پٹرول کی قیمت میں 25روپے اضافہ عوام پر ظلم: پاکستان فورم

  پٹرول کی قیمت میں 25روپے اضافہ عوام پر ظلم: پاکستان فورم

  

ملتان (سٹاف رپورٹر) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ باعث تشویش‘ واپس لیاجائے‘ فی لیٹر پٹرول پر 47روپے ٹیکسز عوام پر ظلم ہے‘ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے وعدے پورے کرے۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین تعلیم و اساتذہ تنظیموں کے عہدیداران نے پٹرولیم کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر ”روزنامہ پاکستان“ٹیلیفونک فورم میں ردعمل ظاہر کرتے (بقیہ نمبر3صفحہ6پر)

ہوئے کیا۔ معروف ماہر تعلیم‘اساتذہ رہنما‘سابق ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری ملتان رانا ولایت علی نے کہا کہ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر7روپے کمی کی تو نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پٹرول کی سپلائی بند کردی اور ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی حکومت صورتحال کنٹرول نہ کرسکی اور بالآخر پٹرول کی قیمت میں یکدم 25روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا‘ یہ کیا منطق ہے؟‘ اس سے قبل پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی یکم تاریخ کو کی جاتی ہے مگر اس بار 24تاریخ کو ہی قیمت بڑھا دی ہے۔ مزید تعجب یہ ہے کہ حکومت پٹرول پر فی لیٹر 47روپے ٹیکس لے رہی ہے۔ سینئر سماجی رہنما و ماہر تعلیم میاں محمد نعیم ارشد نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے۔حکومت عوام کو ریلیف دے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں یکدم 25روپے فی لیٹر اضافہ واپس لے۔ چیف آرگنائزر ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن پنجاب رانا محمد اسلم انجم نے کہا کہ فی لیٹر پٹرول پر 47روپے ٹیکس ظلم ہے‘ حکومت قیمتوں میں حالیہ اضافہ واپس لے اور عوام کو ریلیف فراہم کیاجائے۔پنجاب ایس ای ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن ملتان کے ضلعی صدر رانا محمد دلشاد علی‘سیکرٹری اطلاعات ملتان ڈویژن راؤ ساجد مصطفی‘ضلعی فنانس سیکرٹری ملتان ملک غلام عباس اور ضلعی سیکرٹری اطلاعات ملتان محمد یونس خان نے کہا کہ مہنگائی بڑھتی جارہی ہے مگر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی گئیں‘ حکومت ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 50فیصد اضافہ کرے اور تمام ایڈ ہاک الاؤنسز ضم کئے جائیں۔ مزید براں پٹرول کی قیمت میں حالیہ 25روپے فی لیٹر اضافہ بھی واپس لیاجائے۔

فورم

مزید :

ملتان صفحہ آخر -