دلوں کا سکون اور مسائل کا حل اسلامی نظام کے قیام میں ہی ہے: سراج الحق

دلوں کا سکون اور مسائل کا حل اسلامی نظام کے قیام میں ہی ہے: سراج الحق

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)انسانوں کے بنائے ہوئے سارے نظام آج ناکام ہو گئے ہیں۔ انسانیت ایک نئے نظام کی متلاشی ہے۔ ہمارے پاس نبی کریم ؐ کی سیرت اور قرآن کے احکامات کی صورت میں یہ نظام موجود ہے۔ دلوں کا سرور اور سکون بھی قرآن و سنت کے نظام میں ہی ہے اور روٹی،کپڑا اور مکان اور تمام وسائل کا حل بھی اسی نظام میں پوشیدہ ہے۔ ہم نے جمہوریت، فوجی و سول آمریت سب کو دیکھ لیا ہے۔ اب اسلامی نظام ہی کی ضرورت ہے اور جو اس نظام کے قیام کی جدو جہد میں اپنا خون پسینہ اور صلاحیت لگائے گا وہی کامیاب اور خوش قسمت ہو گا۔ سید منور حسن مرحوم نے اپنی ساری زندگی اسلامی نظام کے قیام اور دین کے سربلندی کی جدو جہد میں لگا دی۔اسلامی نظام کے قیام کی جدو جہد جاری رکھیں گے۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے سید منور حسن کی رہائش گاہ پر درس قرآن دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مرحوم کے صاحبزادے طلحہ حسن، داماد سعد،جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امراء پروفیسر ابراہیم، اسد اللہ بھٹو، راشد نسیم، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، جنوبی پنجاب کے امیر ڈاکٹر طارق سلیم، صوبائی نائب امراء ممتاز حسین سہتو، عبد الحفیظ بجارانی، کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، ضلع سکھرکے امیر حزب اللہ جھکڑو،مجلس وحدت المسلمین سندھ کے صدر سید باقر عباس زیدی، جماعت اسلامی کے دیگر ذمہ داران و کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ درس قرآن کے موقع پر خواتین بھی موجود تھیں جن کے لیے علیحدہ انتظام کیا گیا تھا۔ سینیٹر سراج الحق نے مزید کہا کہ آج ہمارے معاشرے میں دین کا ادھورا تصور ہے۔ لوگ دین کی کسی ایک آدھ چیز کو اختیار کر کے مکمل دین سمجھ لیتے ہیں، اصل کام اللہ کے بتائے ہوئے نظام کو پوری دنیا پر نافذ کرنا ہے۔ جتنے بھی انبیاء آئے انہوں نے اسی بات کی تعلیم دی اور جماعت اسلامی بھی رسولوں کے اسی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ تمام نیک اعمال انسان کے لیے ضروری ہیں اور ہر مسلمان کا فرض ہے کہ نیکیوں سے اپنا نامہ اعمال بھرے لیکن دین کے لیے یکسوہونا دین کی سربلندی اور غلبے کی جدو جہد کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اللہ تعالی نے ہر دور میں دین کی سربلندی کے لیے مختلف گروہ، جماعتیں اور شخصیات پیدا کی ہیں۔ قابل مبارکباد اور کامیاب ہیں وہ لوگ جو دین کی سربلندی کی جدو جہد میں شامل ہیں۔ جماعت اسلامی دین کی اس تحریک کا تسلسل ہے اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ زندگی اللہ کی دی ہوئی ہے اور انسان بھی صرف اللہ کا بندہ ہے کسی اورکا بندہ اور غلام نہیں ہے نہ بن سکتا ہے۔ سید منور حسن ایک نظریہ جہد مسلسل صبرو استقلال اور دنیا سے بے پرواہ انسان کا نام ہے۔ انہوں نے مسلسل 60سال تک اللہ کے دین کے غلبے کے لیے جدو جہد کی ہے۔ وہ ہمارے مربی، محسن، ناصح مزکی تھے۔ ان کی تقریروں سے زیادہ ان کا طرز عمل اور ان کی مسکراہٹیں اور نظروں سے ہی لوگوں کو سمجھانے والی خوبی بہت متاثر کن تھی۔ فارسی کی کہاوت ہے کہ ایک ولی اللہ کے ساتھ ایک ساعت گزارنا سو سالہ عبادت سے بہتر ہے۔ سید منور حسن کی شخصیت ایسی ہی تھی۔ ان کی مجلس میں چند لمحے گزارنے سے دل منور ہو جاتے تھے۔ انسان کو اللہ یاد آتا تھا۔ آخرت کی طرف توجہ اور دنیا سے دل بے پرواہ ہو جاتا تھا۔ ان کی موت کا ابھی تک یقین نہیں آرہا ہے۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور ان کا پیغام ان کی تقریروں سے زیادہ ان کا کردار اور عمل ہے۔ وہ گفتار سے زیادہ کردار کے غازی تھے۔ سید صاحب نے ہزاروں اور لاکھوں نوجوانوں کی زندگیاں سنواریں۔ ہم جس تحریک سے وابستہ ہیں۔ سید صاحب اس تحریک کے قائد اور رہنما تھے۔ آج ہماری سوسائٹی میں وہی حالات ہیں جو عہدِ نبوی ؐ میں تھے، جب دشمن چاروں طرف سے اسلام کے مٹھی بھر جانثاروں پر حملہ آور تھے اور دین کو ختم کردینا چاہتے تھے۔ آج بھی دشمن دین پر حملہ آور ہیں، ہمارے نظریات اور عقائد کو ختم کر دینا چاہتا ہے۔ دینی مدارس ہماری تہذیب و معاشرت اور حیا کو ختم کردینا چاہتا ہے۔ دشمن ہمیں آپس میں لڑا نا چاہتا ہے۔ آج ہم سب کی ذمہ داری ہے حق کی حفاظت کریں، سچائی کی خاطر جان و مال کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کریں۔ اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی باطل کے مقابلے میں قرآن و سنت کی روشنی سے منور کریں۔ سید منور حسن نے ساری زندگی حق پر قائم رہنے اور ڈٹ جانے میں گزاری ہے۔ اب ہماری باری اور ذمہ داری ہے کہ ہم انہی کے راستے پر چلتے رہیں۔وہ رب سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کر گئے اب ہمیں اپنا وعدہ پورا کرنا ہے۔ ہمارے پاس پوری دنیا سے پیغامات آرہے ہیں کہ سید صاحب ہمارے رہنما اور قائد تھے۔ اب ہم کس سے رجوع کریں گے۔ کون ہماری رہنمائی کرے گا۔ سید صاحب نے سید مودودی ؒ کو بہت قریب سے دیکھا۔ انہوں نے قاضی حسین احمد ؒ، میاں طفیل محمد کے ساتھ کام کیا۔ آج ہم ان سب کی جماعت اور تحریک کے وارث ہیں۔ ہم نے ان کے گھر میں دیکھا ہے کہ لاکھوں لوگوں کی قیادت کرنے والے اور دلوں پر حکمرانی کرنے والے‘ان کے اشاروں پر لاکھوں لوگ جمع ہونے والے درویش صفت انسان کی زندگی کا کل اثاثہ چند استعمال شدہ جوڑے اور دو ٹوپیاں تھیں، بے سر و سامانی کا یہ عالم بلا شبہ صحابہ کرام ؓ کی زندگی اور سیرت کے نمونوں کا عکاس ہے، آج ہمارے لیے بھی عمل اور کردار کی پختگی اختیار کرنے کا وقت ہے۔ ہم خود اپنے قول و فعل کو یک رنگ بنائیں۔

مزید :

صفحہ اول -