اس لیے شگفتہ اسلوب اپنایاتاکہ میرانقطہ نظر کسی پرگراں نہ گزرے ، عہد ساز کالم نویس و ادیب امیر نواز نیازی سے خصوصی گفتگو

اس لیے شگفتہ اسلوب اپنایاتاکہ میرانقطہ نظر کسی پرگراں نہ گزرے ، عہد ساز کالم ...
اس لیے شگفتہ اسلوب اپنایاتاکہ میرانقطہ نظر کسی پرگراں نہ گزرے ، عہد ساز کالم نویس و ادیب امیر نواز نیازی سے خصوصی گفتگو

  

انٹرویو: عبدالستار اعوان

سوال: اپنے ابتدائی حالات کے متعلق کچھ بتائیے؟

جواب: میری تاریخ پیدائش 28نومبر1933ء ہے اورعلاقہ بلوخیل ضلع میانوالی ہے۔میرا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے ہے۔ میرا بچپن اپنے علاقہ میں ہی گزرا۔ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی اور 1949ء میں گورنمنٹ ہائی سکول میانوالی شہر سے میٹرک اورگورنمنٹ اصغر مال کالج راولپنڈی سے ایف ایس سی کاامتحان پاس کیا۔ میانوالی میں گورنمنٹ کالج بنا تومیں میانوالی آگیا اور یہاں سے گریجوایشن کیا۔بعدمیں پشاور یونیورسٹی سے ایم اے پولیٹیکل سائنس کے لیے داخلہ لیا تو انہی دنوں پنجاب سول سروس کمیشن کی طرف سے سپیرئیر فاریسٹ سروس کا اشتہا ر نظر سے گزرا تومیں نے بھی درخواست دے دی اور سلیکٹ ہوگیا۔ جس روز میری تربیت مکمل ہوئی اور میں پاس آؤٹ ہو رہا تھا اسی دن فیلڈ مارشل ایوب خان نے ٹیک اوور کر کے عنان حکومت سنبھال لی۔ میری پہلی تعیناتی چھانگا مانگا جنگل میں بطور فاریسٹ افسر ہوئی۔

سوال: سرکاری ملازمت، کالم نگاری،صحافت اور زمانہ طالب علمی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب: اللہ کا میں لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ میں نے ہر لحاظ سے بڑی بھرپور زندگی گزاری ہے اور لائف کو خوب انجوائے کیاہے۔اللہ کریم نے بچپن سے اب تک میرے حصے میں صرف کامیابیاں لکھیں اور مجھے کسی بھی میدان میں ناکام نہیں ہونے دیا۔ جب پڑھتاتھا تو میرا شمار بہترین اور ٹاپ سٹوڈنٹس میں ہوتاتھا۔گھومنا پھر نا اور جنگلوں کی سیر مجھے بہت پسند تھی اور اللہ کا کرم دیکھیں کہ مجھے نوکری بھی ایسی ملی جس میں جنگلوں کی سیاحت ہی سیاحت تھی۔میں نے دوران سروس مشرقی اور مغربی پاکستان کے قدرتی جنگلا ت، ہل ٹریکس کا نظارہ کیا۔چٹاگانگ،سلہٹ،کشمیر اور پاکستان کا ایک ایک جنگل دیکھا اور فطری نظاروں سے محظوظ ہوا۔ مشرقی پاکستان میں سندر بن کے جنگلوں میں میں نے دھاری دار رائل بنگال ٹائیگردیکھے، جنگلی ہاتھی اور پتہ نہیں کیا کیا جنگلی حیات دیکھیں اور قدرتی مناظر سے جی بھر کر لطف اندوز ہوا۔

سوال: لکھنے کا ذوق کس دور میں بیدار ہوا؟

جواب: جب میں میانوالی کالج میں گریجوایشن کررہا تھا تو اس دور میں کالج لائبریری سے کتابیں لے کر ان کا مطالعہ کرتا اور پھر پھر آہستہ آہستہ میں نے اپنا مافی الضمیرہلکے پھلکے اشعار کی صورت میں بیان کرناشروع کیا۔مَیں ان دنوں کالج کے بلیک بورڈ یانوٹس بورڈ پر کوئی شعر لکھ دیتا تو وہ کئی دن تک لڑکوں کی زبان پر رہتا۔

سوال: اس دور کا کوئی یادگار شعر سنائیے؟

جواب: اس دور کے بہت سے اشعار تو میں بھول چکا ہوں تاہم چندایک یاد ہیں جن کا ذکر میں نے اپنے کئی مضامین میں بھی کیا اور آپ کو بھی بتائے دیتا ہوں۔ان دنوں پاکستان نیا نیا بناتھا۔پروفیسرظہور الحسن ارزشؔ فارسی کے ہمارے استاد تھے اور تازہ تازہ بھارت سے ہجرت کر کے آئے تھے۔اُردو ان کی مادری زبان تھی اور فارسی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔بہت عمدہ اور قادر الکلام شاعر تھے، اپنا کلام ترنم سے سنایاکرتے۔ انہیں اردو کے عظیم شاعر اور ادیب جوش ملیح آبا دی کا بھی قرب حاصل رہا اور ان کاذکر جوش ملیح آباد ی نے اپنی آپ بیتی ”یادوں کی برات“میں بھی نہایت محبت کے ساتھ کیا ہے۔ارزشؔ صاحب کی آواز جہاں بے حد سریلی تھی۔ سمارٹ جسم تھا، گپ شپ اور ہنسی مذاق کے بھی ماہر تھے۔ گپ شپ میں بعض اوقات”لمبی لمبی“ بھی چھوڑ جاتے اور پکڑائی نہیں دیتے تھے۔تو میں نے شرا رت کے طور پر ان پر ایک نظم لکھ ڈالی جو کالج بھر میں مشہور ہوئی۔ انہوں نے سنی تو مسکرا کرکہنے شاباش لگے رہو۔نظم کا پہلا شعر یہ ہے؎

