سٹا ک ایکسچینج پر حملہ ناکام، سکیورٹی فورسز نے 8منٹ میں چاروں دہشتگردمار ڈالے

      سٹا ک ایکسچینج پر حملہ ناکام، سکیورٹی فورسز نے 8منٹ میں چاروں ...

  

کراچی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گروں کا حملہ ناکام بنا دیا،مقابلے میں 4 دہشت گردمارے گئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک سب انسپکٹر سمیت4سیکیورٹی گارڈ اورایک شہری بھی جاں بحق ہوگیا۔گورنرسندھ اوروزیراعلیٰ سندھ نے دہشت گردی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹاک ایکس چینج پر حملہ پاکستان کی معیشت پر حملہ ہے، اسٹاک ایکس چینج کو سیکیورٹی فراہم کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔تفصیلات کے مطابق پیرکی صبح 10بجے کے قریب4دہشت گرد نے سفید رنگ کی ایک کار میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے احاطے میں داخل ہوئے، گاڑی سے نکلتے ہی انہوں نے فائرنگ شروع کردی۔ اس موقع پر عمارت کی سیکیورٹی پر تعینات گارڈز اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی، جس پر دہشت گردوں نے فائرنگ کے ساتھ ساتھ دستی بم پھینکے تاہم سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے 2دہشت گرد داخلی گیٹ پر ہی مارے گئے جبکہ بقیہ اسٹاک مارکیٹ عمارت میں داخل ہونے سے پہلے ہی مارے گئے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری پاکستان سٹاک ایکسچینج کے اطراف پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ڈی آئی جی ساؤتھ شرجیل کھرل کے مطابق 4دہشت گردوں نیسٹاک مارکیٹ کی عمارت پر حملہ کیا 2دہشت گرد داخلی گیٹ پر ہی مارے گئے جبکہ دو دہشت گرد عمارت میں داخل ہوگئے تھے جن کو سرچ آپریشن کے دوران ہلاک کردیا گیا۔ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کے بیگز سے دستی بم، پانی کی بوتلیں، کھانے پینے کی اشیاء اور جدید اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق ان کے پاس بارودی مواد سے بھری جیکٹس بھی موجود تھیں۔ابتدائی اطلاع کے مطابق مسلح افراد نے سٹاک ایکسچینج میں داخل ہونے کی کوشش کی جن میں سے دو کو مرکزی گیٹ پر ہلاک کردیا گیا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر چار افراد کار میں سوار ہو کر اسٹاک ایکسچینج کی حدود میں داخل ہوئے اوردو حملہ آوروں کو عمارت کے مرکزی گیٹ پر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ دہشت گردوں سے برآمد ایمونیشن کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ وہ بڑی کارروائی کی غرض سے آئے تھے، ان کے پاس جدید ہتھیار، رائفل، کلاشن کوف، اور ہینڈ گرینڈز موجود تھے، تاہم بہادرسیکیورٹی گارڈز نے ان کا حملہ ناکام بنایا۔ کراچی پولیس چیف نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ایک پولیس سب انسپکٹر محمد شاہد اور چار سیکیورٹی گارڈز شہید ہوئے ہیں۔ فائرنگ کے تبادلے میں متعدد شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ایس ایس پی مقدس حیدر کے مطابق سب انسپکٹر محمد شاہد، پولیس کانسٹیبل سعید اکرم اور سیکیورٹی گارڈ افتخار فضل بھی شہید ہوئے ہیں اور دیگر کی شناخت کا عمل جاری ہے۔۔ڈاکٹرزکے مطابق چاروں دہشت گردوں نے ٹی شرٹ، جینز اور ٹراؤزر پہنے ہوئے تھے، دہشتگردوں کی جیبوں سے شناخت کی کوئی چیز نہیں نکلی، حملہ آوروں کی عمریں 22 سال سے 28 برس کے درمیان ہیں۔دوسری جانب پولیس ذرائع نے بتایاکہ 2 سے 3 مشتبہ افراد کو پولیس نے جائے وقوعہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کی گاڑی تحویل میں لے لی ہے، برآمد کئے گئے اسلحے میں دستی بم اور آٹو میٹک رائفلیں شامل ہیں۔ اسلحے کو فرانزک لیباریٹری بھجوادیا گیا ہے۔سندھ رینجرز کے جاری بیان کے مطابق تمام دہشتگرد مارے گئے ہیں جس کے بعد سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری کیاگیا جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار معمول کے مطابق چلتا رہا، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار تجارتی لین دین میں مصروف رہے اور ٹریڈنگ ایک لمحہ بھی معطل نہیں ہوئی۔ پولیس کے مطابق اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کے 2 مرکزی دروازے ہیں، پہلا دروازہ آئی آئی چندریگر روڈ اور اسٹیٹ بینک سے متصل ہے، پہلے دروازے سے بیرئیر سے گزرنے کے بعد صرف خصوصی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہوتی ہے، دوسرا دروازہ پاکستان ریلوے کارگو سے ملا ہوا ہے، عام افراد کو ریلوے کارگو دروازے سے داخل ہونے کی اجازت ہوتی ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا اپنا نجی سیکیورٹی نظام ہے، داخلی دروازوں پر واک تھرو گیٹس اور چیکنگ کی جاتی ہے، عام طور پر بکتر بند گاڑی اسٹاک ایکسچینج کے احاطے میں مسلسل گشت کرتی ہے، احاطے پر 5مسلح سیکیورٹی اہلکار تعینات ہوتے ہیں، 2 مرکزی دروازروں سے اسٹاک ایکسچینج کے احاطے میں مجموعی طور پر 20اہلکار ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں۔داخلی دروازے سے دائیں جانب انتظامیہ، سی ای او اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے دفاتر جب کہ بائیں جانب ٹریڈنگ ہال، بروکرز اور ڈائریکٹرز کے دفاتر ہیں، گراؤنڈ فلور پر مختلف بینکوں کے دفاتر ہیں، کوروناوبا کے باعث پہلے ہی اسٹاک ایکسچینج اور بینکوں میں محدود اسٹاف آرہا تھا، اکثر دفاتر اور بینک کورونا کیس مثبت آنے پر بند تھے۔گورنرسندھ عمران اسماعیل نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف ہماری مستقل جنگ کو نقصان پہنچانا ہے۔گورنر سندھ نے آئی جی پولس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مجرموں کو زندہ پکڑنے اور ان کے ہینڈلرز کو عبرتناک سزائیں یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ ہم ہر قیمت پر صوبہ سندھ کا تحفظ کریں گے۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ملکی سلامتی اور معیشت پر حملے مترادف ہے۔وزیراعلی سندھ نے پولیس اور رینجرز کی طرف سے بروقت کارروائی کرنے کو سراہا اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید چوکس رہنے کی ہدایت کی۔وزیر اعلی نے کہاکہ وبائی صورتحال کے پیش نظر ملک دشمن عناصر ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے واقعے کی مکمل تفصیلی انکوائری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔ دوسری طرف انتہا پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی(بی ایل اے)نے پیر کی صبح کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔بی ایل اے نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے حملے میں ملوث افراد کے نام بھی جاری کردئیے ہیں، جن میں تسلیم بلوچ عرف مسلم، شہزاد بلوچ عرف کوبرا، سلمان حمال عرف نوٹک اور سراج کنگر عرف یاگی شامل ہیں۔سیکیورٹی اداروں نے پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کے ماسٹر مائنڈ کا پتا لگا لیا ہے، کالعدم تنظیم کا بشیر زیب نامی کمانڈر دہشتگرد حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے۔بشیر زیب ہلاک دہشتگرد اسلم اچھو کے بعد کمانڈر بنا تھا،اسلم اچھو چائینز قونصلیٹ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم نے بھارتی خفیہ ایجنسی‘’را”کی فنڈنگ سے چائنیز قونصلیٹ پر حملہ کیا تھا۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملے میں‘’را”فنڈنگ کے شواہد ملے ہیں۔ دہشتگرد بشیر زیب اپنے ساتھی اللہنذر کیساتھ افغانستان کے شہر قندھار میں ہے۔وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حملے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ معاملے کی تحقیقات شروع ہو چکی ہے۔ حملے کے ماسٹر مائنڈ تک پہنچا جائے گا۔پاکستان سٹاک مارکیٹ پر دہشت گرد حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی جس کے مطابق دہشتگردوں کی شناخت تسلیم بلوچ، شہزاد بلوچ، سلمان اور سراج کے نام سے ہوئی ہے اور ان کی عمریں 25 سے 35 سال کے درمیان ہیں۔ دہشتگرد باقاعدہ تربیت یافتہ تھے۔ واقعے میں استعمال شدہ گاڑی کی نمبر پلیٹ جعلی نکلی ہے جس کا انجن نمبر اور نمبر پلیٹ الگ الگ ہیں، گاڑی نجی بینک کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردوں کا حملہ خودکش طرز کا تھا جس میں ملزمان نے زندہ واپسی مشن میں شامل نہیں رکھی تھی اور ملزمان کے پاس طویل دورانیے تک لڑنے کا سامان تھا۔ انچارج انسداد دہشتگردی ونگ راجا عمر خطاب کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے برآمد کیے گئے سامان میں بھاری تعداد میں دستی بموں اور جدید ہتھیاروں کے علاوہ پانی کی بوتلیں بھنے ہوئے چنے اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دہشتگردوں کے پاس سے برآمد ہونے والے سامان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملزمان نے اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں گھسنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں سے طویل دورانیے تک لڑنے کا سامان جمع کر رکھا تھا اور دہشت گردوں کی زندہ واپسی مشن میں شامل نہیں تھی۔ راجہ عمر خطاب کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے پاس سے خودکش جیکٹ نہیں ملی۔

حملہ ناکام

کراچی (سٹاف رپورٹر،این این آئی)پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ ناکام بنانے پر سیکیورٹی گارڈز کو خراج عقیدت پیش کیا۔ پیر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیکیورٹی گارڈز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی گارڈز کے چوکس رہنے کے باعث دہشت گردوں کا حملہ ناکام ہوا۔آرمی چیف نے سندھ رینجرز اور پولیس کے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کو بھی سراہا اور کہا کہ رینجرز اور پولیس نے مختصر وقت میں دہشت گردوں کا صفایا کیا۔آرمی چیف نے کہا کہ آپریشنل تیاری مکمل رکھنے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے قابل تعریف ہیں، ہم نے اپنی قوم کے عزم اور شہیدوں کی قربانیوں کی بدولت امن حاصل کیا ہیاس ے پہلے ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر احمد بخاری نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی پشت پناہی پر پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسی را ملوث ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر چینی قونصل خانے پر حملے سے مماثلت رکھتا ہے۔ کراچی میں ڈیڑھ سال سے کوئی دہشت گردانہ کارروائی نہیں ہوئی، دہشت گرد کراچی کی رونقیں خراب کرنا چاہتے ہیں، آج کا حملہ 10 اور 19 جون کے حملوں کی کڑی ہے دہشت گردوں کو اہداف حاصل نہیں کرنے دیئے، وہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں داخل نہیں ہوسکے، فورسز نے 8 منٹ میں مشترکہ کارروائی کرکے دہشتگردوں کو ماردیاہے۔پیر کو رینجرز ہیڈ کوارٹر میں ڈی جی سندھ رینجرز میجر جنرل عمر احمد بخاری اور ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور واقعے کی تفصیلات سے متعلق آگاہ کیا۔ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر احمد بخاری نے بتایا کہ دہشت گردوں کو اہداف حاصل نہیں کرنے دیئے، وہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں داخل نہیں ہوسکے، فورسز نے 8 منٹ میں مشترکہ کارروائی کرکے دہشتگردوں کو مارا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی آئی چندریگر روڈ پاکستان اسٹاک ایکسچینج بلڈنگ پر صبح 10 بجکر 2 منٹ پر 4 دہشت گرد گاڑی میں سوار ہو کر آئے اور 10 بجکر 10 منٹ پر اس کارروائی کا اختتام ہوگیا، یعنی قانون نافذ کرنے والوں نے صرف 8 منٹ میں دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا۔ڈی جی سندھ رینجرز نے بتایا کہ 2 دہشت گردوں کو پہلے پکٹ پر مار گرایا، مزید آگے پہنچنے والے 2 دہشت گردوں کو اگلے مرحلے میں مار دیا گیا، یہ عمارت میں داخل ہوکرلوگوں کو قتل اور یرغمال بنانا چاہتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ رینجرز، پولیس اور پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈ پر مشتمل سیکیورٹی ونگ نے یہ کارنامہ سرانجام دیا، اگلے 20 منٹ میں تمام کارروائی مکمل کر لی گئی تھی۔ڈی جی رینجرز سندھ نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں ایک ہزار سے زائد افراد کا عملہ ہوتا ہے، دہشت گرد قتل و غارت اوریرغمال بنانے کے منصوبے کے تحت آئے تھے، وہ عمارت میں موجود شہریوں کو یرغمال بنانا چاہتے تھے، وہ جدید اسلحے سے لیس تھے، ان کے پاس کھانے پینے کی اشیا بھی تھیں،دہشت گردوں نے سیدھی گولیاں چلائیں، اس حملے کی مماثلت چینی قونصلیٹ پر حملے سے ملتی ہے۔دہشت گرد حملے کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کرلی ہے۔ ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر احمد بخاری نے بتایا کہ پاکستان کی معروف بلڈنگ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ٹارگٹ بنانے کا مقصد پاکستان کی خوشحالی کو نقصان پہنچانا تھا، اس دہشت گرد حملے کے باوجود اسٹاک ایکسچینج میں کام جاری رہا بلکہ مثبت رہا۔ڈی جی رینجرز سندھ نے بتایا کہ اس واقعے میں رینجرز اور پولیس کی ریپٹ ایکشن فورس نے بروقت کارروائی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ادراک ہے کہ ملک دشمن ایجنسیاں کوششیں کر رہی ہیں کہ بچے کچے دہشت گردوں کے پاکستان کے خلاف استعمال کریں مگر ہم واقف ہیں کہ کون کیا کررہا ہے، ان کے خلاف کام شروع کرچکے ہیں اور انہیں نیست و نابود کریں گے۔ڈی جی رینجرز سندھ نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ انٹیلی جنس کی ناکامی نہیں ہے، دہشت گرد 8 منٹ میں فارغ ہوگئے یہ تمام ایجنسیوں کی مشترکہ کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے گمراہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوششیں بھی جاری ہیں، دہشت گردی کی ایسی مزید کوئی ناپاک کوشش ہوئی تو ہم اس سے بھی بہتر طریقے سے جوابی کارروائی کریں گے۔میجر جنرل عمر بخاری نے کہا کہ کراچی میں ڈیڑھ سال سے کوئی دہشت گردانہ کارروائی نہیں ہوئی، دہشت گرد کراچی کی رونقیں خراب کرنا چاہتے ہیں، آج کا حملہ 10 اور 19 جون کے حملوں کی کڑی ہے، دہشت گردوں کو اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے کے لئے جگہ نہیں مل رہی، دہشت گرد تنظیموں اور سلیپرزسیلز کا نیکسز بن رہا ہے، یہ حملہ کسی خفیہ ایجنسی کے بغیر نہیں ہوسکتا، سلیپنگ سیلز کے بغیر ایسا حملہ کرنا ناممکن ہے،بھارتی خفیہ ایجنسی را کی فرسٹیشن آپ کے سامنے ہے۔ غیرملکی ایجنسیز کی کوشش ہے کہ بچے کچے سلیپرز سیل کو یکجا کیا جائے۔میجر عمر بخاری نے کہا کہ بلوچستان میں آپریشن بھرپور انداز سے جاری ہے، عوام سے اپیل ہے،رینجرز پولیس، دیگر اداروں پر اعتماد رکھیں۔کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے کہا کہ بہتر رسپانس کی وجہ سے دہشت گرد اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے، دہشت گردوں نے دلبرداشتہ ہوکر کارروائی کی، دہشت گرد نیٹ ورک کے کچھ لوگوں کو پہلے پکڑا جاچکا تھا۔ ایسے کئی حملوں کو وقت سے پہلے ہی انٹیلی جنس انفارمیشن کی بنیاد پر ناکام بنایا گیا۔

ڈی جی رینجرز

مزید :

صفحہ اول -