ہلمند، طالبان کے فائر کئے گئے مارٹر گولے بازار میں جا گرے، 10شہری جاں بحق

ہلمند، طالبان کے فائر کئے گئے مارٹر گولے بازار میں جا گرے، 10شہری جاں بحق

  

لشکر گاہ / میمنہ/قندھار(شِنہوا)افغانستان میں طالبان کے مارٹر حملوں اوردیگر کاروائیوں میں 10شہری ہلاک ہو گئے جبکہ طالبان شوٹر کی فائرنگ سے ضلعی پولیس کے سربراہ سمیت2اہلکار ہلاک ہوگئے،4عسکریت پسند بھی مارے گئے۔ افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے ایک مقامی بازار میں پیر کے روز ایک مارٹر گولہ گرنے اور اس کے بعد ہونے والے کار بم دھماکے میں 23 شہری اور دو طالبان عسکریت پسند ہلاک ہوگئے، یہ بات صوبائی حکومت کے ترجمان نے بتائی۔ترجمان عمر ژواک نے شِنہوا کو بتایا کہ طالبان عسکریت پسندوں نے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 9بجے کے قریب صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین میں ایک فوجی کیمپ پر مارٹر گولے فائر کیے۔ مارٹروں کے متعدد گولے ہدف کی بجائے ایک مقامی بازار میں گرے۔انہوں نے کہا کہ ایک مارٹر گولا ایک دکان میں کھڑی کار پر لگا جس سے دھماکہ ہو ااور10شہری جاں بحق اور 15زخمی ہوئے۔ ژواک نے طالبان کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ مارٹر گولے افغان فوج کے جوانوں نے فائر کئے تھے۔ ادھر افغانستان کے شمالی صوبے فاریاب میں طالبان کے ایک نشانہ باز نے ایک قائم مقام ضلعی پولیس سربراہ اور افغان نیشنل آرمی کے ایک سپاہی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ صوبائی پولیس کے ترجمان عبدالکریم اروش نے شِنہوا کو بتایا کہ ضلع خواجہ سبز پوش کے قائم مقام پولیس سربراہ شاہ محمد عرب پیر کی صبح ضلع کے مضافات میں افغان سکیورٹی فورسز کی مشترکہ چوکی کا معائنہ کر رہے تھے۔ معائنے کے دوران عسکریت پسندوں نے طویل فاصلے سے گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں عرب اور افغان نیشنل آرمی کا ایک جوان شہید ہو گیا۔ دوسری جانب افغانستان کے جنوبی صوبہ قندہار میں اتوار کی شب 2طالبان اس وقت ہلاک اور 3 دیگر زخمی ہوئے جب وہ ایک دیسی ساختہ بم نصب کرنے میں مصروف تھے کہ بم قبل از وقت دھماکے سے پھٹ گیا،یہ بات مقامی پولیس نے پیر کے روز بتائی۔صوبائی پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واقعہ شاہ ولی کوٹ ضلع کے چنار علاقے میں پیش آیا۔ زخمی ہونے والے جنگجوں کو ان کے ساتھیوں نے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔طالبان نے تاحال اس حوالے سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

ہلمند،حملے

مزید :

صفحہ آخر -