واپڈا ہائیڈرو یونین کا 15 جولائی کو سخت ترین احتجاج کا اعلان

واپڈا ہائیڈرو یونین کا 15 جولائی کو سخت ترین احتجاج کا اعلان

  

پشاور (سٹی رپورٹر) آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین خیبر پختونخوا کا پیسکو کی نجکاری روکنے اور پیسکو 17000 سٹاف بھرتی کرنے کیلئے 15 جولائی کو سخت ترین احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ ہائیڈرو یونین خیبر پختونخوا کے صوبائی کابینہ کا میٹنگ منعقد ہوا، جس میں صوبائی چیئرمین حاجی محمد اقبال صوبائی سیکرٹری نورالامین حیدرزئی، صوبائی ایڈیشنل شفیع اللہ، صوبائی فنانس سیکرٹری ناصر خان صوبائی جائنٹ سیکرٹری طارق خان اور دیگر نے زونل چیئرمین وسیکرٹری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے آئی ایم ایف اورورلڈ بینک کی ایماء پر پیسکو جیسے منافع بخش ادارے کو پرائیویٹ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کا مقصد چند سرمایہ داروں کو خوش کرنا جبکہ سرکاری اثاثے اونے پونے داموں سرمایہ داروں پر فروخت کرنا ہے جس سے پیسکو کے ہزاروں ملازمین بیروزگار ہو جائیں گے اور عوام پر مہنگی بجلی کی بم گرائے گی، جوکہ نہ ملک اور نہ ہی عوام کے مفاد میں ہے۔ پیسکو نے پچھلے سال کی نسبت اس سال عوام کو زیادہ بجلی فراہم کی اور پیسکو کا خسارہ پچھلے سال کی نسبت اس سال کم ہوا، جبکہ اربوں روپے زیادہ ریکوری ہوئی ہے، ایسے صورت میں پیسکو کی پرائیویٹائزین کی کوئی جواز نہیں بنتی، حکومت نے18 سال پہلے آئی ایم ایف کے کہنے پر واپڈا کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے کمپنیوں میں تقسیم کر دیا جبکہ اب پیسکو کی مزدوروں کی بچوں سے روٹی کا نوالہ چھیننے کی کوشش کرتے ہوئے بیروزگار کر رہے ہیں۔ حکومت نے اس سے پہلے جی ٹی ایس، محکمہ پی ٹی سی ایل کو پرائیویٹ کیا جس ملک کو فائدے کی بجائے نقصان ہوا۔ ہائیڈرو یونین کے مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیسکو میں 17000 ہزار خالی آسامیوں پر فی الفور بھرتی، فیلڈ سٹاف کو گاڑیاں فراہم کی جائیں تاکہ ملک کے نوجوان کو روزگار ملکر افرادی قوت بڑھنے سے بجلی چوری میں کمی اور بجلی بقایا جات کی وصولی میں مدد مل سکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -