قومی اسمبلی نے نئے مالی سال کا بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا، اپوزیشن کی ترامیم مسترد

قومی اسمبلی نے نئے مالی سال کا بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا، اپوزیشن کی ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)قومی اسمبلی میں فنانس بل2020-21کی کثرت رائے سے منطوری دیدی گئی جبکہ اپوزیشن کی تمام ترامیم کو مسترد کر دیا گیا۔ فنانس بل کی منظوری کے دوران حکومت قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہی، فنانس بل کی منظوری کے دوران ووٹنگ میں حکومت 160جبکہ اپوزیشن کے119ووٹ حاصل کر سکی، بجٹ منظوری کے دوران حکومت نے اپنے مجموعی ووٹوں میں سے20جبکہ اپوزیشن نے اپنے مجموعی ووٹوں میں سے 42ووٹ کم حاصل کئے،ایم کیو ایم،پاکستان مسلم لیگ(ق)،جمہوری وطن پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی نے بجٹ منطوری کے دوران حکومت کا ساتھ دیا جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)کے سربراہ سردار اختر مینگل ایوان سے غیر حاضر رہے،انکی پارٹی کے2ارکان نے اپوزیشن کا ساتھ دیا۔اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ منظوری کے دوران شدید احتجاج کیا،اپوزیشن ارکان نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت مخالف نعرے درج تھے۔حکومتی ارکان کی جانب سے "کون بچائے گا پاکستان عمر ان خان عمران خان" جبکہ اپوزیشن کی جانب سے کون لوٹ رہا ہے پاکستان "عمران خان "کے نعرے لگائے گئے۔پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں فنانس بل2020-21کی حتمی منظوری لی گئی۔اجلاس کے آغاز میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوارحماد اظہر نے فنانس بل2020-21منظوری کیلئے پیش کیا۔ سپیکر اسد قیصر نے پہلے فنانس بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع کیا۔اپوزیشن کی جانب سے فنانس بل2020-21کی مختلف شقوں میں ترامیم پیش گئیں،جسے حکومت کی جانب سے رائے شماری کے بعد مسترد کر دیا۔فنانس بل کی شق9پر رائے شماری کو اپوزیشن کی جانب سے چیلنج کیا گیا،جس پر سپیکر نے شق پر ارکان کو کھڑے ہوکر ووٹنگ کی ہدایت کی،شق کے حق میں حکومت اور اسکے اتحادی جماعتوں کے160ارکان جبکہ شق کی مخالفت میں اپوزیشن کے119ارکان نے ووٹ دیا۔بل کی شق وار منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں فنانس بل2020-21کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ قومی اسمبلی سے بجٹ منظوری کے دوران اپوزیشن نے شور شرابہ کیا جبکہ پلے کارڈز اور پوسٹرز بھی لہرا دیئے،جس پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپوزیشن اراکین کی جانب سے پلے کارڈز لہرانے پر برہمی کا اظہار کیا اور ہدایت کی پلے کارڈز قواعد کی خلاف ورزی ہیں ان کو ہٹایا جائے۔حکومتی ارکان کی جانب سے "کون بچائے گا پاکستان ''عمر ان خان عمران خان"،جس کے جواب میں اپوزیشن ارکان نے کون لوٹ رہا ہے پاکستان "عمران خان "کے نعرے لگائے۔اپوزیشن ارکان نے ایوان میں پلے کارڈز لہرانا شروع کر دئیے جن پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نا منظور،عوام کا تیل نکال دیا،عوام کو مہنگائی کا ٹیکہ لگا کر بے سکون نہ کرو،پیٹرول گیس کی قیمتوں میں اضافہ عوام مسترد کرتی ہے،50لاکھ گھر دینے والے اب عوام کو مہنگائی کا تحفہ دے رہے ہیں،کسان دشمن بجٹ نامنظور،تیل،چینی اورگندم مافیہ نامنظور،ظالمانہ لوڈشیڈنگ بند کرو،سلیکٹڈ،آٹا،چینی،گندم چور نامنطور کے نعرے درج تھے۔بجٹ منظوری کے دوران حکومت نے اپنے مجموعی ووٹوں میں سے13جبکہ اپوزیشن نے اپنے مجموعی ووٹوں میں سے 42ووٹ کم حاصل کئے۔ایوان میں حکومت اور اتحادی جماعتوں کے ارکان کی تعداد180ہے جبکہ بی این پی مینگل سمیت اپوزیشن ارکان کی تعداد161ہے۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2020-21 کیلئے 72کھرب 94ارب 90کروڑ روپے حجم پر مشتمل 3437ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا تھا،بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا،ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف4963ارب اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 1610ارب روپے رکھا گیا ہے، دفاعی بجٹ بڑھا کر1289ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے،بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں وفاقی کیلئے650ارب روپے رکھا ہے،

بجٹ منظور

اسلام آ باد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک آئی این پی) قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن ارکان کی ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے اور ایک دوسرے پر شدید تنقید کی،اپوزیشن ارکان نے وزیر اعظم سے معافی یا مستعفٰی ہونے کا مطالبہ کردیا اور مراد سعید کو مائیک دینے پر احتجاجاً فنانس بل کی کاپیاں پھاڑدیں اور ایوان سے واک آؤٹ کیا، اجلاس کے دوران خواجہ آصف، فواد چوہدری اور اسعد محمود، علی امین گنڈا پور کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اپوزیشن ارکان خواجہ آصف، بلاول بھٹوزرداری، اسعد محمود اور احسن اقبال نے کہا کہ وزیر اعظم ملکی معیشت تباہ کرنے اور عوام کی جان خطرے میں ڈالنے پر قوم سے معافی مانگیں اور مستعفٰی ہو جائیں،وزیراعظم خود کو قرنطینہ کرلیں اور کوئی نوٹس نہ لیں کیونکہ جس چیز کا وہ نوٹس لیتے ہیں وہ مہنگی ہوجاتی ہے،۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، غلام سرو ر خان اور مراد سعید و دیگر نے کہا ہے کہ اپوزیشن والے کس باغ کی مولی ہیں کہ ان کے کہنے پر وہ استعفیٰ نہیں دیں گے، یہ تو کہتے تھے حکومتی اتحاد میں دراڑیں پڑ چکی ہیں مگر آج سب عمران خان کے بیانیے کیساتھ کھڑے ہیں اور ایوان میں موجود ہیں،آپ لوٹیں،کرپشن کریں،منی لانڈرنگ کریں اور عمران خان نوتس نہ لے،عمران خان نوٹس لیگا،ہم سوداگر نہیں ہیں نظریے کا سودا نہیں کریں گے، ہمارا مینڈیٹ ہی یہ تھا کہ پچھلے گند کو صاف کیا جائے۔پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیر صنعت وپیداوار حماد اظہر نے فنانس بل2020-21حتمی منظوری کیلئے پیش کیا۔اس موقع پر نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے راہنما سید نوید قمر نے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ آج ایوان میں گیلریزکو بھی ایوان کا حصہ بنائیں گے تاکہ سماجی فاصلے کو برقرار رکھا جائے،جس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اب اجلاس کی کارروائی شروع ہوچکی ہے اگر ارکان سمجھیں تو وہ گیلریز میں بیٹھ سکتے ہیں اور ووٹنگ کے وقت اجلاس میں آجائیں۔مسلم لیگ(ن)کے خواجہ محمد آصف نے کہاکہ آج کئی کرونا مثبت رکن ایوان میں آئے ہیں۔ علم ہوا ہے کہ حکومت نے کرونا مثبت ارکان کوووٹ کیلئے لایا ہیں۔ووٹ کے خوف میں یہ کیا گیا ہے۔ قوم کو یہ پیغام جائے گاکہ اقتدار کو بچانے اور بجٹ کو منظور کرانے کیلئے کرونا مثبت ارکان کو لایا گیا ور ایس او پیز کی خلاف ورزی کی گئی،سپیکر یقین دہانی کرائیں کہ آج اور کل کوئی کرونا مثبت ارکان نہیں ہونا چاہیے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کسی کرونا مثبت رکن کو دعوت دی ہے اور ن ہی غیر ذمہ دار ہیں۔ ہمیں کوئی ووٹ کا خوف نہیں کٹوتی کی تحریک میں اپوزیشن کو مکمل بات چیت کرنے کا موقع دیا گیا۔ اس عمل کی تردید کرتا ہوں کہ کرونا مثبت رکن کو لایا ہے یہ معلومات بے بنیاد ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ میرا مقصد ایوان میں بیٹھے ارکان کا تحفظ ہے۔ عوام کو پیغام جانا چاہیے کہ ایس او پیز پر عمل یہاں بھی ہو رہا ہے۔ اطلاع ملی ہے کہ کراچی میں سٹاک مارکیٹ میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا ہے۔ جو افسوس ناک ہے۔ 2013ء میں دہشت گردی کا بازار گرم تھا۔ کوئی بھی شخص دہشت گردی سے محفوظ نہیں تھا۔ شہداء کی قربایوں کی بدولت دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔ اس پر ساری قوم کا اتحاد ہے۔ ساری قوم دہشت گردوں کیخلاف متحد ہے۔ دہشت گردی کا جن لوگوں نے بیج بویا تھا ان کے سرغنہ اسامہ بن لادن کو انہوں نے شہیدکہا۔ اس سے فوج اور ملک کو نقصان پہنچا۔ دہشت گردی کا بیج بونے والے کو شہید کیوں قرار دیا گیا جو دہشت گردوں کو شہداء کہتے ہیں ان اللہ سے ملک کو محفوظ رکھے۔ پٹرول کی پہلے مصنوعی قلت پیدا کی گئی۔ شہریوں کی لمبی قطاریں لگائی گئیں۔ اس ایوان میں بھی احتجاج ہوا حکومت کے ارکان نے بھی اس بات کی نشاندہی کی یہ ایک سازش تھی۔ اس دوران خواجہ آصف اور فواد چوہدری کے درمیان جھڑپ ہوئی، خواجہ آ صف کی تقریر کے دوران فواد چوہدری نے مداخلت کی توخواجہ آصف نے کہا کہ آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہوں گا تمہیں ایوان میں جگہ نہیں ملے گی۔ فواد چوہدری نے جواب دیا کہ میں تمہارا ایسا علاج کروں گا کہ تمہیں سیالکوٹ میں جگہ نہیں ملے گی،خواجہ آ صف نے کہاکہ جناب اسپیکر یہ شخص مجھے 13 روز سے تنگ کر ریا ہے۔ سپیکر صاحب میں آپ کے چیمبر میں آ کر اس معاملہ کی وجہ بتا دوں گا۔خواجہ آصف کی بات پر فواد چوہدری اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے اور کہاکہ خواجہ آصف نے غلط بات کی معافی مانگیں، معافی مانگے بغیر ایوان کی کارروائی آگے نہیں بڑھے گی،شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک نے فواد چوہدری کو نشست پر بٹھا یا، سپیکر نے فواد چوہدری کو کہا حوصلہ کریں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ 12,10 دن جان بوجھ کر پٹرول کی قلت پیدا کی گئی۔ اس سازش میں اربوں روپے کا عوام کو ٹیکہ لگایا گیا۔ یہ اس طرح ہے جس طرح چینی کی قلت پیدا کی گئی۔ خواجہ آصف نے کہاکہ پٹرول کی قیمت میں اضافے سے مہنگائی کا طوفان آئے گا۔ انہوں نے لیکویڈیٹرسے وعدہ کیا ہوا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھائیں گے۔ انشاء اللہ ان کا راستہ روکیں گے۔ مہنگائی‘ غربت‘ کرونا سے بچاؤ کا ایک ہی طریقہ ہے کہ سب سے بڑا کرونا ہے اس کی انفکیشن سے بچا جائے۔ آج بے روزگاروں کی تعداد سوا کروڑ ہو گئی ہے،آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے چلی گئی ہے۔ اگر 10 فیصد سرکاری ملازمین کی تنخواہ بڑھائی جاتی ہے تو کون سی قیامت آ جاتی۔خواجہ محمد آصف کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا کہ ہمارا مینڈیٹ یہ تھا کہ پچھلے گند کو صاف کیا جائے جس طرح انہوں نے جمہوریت کے نام کو پامال کیا ہمیں لوگوں نے صفائی کیلئے پارلیمنٹ میں بھیجا ہے۔ سپریم کورٹ نے ہدایت کی تھی کہ گزشتہ 10 سالوں کے دوران پی آئی اے میں بھرتیں ہوئی ہیں ان کی تحقیقات کی جائے۔ ساری بھرتیاں سیاسی ثابت ہوئیں۔ اگر یہ بدنام داغ ان کی وجہ سے لگا ہے، 648 لوگ جعلی ڈگری والے ہیں ان میں 16 کاک پٹ کریو تھے،حادثات میں پائلٹ کی غفلت تھی جعلی ڈگریوں والے 2010 سے 2018ء تک بھرتی ہوئے ہیں انکوائری مکمل ہو گئی ہے کل کابینہ میں 40 لوگوں کا کیس لے کر جا رہے ہیں جعلی لوگوں کا پیچھا کریں گے،۔ وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ عمران خان نے سمارٹ لاک ڈاؤن کا نظریہ دیا کل یورپ نے بھی اپنانے کا اعلان کیا۔ خواجہ آصف نے کہاکہ مراد سعید سیاسی بیان دے رہے ہیں، مراد سعید کی ذاتی وضات بنتی نئی، اپوزیشن نے احتجاج کیا، کتبے لہرائے اور فنانس بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ایوان سے احتجاجاً واک آؤ ٹ کیا، اس دوران حکومتی ارکان نے چور چور کے نعرے لگائے اور چور بھاگ گئے کی آوازیں لگائی۔۔ اس دوران سپیکر نے شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن کو منا کر ایوا ن میں واپس لانے کی ہدایت کی تو شاہ محمود قریشی نے سپیکر کی ہدایت کو نظر انداز کرکے مراد سعید کو کہا کہ جاری رکھیں، مراد سعید نے کہاکہ جب میر ی تقریر ختم ہو گی تو واپس آجائیں گے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ اپوزیشن سے پوچھتا ہوں جب مراد سعید بات شروع کرتے ہیں اپوزیشن والے بھاگ کیوں جاتے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پورے پاکستان کو نظر آرہا ہے کہ وزیراعظم کے پاس دو آپشن ہیں ایک وہ مان لے کہ میں غلط ہوں عوام سے معافی مانگے کہ میں نے معیشت کو تباہ کیا ہے اور عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا یا وزیراعظم استعفیٰ دے کر گھر چلے جائے۔ بجٹ تقریر میں کہاکہ ہم نے کرونا وبا کے دوران عوام کو ریلیف دینے کے لئے پٹرول کی قیمتوں میں کمی کی مگر بجٹ ابھی منظور نہیں ہوا اور پٹرول بم عوام پر گرا دیا گیا۔ پی ٹی آئی جب اپوزیشن میں تھی تو پٹرولیم لیوی پر مسلم لیگ ن کی حکومت پر تنقید کرتی تھی پٹرولیم لیوی کا بم گرا کر عوام کی جیبوں میں ڈاکہ ڈالا گیا جو غیر قانونی ہے جو کام اوگرا نے کرنا تھا وہ ایک وزیر کیسے کرسکتا ہے پی ایس او اور پٹرولیم کمپنی کو فائدہ پہنچایا گیا،یہ لوگ کسیے خود کو تحریک انصاف کہتے ہیں۔ یہ کیسے عوام کو اپنا چہرہ دکھائیں گے ہم اس کی مزمت کرتے ہیں اور اس اقدام کو ہر فورم پر چیلنج کریں گے، راجہ پرویز اشرف رینٹل پاور کیس میں بری ہوگیا اور ان کا جہانگیر ترین لندن میں چھپا بیٹھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دیا۔بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کا الزام القادہ پر ہے یہ مسلم امہ کی پہلی خاتون وزیراعظم کو شہید نہیں کہتا اور اسامہ بن لادن کو شہید کہتا ہے،دہشت گردوں کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے کے نعرے لگائے۔اس موقع پر سپیکر اسد قیصر نے ہدایت کی کہ اس ایوان میں تمام ارکان کیلئے غیر مناسب الفاظ کا استعمال نہ کریں۔ جس پر بلاول بھٹو نے کہا کہ کے پی کے میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ نقصان ہوا مگر آپ نے وزیراعظم کے اسامہ بن لادن کو شہید کہنے کے الفاظ حذف نہیں کئے۔ وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر کا کہنا تھا کہ آج بجٹ منظوری کے بجائے ذاتی حملے کیے گئے، بجٹ نہ پڑھنے والوں نے شور مچایا،احتساب ان کے اعصاب پر سوار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹیکس فری بجٹ پیش کیا، شاید ہی کبھی ایسا بجٹ پیش کیا گیا ہو، جب بجٹ پیش بھی نہیں ہوا تھا تو اپوزیشن نے نا منظور نامنظور کے نعرے لگائے،ہم نے دو بڑی مافیاز کو نکال باہر کیا اور نوجوان نسل ان کے سامنے لاکھڑی کی ہے۔جمعیت علما ء اسلام کے راہنما اسعد محمود نے کہاکہ حکومت ایوان کو بے توقیر کر رہی ہے۔ اپوزیشن نے بجٹ پر مثبت تجاویز دی ہیں۔ یہ آئی ایم ایف کا تیار کردہ بجٹ انہوں نے لایا ہے۔ عوام معاشی قتل ہے۔ عالمی اسٹبلشمنٹ کو پاکستان کی ترقی کھٹکتی ہے۔ ایجنڈے کے تحت انہوں نے آپ کو ہم پر مسلط کیا اور ہماری اسٹبلشمنٹ کو دباؤ میں لایا۔

اپوزیشن احتجاج

مزید :

صفحہ اول -