پختون قوم کے بقاء کی جنگ میں ایک ساتھ کھڑا ہونا پڑیگا، سردار حسین بابک

پختون قوم کے بقاء کی جنگ میں ایک ساتھ کھڑا ہونا پڑیگا، سردار حسین بابک

  

باڑہ (نمائندہ پاکستان)پختون قوم کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے۔ ہمیں جینے دیا جائے۔ پشتون قوم کے بقا کی جنگ کیلئے ایک ساتھ کھڑا ہونے پڑے گا۔ ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور صوبائی اسمبلی میں اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے عرفان اللہ آفریدی کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ایم پی اے خوشدل خان، ایم پی اے شگفتہ ملک، ایم پی اے صلاح الدین مومند، اے این پی کے مرکزی رہنما عمران آفریدی، ملک دریا خان، اے این پی خیبر کے صدر شاہ حسین شینواری، جنرل سیکرٹری چراغ آفریدی سمیت کثیر تعداد میں اہل علاقہ نے شرکت کی۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ اپنے آفریدی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور صوبائی صدر ایمل ولی خان کی خصوصی ہدایت پر آج ہم آپ کے سامنے ہیں۔ اسمبلی فلور پر آپ کیلئے اواز اٹھائی جو کہ آپ پر احسان نہیں کیا۔ بلکہ یہ ہمارا فرض تھا۔انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام کہ حکومت نے ابھی تک پوچھا تک نہیں۔ پشتونوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری ہے۔ کوئی بھی شخص ابھی تک بچا نہیں۔ علما کرام، اساتذہ کرام، طالب علم، وکلا، سیاستدانوں کو چن چن کر مارا گیا۔ العرض ان ظالم لوگون نے کسی کو بھی نہیں چھوڑا۔ ہماری زندگی اجیرن کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون قوم کے بقا کی جنگ میں باچا خان بابا کے سپاہیوں سے زیادہ قربانیاں کس نے دی ہے؟ کیا اس طرح کا واقع لاہور، فیصل آباد اور ملتان وغیرہ میں ہو سکتا ہے، نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ ایک ہیں۔ یہ واقعہ آپ لوگوں کو ایک پیغام ہے کہ ایک ساتھ مل جائیں۔ ورنہ ہم کو اس مارا جائے گا۔ طاہر داوڑ کو کس نے قتل کیا اب تک پتہ نہیں چلا۔ اب وقت آیا ہے کہ پشتون قوم اپنے دوست اور دشمن کو پہچانیں۔ انہوں مزید کہا کہ کھبی ہمیں اسلام کے نام پر دھوکہ دیا جاتا ہے اور کھبی پاکستانیت کا نام پر۔ شکر الحمداللہ ہم مسلمان ہیں اور پاکستانی ہیں۔ کوئی بھی اس مغالطے میں رہیں۔سردار حسین بابک نے کہا کہ ابھی تک آپ کو آئینی حقوق نہیں دیے جا رہیں۔ قبائلی اضلاع کے عوام کو اب تک تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔ کوئی ترقیاتی منصوبے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عرفان اللہ آفریدی کے گھرانے کے ساتھ دکھ درد کی اس گھڑی میں شریک ہیں۔ یہ اکیلئے نہیں ہیں۔ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملوث اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے اور ان کے لواحقین کے مطالبات مانیں۔عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین سے لے کر کارکنوں تک آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ یاد رہے کہ احتجاجی مظاہرے کے آخر میں باڑہ سیاسی اتحاد نے اعلان کیا کہ کل 12 بجے پشاور پریس کلب سے احتجاجی مظاہرین روانہ ہوں گے اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -