چارسدہ، درجہ چہارم ملازمین کی بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا انکشاف

چارسدہ، درجہ چہارم ملازمین کی بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا ...

  

چارسدہ(بیو رو رپورٹ) محکمہ تعلیم چارسدہ میں درجہ چہارم ملازمین کی بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا انکشاف 30 جون کو ریٹائرڈ ہونے والے متعدددرجہ چہارم ملازمین کی نشستوں پر تین ماہ قبل بھرتیوں کی نوٹیفیکیشن جاری کر دی گئی، غیر قانونی طور پراپنے من پسند افراد کی بھرتیوں کیلئے بنائی گئی سیلکشن کمیٹی کے قیام میں بھی قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑا دی دی گئیں، سیلکشن کمیٹی میں قواعد و ضوابط کے خلاف محکمہ تعلیم کے کلرکس اور ایک کلاس فور ملازم کو بھی شامل کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم زنانہ میں کل 48 درجہ چہار م ملازمین کے بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں سامنے آ گئے ہیں۔ اپنی مرضی کے افراد کو نوازنے کیلئے پہلے سلکشن کمیٹی کے قیام میں قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مرضی کے افراد شامل کیئے۔اور پھر ملازمین کی بھرتی میں مروجہ طریقہ کار قانون کے مطابق نہیں اپنایا گیا۔ ان 48ملازمین میں متعدد ملازمین ایسے بھی ہیں جن کو تیس جون 2020کو ریٹائرڈ ہونا تھا لیکن ان کی نشستوں پر بھی مقررہ وقت سے تین ماہ قبل نئی تعیناتیاں کر کے قواعد و ضوابط کو جوتی کے نوک پر رکھا گیا۔ یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ ان 48ملازمین کی خالی نشستوں پربھرتی کے لئے ڈسٹرکٹ سلکشن کمیٹی کا پہلا اجلاس تین ماہ قبل یعنی 5مارچ 2020کو منعقد ہوا جس میں 48ملازمین کے بھرتی ہونے کی منظوری دے دی گئی جبکہ بھرتیوں کے باقاعدہ احکامات 19مارچ 2020کو جاری کیئے گئے۔ درجہ چہارم ملازمین کے تعیناتی کے لئے بنائی گئی کمیٹی میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فی میل،سپرٹنڈنٹ،کلرک اور اسسٹنٹ کے ہمراہ سکیل 15کی ٹیچنگ کیڈر کے ٹیچر مس ماریا اور کلاس فور ملازم سعید خان کو شامل کیا گیا۔ جو کہ قواعد و ضوابط اور طریقہ کار کی سریحاً خلاف ورزی ہے کہ مروجہ طریقہ کار کے مطابق سلکشن کمیٹی میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر،بجٹ اینڈ اکاونٹ آفیسر،ایس ڈی اوز،ڈپٹی ایس ڈی اوز کو شامل کیا جانا ہے لیکن یہاں اس طریقہ کار پرعمل درآمد سے قصداً گریز کیا گیااور اپنے من پسند افراد کی بھرتی کیلئے من پسند افراد کو کمیٹی کا حصہ بنایا گیا۔ ہمارے نمائندے کے مطابق گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول اختر آباد،گورنمٹ گرلز پرائمری سکول گوہر آباد سمیت متعدد ایسے سکولز ہیں جہاں پر درجہ چہارم ملازمین کی بھرتیاں 19مارچ 2020 کو کر دی گئیں ہیں لیکن ان سکولوں میں پہلے سے تعینات درجہ چہارم ملازمین تیس جون 2020کو یعنی آج کے دن ریٹارڈ ہو رہے ہیں اسی طرح یہ بھرتیاں تین ماہ قبل کر دیئے گئے ہیں جو کہ قانونی طور پر درست نہیں۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کمیٹی میں شامل بعض ممبران نے بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھرتی کیا ہے جس میں تین ماہ گزرنے کے باوجود بعض ملازمین کے تنخواہیں تاحال شرو ع نہ ہو سکے ۔دوسری جانب محکمہ تعلیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کا تبادلہ 10اپریل 2020کوہوا تھا اور انہوں نے گزشتہ تاریخ (بیک ڈیٹ)میں تمام تر کاروائی انجام دیکر سلکشن کمیٹی کی میٹنگ بھی 5مارچ کو ظاہر کی اور 19مارچ کو تمام کلاس فور ملازمین کے تعیناتی کے اجتماعی نوٹی فی کیشن کے بجائے انفرادی نوٹیفی کیشنز جاری کیئے جو کہ اصولاً خلاف ضابطہ ہے۔ جس کے تقریباً ایک ماہ بعد یعنی 14،15،اور16اپریل کو ان ملازمین نے ڈی ایچ کیو چارسدہ سے اپنامیڈیکل سرٹیفکیٹ حاصل کیا اورمتعلقہ سکولوں میں جمع کرکے چارج لے لیا۔یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ نئے بھرتی ہونے والے ملازمین نے اپنا میڈیکل سرٹیفی کیٹ اس لیئے ایک ماہ کی تاخیر سے بنوایا کہ ان کی بھرتیوں کے احکامات گزشتہ تاریخ یعنی بیک ڈیٹ میں کی گئی تھی اور قانون کے مطابق نئے بھرتی ہونے والے کسی بھی سرکاری ملازم کو بھرتی کے احکامات ملنے کے بعد پندرہ دن کے اندر اندر چارج لینا لازمی ہو تا ہے اور چارج لینے کیلئے میڈیکل سرٹیفی کیٹ پیش کرنا بھی ضروری ہے تاہم بعد میں حکومت کی جانب سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسیر کے تبادلے کے احکامات معطل کئے گئے اور وہ تاحال چارسدہ میں بطور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کام کر رہی ہے اس حوالے سے محکمہ تعلیم کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر الفت بیگم کا کہنا ہے کہ تمام تر تعیناتیوں میں قانونی تقاضے پورے کئے گئے ہیں اور کوڈ 19کی وجہ سے ان ملازمین نے اپنا میڈیکل ایک ماہ بعد ہسپتال سے کرایا ہے۔ لیکن اس کے برعکس ہسپتال کے میڈیکل سپرٹنڈنٹ نے رابطہ کرنے پر بتایاکہ کوڈ 19کے دوران ہسپتال میں کسی بھی وقت میڈیکل سرٹیفکیٹ کے حصول کو بند نہیں کیا گیا تھا۔۔ذرائع کے مطابق عجلت میں کیئے گئے تمام تر بھرتیوں میں بے قاعدگیاں اس لیئے کیئے گئے کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فی میل)تبادلے کے بعد چارج چھوڑنے سے قبل خود تمام نشستوں پر بھرتیاں کرنا چاہتی تھی تاکہ من پسند افراد کو فائدہ دیا جا سکے اس لیئے ان بھرتوں میں قانون اور طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -