پٹرول قلت کیخلاف درخواستوں کی سماعت، لاہور ہائیکورٹ نے چیئرپرسن اوگرا کو جرمانہ کر دیا

پٹرول قلت کیخلاف درخواستوں کی سماعت، لاہور ہائیکورٹ نے چیئرپرسن اوگرا کو ...
پٹرول قلت کیخلاف درخواستوں کی سماعت، لاہور ہائیکورٹ نے چیئرپرسن اوگرا کو جرمانہ کر دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )لاہور ہائیکورٹ نے پٹرول قلت کیخلاف درخواستوں کی سماعت میں چیئرپرسن اوگرا پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے پٹرول قلت کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی۔ہائیکورٹ نے پیٹرول کی قلت پر اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پٹرول قلت پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں جسے 15 دن میں معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی جائے، اگر سپیکر کمیٹی نہیں بناتے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور اس کے راستے کی رکاوٹ بننے والا کوئی بھی نہیں بچے گا۔

عدالت نے پچھلی سماعت میں پیش نہ ہونے پر چیئرپرسن اوگرا عظمی عادل پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا جسے بار ایسوسی ایشن کے ہسپتال میں جمع کروانے کا حکم دیا۔اٹارنی جنرل پاکستان نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو ایک روز کا استثنی دینے کی استدعا کی لیکن عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو وارنٹ گرفتاری جاری کر طلب کروانا پڑے گا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ پٹرول کی قیمتیں بڑھا کر آپ نے کمپنیوں کو کتنا فائدہ پہنچایا؟ مہینہ پورا ہونے سے قبل پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے سے کمپنیوں کو کتنا فائدہ ہوا؟۔عدالت نے چیئرمین پرسن اوگرا کو روسٹرم پر طلب کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے 2016ءسے آج تک کی 15 دنوں کی رپورٹ دیں جس میں کمپنیوں کے پاس کتنا کتنا پیٹرول رہا ہے، آپ نے پیٹرول کی قیمتوں کا تعین کرنے کیلئے فارمولا تبدیل کر دیا جو بادی النظر میں بدنیتی پر مبنی لگتا ہے، یہ بہت بڑا بحران ہے جو ملک میں آیا ہے، اب اس کی شفاف طریقے سے کیسے تحقیقات کرنی ہیں۔

عدالت نے چیئرپرسن اوگرا پر عائد جرمانہ ایک لاکھ روپے بار ایسوسی ایشن کے ہسپتال میں جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 9 جولائی تک ملتوی کردی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -