خاتون سمیت2افراد قتل‘ حادثات میں 13جاں بحق

    خاتون سمیت2افراد قتل‘ حادثات میں 13جاں بحق

  

ملتان،جودھ پور، نواں شہر،میلسی، لودھراں، ترنڈہ محمد پناہ،رحیم یار خان،کوٹ چھٹہ،اڈا ذخیرہ (وقائع نگار،نمائندگان پاکستان)خاتون سمیت 2افراد کو قتل کردیا گیا جبکہ حادثات میں 13افراد جاں بحق ہوگئے۔ تفصیل کے مطابق نشتر ہسپتال ٹریفک حادثات میں زخمی(بقیہ نمبر40صفحہ7پر)

ہوکر آنے والے دو افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ تفصیل کے مطابق چار روز قبل ٹریفک حادثہ میں زخمی ہوکر نشتر ہسپتال لایا جانے والا48سالہ نامعلوم شخص وارڈ نمبر26میں دم توڑ گیا جبکہ خانیوال میں ٹریفک حادثہ میں زخمی ہوکر ریسکیو1122کی جانب سے لایا جانے والا 60سالہ معمر شخص بھی خالق حقیقی سے جاملا تاہم ان کی کوئی شناخت نہ ہوسکی،نشتر چوکی پولیس نے دونوں نامعلوم نعشوں کو اپنی تحویل میں لیکر سرد خانہ رکھوانے کے بعد ورثا کی تلاش شروع کردی ہے۔جبکہ تھانہ نواں شہر کی حدود میں غیرت کے نام پر حوا کی بیٹی کاقتل،مقدمہ درج،مقتولہ کا خاوند ساس اور سسرگرفتار،تھانہ نواں شہر کی حدود کے علاقہ میں سنگین نوعیت کی وارداتوں کا ہونا معمول بن چکا ہے۔تفصیل کے مطابق گذشتہ روز بھٹہ واہن کی رہائشی گلناز بی بی کواس کے خاوند محمد جاوید مغل نے پسٹل کے فائر کرکے قتل کردیا مقتولہ گلناز بی بی کے والد غلام فرید کی درخواست پر خاتون کے خاوند،ساس اور سسر کے خلاف مقدمہ درج کردیا گیا،سات سال قبل گلناز بی بی سے جاوید مغل نے پسند کی شادی کی تھی دو بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئی،مقتولہ کے والد نے بتایا کہ ہمیں انصاف چاہیے۔ادھر نامعلوم گاڑی سوار مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر کے بار ایسوسی ایشن میلسی کے ایگزیکٹو ممبر کو دن دھاڑے قتل کردیا جبکہ ان کی والدہ معجزانہ طور پر محفوظ رہی بتایا جاتا ہے کہ میلسی بار کا ایگزیکٹو ممبر طاہر شہزاد پیر زادہ ایڈووکیٹ اپنی والدہ کے ہمراہ والدہ کی دوائی لینے کیلئے کار میں سوار ہو کر اپنے گھر سے میلسی ہسپتال آ رہا تھا جب وہ چھتانیہ روڈ پر چاہ طوطاں والا کے قریب پہنچے توسپیڈ بریکرپر پرکار آہستہ ہونے لگی تو اس دوران سفید گاڑی جی ایل آئی ان کی کار کے سامنے آ گئی اور نامعلوم افراد نے طاہر شہزاد پیر زادہ ایڈووکیٹ پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے جنہیں طبی امداد کیلئے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میلسی لایا جارہا تھا کہ وہ مہلک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ راستے میں جاں بحق ہوگیا معلوم ہوا ہے کہ مقتول کے سینے پر بھی تین گولیاں لگیں ہیں جبکہ مقتول کی والدہ معجزانہ طور پر محفوظ رہی مقتول کی نعش پوسٹمارٹم کے لئے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میلسی پہنچادی گئی اس دوران وکلا کی بڑی تعداد ہسپتال پہنچ گئی واضح رہے کہ مقتول میلسی بار کے سابق جنرل سیکرٹری آصف پیر زادہ ایڈووکیٹ کے بھائی تھے میلسی بار کے صدر نے اس بہیمانہ قتل پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اس دوران وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔علاوہ ازیں اڈا شاہنال کے قریب 2 سالہ بچہ کھیلتے ہوئے نہر میں گر کر ڈوب گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق کھوہ آری والا کے رہائشی ساجد نامی شخص کا 2 سالہ بیٹا زاہد اڈا شہنال کے قریب نہر کنارے کھیل رہا تھا کہ کھیلتے ھوئے نہر میں گر کر ڈوب گیا ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور تین گھنٹے طویل سرچ آپریشن کے بعد بچے کی نعش تلاش کر لی ریسکیو ٹیم نے سی پی آر پرفارم کرنے کے بعد نعش ورثا کے حوالے کر دی۔ادھر دنیا پور کے نواحی چک 231 ڈبلیو بی میں ایک خاتون گٹر میں گر گئی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئی ریسکیو ٹیم نے آپریشن کرکے جانبحق خاتون کی نعش کو باہر نکالاریسکیو ٹیم نے سی پی آر پرفارم کرنے کے بعد نعش ورثہ کے حوالے کر دی۔ جانبحق خاتون زینب زوجہ ندیم عمر 20 سال 231 ڈبلیو بی کی رھائشی تھی۔ جبکہ فیض کالونی کی رہائشی خاتون شریف اور ڈھولے کی والدہ گزشتہ روز شہر سے گھر آتے ہوئیسڑک کراس کررہی تھی کہ رکشے نے ٹکر مار دی جس وہ شدید زخمی ہوگئی۔جسے دیہی مرکز صحت ترنڈہ محمد پناہ طبی امداد کے لیے لایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکی اور جاں بحق ہوگئی۔جبکہ جلال پور روڈ اڈا بنگلہ کے قریب دو موٹر سائیکلوں کے درمیان تصادم سے ایک موٹر سائیکل سوار گر کر پیچھے آنے والے ٹرک کے نیچے آکر موقع پر جانبحق ھو گیا اور ایک موٹر سائیکل سوار شدید زخمی ہو گیا ریسکیو ٹیم نے نعش ورثہ کے حوالے کر دی جبکہ زخمی کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ھسپتال منتقل کر دیا جانبحق ھونے والے 25 سالہ فیاض احمد ولد نور احمد کا تعلق بندلی پور سے تھا۔ ادھر ڈہرکی کے رہائشی محمد ایاز‘ محمد صدام اور محمد اشرف کار پر سوار ہو کر جا رہے تھے کہ تیز رفتاری کے باعث ظاہر پیر کے قریب کار کا ٹائر پھٹ گیا اور کار بے قابو ہو کر الٹ گئی‘ کار میں سوار محمد ایاز موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیاجبکہ 2 افراد محمد صدام اور محمد اشرف شدید زخمی ہو گئے‘ موٹر وے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو طبی امداد کیلئے شیخ زید ہسپتال منتقل کیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔جبکہ نورے والی کا رہائشی 45 سالہ عبدالعزیز بجلی کا کام کرنے میں مصروف تھا کہ اچانک کرنٹ لگ گیا اور وہ جھلس کر شدید زخمی ہو گیا‘ ورثاء نے طبی امداد کیلئے شیخ زید ہسپتال منتقل کیا جہاں طبی امداد کے باوجود وہ جانبر نہ ہو پایا اور دم توڑ گیا۔جبکہ سنجر پور کا رہائشی 15 سالہ علی احمد جو کہ اپنے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر جا رہا تھا کہ تیز رفتاری کے باعث سامنے سے آنے والی کار سے ٹکرا گیا اور شدید زخمی ہو گیا‘ ورثاء نے طبی امداد کیلئے شیخ زید ہسپتال منتقل کیا جہاں طبی امداد کے باوجود وہ جانبر نہ ہو پایا اور دم توڑ گیا۔ادھر صادق آباد کے رہائشی 25 سالہ محمد صدام نے آئے روز کے گھریلو جھگڑوں اور مالی پریشانیوں سے دلبرداشتہ ہوکر زہریلی چیز کھا لی‘ حالت غیر ہونے پرورثاء نے طبی امداد کیلئے شیخ زید ہسپتال منتقل کیا جہاں طبی امداد کے باوجود وہ جانبر نہ ہو پایا اور دم توڑ گیا جبکہ اقدام خودکشی کرنے والے 6 افراد فاضل پور کی 18 سالہ مسرت بی بی‘ گھوٹکی کی 15 سالہ عارفہ بی بی‘ خانپور کی 20 سالہ آسیہ بی بی‘نواں کوٹ کی 19 سالہ سمیہ بی بی‘ راجن پور کی 40 سالہ اشرف بی بی اور ظفر آباد کی رہائشی 30 سالہ صائمہ بی بی کو ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔جبکہ تین روز قبل پایئگاہ کا رہائشی محمد انس چنگوانی اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ کوٹ چھٹہ کے مضافاتی علاقے غوث آباد کے نور پور سپر پر نہاتے ہوئے ڈوب گیا تھا لواحقین نے ریسکیو 1122 کو اطلاع دی تو ریسکیو کوٹ چھٹہ کی ٹیم نے کوئیک رسپانس دیتے ہوئے 2 بوٹ اور 15 اہلکاروں کی مدد سے نوجوان کی لاش کی تلاش کیلئے اپریشن شروع کر دیا نوجوان کی لاش ریسکیو 1122 کوٹ چھٹہ نے 3روز کی شب و روز محنت کے بعد دریائے سندھ جکھڑ امام شاہ کے مقام سے لاش تلاش کر کے لواحقین کے حوالے کر دی جس پر لواحقین نے ریسکیو 1122 کی اپریشن میں حصہ لینے والے تمام اہلکاروں کا شکریہ ادا کیا۔جبکہ ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر جھنگ راؤ شکیل اپنے آبائی علاقہ ککڑہٹہ میں بجلی کے کرنٹ سے زندگی کی بازی ہار گیا۔تفصیل کے مطابق ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر (ڈی آئی او)جھنگ،ٹوبہ ٹیک سنگھ راؤ شکیل اپنے آبائی گاؤں ککڑہٹہ آیا ہوا تھا پنکھا رکھتے ہوئے بجلی کا کرنٹ لگنے سے زندگی کی بازی ہار گیا مرحوم 14سال سے اس محکمہ میں خدمات سرانجام دے رہا تھا اس کا والد راؤ بلال واپڈا آفس خانیوال میں کلرک ہے جبکہ ایک بھائی راؤ کاشف کاشف پنجاب پولیس میں ہے مرحوم کے دو کم سن بیٹے ہیں ان کی نماز جنازہ عید گاہ ککڑہٹہ میں پڑھائی گئی جس میں علاقہ بھر سے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ادھر نواحی چک نمبر 231ڈبلیو بی کے رہائشی محمد ندیم قوم اوڈ راجپوت کی بیوی زینب بی بی صبح کے وقت اٹھی تو اندھیرے میں گھر میں موجود سیوریج کے کنویں جس کے اردگرد کوئی جنگلا وغیرہ بھی نہیں تھا اُس میں گر گئی اور جاں بحق ہو گئی 1122کی ٹیم نے آ کر نعش کو نکال کر ورثاء کے حوالے کیا دوسرے واقعہ میں اسی گاؤں کے رہائشی محمد اکرم آرائیں کا جوان سالہ بیٹا آم کے درخت پر آم توڑنے گیا تو وہ اچانک درخت سے گر کر موقع پر جاں بحق ہو گیا۔

حادثات

مزید :

ملتان صفحہ آخر -