اوچ شریف تا جلال پور نیشنل ہائی وے منصوبہ 11 سال بعد بھی نامکمل

  اوچ شریف تا جلال پور نیشنل ہائی وے منصوبہ 11 سال بعد بھی نامکمل

  

اوچ شریف (سٹی رپورٹر) اوچ شریف تا جلال پور نیشنل ہائی وے کی تعمیر کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا, شہریوں عمران، سلمان، امین حسن، عبدالرؤف، سمیع الرحمان، محمد آصف و دیگران نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اس منصوبہ کا باقاعدہ افتتاح کیا جس کا مقصد اوچ شریف کو ملتان سے لنک کرنا اور براستہ(بقیہ نمبر5صفحہ6پر)

بہاول پور کی نسبت 50 کلومیٹر فاصلہ کم کرنا تھا, یہ منصوبہ 3 ارب 20 کروڑ روپیہ کی لاگت سے دسمبر 2011 میں مکمل ہونا تھا, مگر کئی سال فنڈز نہ ملنے کے باعث کھٹائی میں پڑا رہا, بعد ازاں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اس کے فنڈز جاری کئے اور تعمیر میں تاخیر کے باعث 1 ارب 47 کروڑ روپیہ سے زائد مالیت کا لاگت میں بھی اضافہ ہوا, فنڈز ملتے ہی کنٹریکٹر نے چند روز پھرتیاں دکھائیں اور کچھ حصہ روڈ کا تعمیر کیا, اس دوران سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نامکمل منصوبہ کا افتتاح بھی کیا, اس فوٹو سیشن کے بعد ہی ٹھیکیدار کام چھوڑ کر غائب ہوگیا اور سوئی گیس کوٹنگ پلانٹ کے قریب عباسیہ نہر پر پل اور اس کے ساتھ سڑک کا کام ادھورا چھوڑ دیا جس کے باعث ٹرانسپورٹرز اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے, گردو غبار کے باعث علاقہ مکین سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں, ملتان جانے والی لوڈ ہیوی ٹرانسپورٹ بائی پاس کی بجائے شہر سے گزرنے کے باعث حادثات ہونا معمول بن گئے ہیں, شہریوں نے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے اس مسئلہ کو حل کرائیں, دوسری جانب کنٹریکٹر کمپنی کے ترجمان نے رابطہ پر بتایا کہ فنڈز نہ ملنے پر کچھ حصہ سڑک کی تعمیر کا رہ گیا, فنڈز ملتے ہی کام مکمل کردیا جائے گا۔

نامکمل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -