہ تھے تو پوری فیکلٹی دوپہر کو اکٹھے کھانا کھاتی تھی، بھوک ہو نہ ہو، کھانے میں شرکت لازمی تھی۔خود تو وہ پرہیزی کھانا کھاتے تھے، جو چھوٹے چھوٹے ڈبوں میں بند ان کے گھر سے آتا تھا لیکن اساتذہ کے لئے کھانا وہیں بنتا تھا۔اس دوپہر کے کھانے پر ہر کوئی اپنے دل کی بات کر لیتا تھا، ہنسی مذاق ہوتا، نوک جھونک ہوتی، گلے شکوے بھی ہو جاتے۔یوں معلوم ہوتا کہ سب ایک ہی گھر کے باسی ہیں۔ وہ ڈائریکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تو یہ روایت ختم ہو گئی اور ہماری آپس کی ملاقات،فیکلٹی میٹنگز تک ہی محدود ہو کر رہ گئی۔

اس بات سے ان کی مخالفین بھی اختلاف نہیں کر سکتے کہ ادارہ علوم ابلاغیات میں جتنی بھی ترقی ہوئی وہ ان ہی کے ویژن کا نتیجہ ہے۔عمارت میں وسعت،کمپیوٹرلیب، ریڈیوا سٹیشن، ٹی وی سٹوڈیو، یہ سب انہی کے زمانے میں بنے۔ریڈیو اسٹیشن کی نشریات میں صرف طلبہ و طالبات ہی نہیں بلکہ اساتذہ کابھی حصہ ہوتا تھا۔چھٹی کا لفظ تو ان کی ڈکشنری میں تھا ہی نہیں، اس لئے ریڈیو کی نشریات عید کی چھٹیوں میں بھی بند نہیں ہو تی تھیں۔چونکہ طلبہ و طالبات موجود نہیں ہوتے تھے تو وہ مختلف اساتذہ کی ڈیوٹی لگاتے کہ وہ وقت نکال کر نشریات کو سنبھالیں۔شروع میں ایک عید پر انہوں نے میری ڈیوٹی بھی لگائی کہ دو سے چار بجے تک کی نشریات تم نے کرنی ہے۔ میرے تو فرشتوں نے بھی کبھی یہ کام نہیں کیا

تھااور وہ بھی عید کے دوسرے دن۔ ٹالنے کی بڑی کوشش کی لیکن کوئی بہانہ کام نہ آیا۔مرتے کیا نہ کرتے، جانا ہی پڑا۔چار بجے فارغ ہوتے ہی پہلا فون ڈاکٹر مغیث کا تھا، ہنستے ہوئے بولے’میں نے پورا پروگرام سنا ہے، اچھا تھا، آہستہ آہستہ اور بھی بہتر ہو جائے گا‘۔ یہ ان کی خوبی تھی، وہ پوری ریڈیو نشریات خود سنتے تھے اور غلطیوں کی نشاندہی بھی کرتے تھے،طالب علموں کے تلفظ کی تصحیح بھی کرتے۔ان کے زمانے میں بڑی بڑی شخصیات ادارے میں آتیں، سیمینار ہوتے، جلسے ہوتے، کانفرنسیں ہوتیں،غیر نصابی سرگرمیوں پر پورا زور ہوتا، گویا ان کا دل کرتا تھا کہ بس ہر وقت ہر کوئی حرکت میں رہے، طلباو طالبات بلکہ اساتذہ بھی مصروف رہیں، کام کرتے رہیں۔

ان کی قائم کردہ بہت سی روایات ایسی ہیں جو آج بھی ادارہ علوم ابلاغیات میں قائم ہیں لیکن ایسی بھی ہیں جو آہستہ آہستہ دم توڑ گئیں، ان جیسی انتظامی صلاحیتیں اور ’انرجی‘ ہر کسی کی شخصیت کا خاصہ نہیں ہو سکتیں۔ان کے جانے کے بعد ان کا ایک ایک لفظ کانوں میں گونجتا ہے، ان کا مسکراہٹ سے بھرپور چہرہ نظر آتا ہے۔ عجب بات تویہ ہے کہ ڈاکٹر احسن اختر ناز بھی زیادہ یاد آنے لگے ہیں،ان دونوں کی دوستی خوب تھی، ہر وقت ساتھ نظر آتے تھے، ڈاکٹر ناز کے جانے کے بعد ان کی جوڑی ٹوٹ گئی تھی لیکن اب وہ دونوں ایک دفعہ پھر اگلے جہان میں اکٹھے ہو گئے۔ اب یہی دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ دونوں کے درجات بلند کرے۔

مزید :

رائے -کالم -