یہ ہیں ارزشؔ،سراپاورزش،پان سے ہونٹ سجاتے ہیں

اڈلٹریشن (Adulteration) کے ہیں ماہر،سچ میں جھوٹ ملاتے ہیں

سوال: بعض لوگوں کے نزدیک کالم نگاری ادب ہی کی ایک صنف ہے اور بعض اس سے اتفاق نہیں کرتے،یوں کالم کی کوئی مستقل اور ٹھوس تعریف موجود نہیں، اس کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟

جواب: بس میراکام تو تھا لکھنا اب اسے کیا نام دیاجاتا اس کا فیصلہ ادب سے وابستہ لوگوں نے کرنا ہے۔ ہاں اتنا عرض کرتا چلوں کہ عام طورپر ایک اخباری کالم کو ہم ”لٹریری اِ ن ہری“(یعنی:تیزی میں لکھا ہوا ادب)کہہ سکتے ہیں۔میرے خیال سے کالم کی یہی بہترین تعریف ہے۔

سوال: آپ نے ایک طویل عرصہ تک اخبارات میں لکھا، لیکن آ پ کی تحریروں میں کسی خاص سیاسی جماعت یاکسی دھڑے کی حمایت کا قطعی کوئی تاثر نہیں ابھرتا، کیاوجہ ہے؟

جواب: اصل میں میرا شروع سے ہی یہ نقطہ نظر تھا کہ میں نے صرف پاکستان کے لیے ہی لکھنا ہے اوربس۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے کالموں میں کبھی بھی کسی جماعت کی نمائندگی کا کردار ہرگزادا نہیں کیا۔

سوال: آپ اپنے کالموں میں ہمیشہ ہلکے پھلکے طنز و مزاح سے کام لے کر اپنا مدعا بیان کردیتے تھے،بالکل سنجیدہ اور جارحانہ کیوں نہ لکھا؟

جواب: کالج دور سے ہی مجھ میں طنز یہ اور مزاحیہ انداز سرایت کر گیا تھا۔اصل میں میَں یہ سمجھتا تھا کہ اپنی جو بھی بات کروں اس شگفتہ انداز سے کروں کہ تلخی کا اس میں کوئی نام و نشان نہ ہو اوروہ کسی کی طبیعت پرگراں نہ گزرے۔ بس یہی سوچ کر میں نے یہ اسلو ب اپنایا اور پھر اسی پر قائم رہا۔اسی لیے تو ایک مرتبہ اجمل نیازی نے مجھے کہا تھا کہ یار تو بڑی بڑی تلخ باتیں کر جاتا ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہہ جاتا ہے کہ ”گر تو برا نہ مانے“۔

سوال: کس شاعر سے زیادہ متاثرہیں؟

جواب: غالبؔ اورفیضؔ کو ہی زیادہ پڑھا اور ان سے متاثربھی ہوں۔

سوال: ناول پڑھنے میں دلچسپی ہے کہ نہیں؟

جواب: ناول میں کوئی خاص دلچسپی نہیں، البتہ دوران طالب علمی کالج لائبریری میں نسیم حجازی کو پڑھا تھا۔اس دور میں والدین جب ہمیں ناول پڑھتے دیکھتے تو ناول ہاتھ سے چھین لیتے۔ یوں میں نے والدین سے چھپ چھپ کر نسیم حجازی کے ناول پڑھے۔

سوال: کالج دورمیں تقریرسے دلچسپی تھی یا نہیں؟

جواب: تقریر میں دلچسپی تھی لیکن ایک بار مجھے انگریزی میں تقریر کرنے کوکہاگیا اورجب میں روسٹرم پر کھڑا ہو اتوطلبہ نے بہت زیادہ ہوٹنگ کی جس کی وجہ سے میں تقریر نہ کرسکا۔

سوال: سٹوڈنٹ پالیٹیکس سے دلچسپی رہی یا نہیں؟

جواب: جی کسی حد تک رہی لیکن زیادہ اس میں دلچسپی نہیں لی۔ایک بار سیکرٹری جنرل کا الیکشن لڑا لیکن ناکام ہوا۔پھر طلبہ سیاست پر زیادہ توجہ نہ دی۔

سوال: اخباری کالموں کی ابتداء کب ہوئی؟

جواب: یو ں تومیں زمانہ طالب علمی سے لکھنے لگاتھا، کالج میگزین”سہیل“میں لکھتا تھا اور پھر اس کا ایڈیٹر بھی رہااور بعد ازاں نوائے وقت کے رسالے ”قندیل“میں لکھا، اسی طرح دوران ِ ملازمت بھی اخبارات میں کالمز لکھا کرتا لیکن 1994ء میں جب میں سرکاری بندھنوں سے آزاد ہوکر ملازمت سے سبکدوش ہوا تو باقاعدہ اخبارات میں لکھنا شروع کیا۔سب سے پہلے روزنامہ جنگ میں لکھنے کا موقع ملا اورمیرا فکاہیہ کالم ”گر تو برا نہ مانے“شائع ہونے لگا۔مجھے زیادہ شہرت اسی عنوان سے ملی۔اس کے بعد یہی کالم روزنامہ خبریں میں منتقل ہو گیا۔ اسی طرح روزنامہ پاکستان اور سب سے آخر میں پھر روزنامہ نوائے وقت سے وابستہ ہوا اور 2008ء تک نوائے وقت میں ہی لکھا۔درمیان میں کچھ تھوڑا عرصہ مجیب الرحمن شامی کے کہنے پر ان کے اخبار روزنامہ پاکستان میں بھی لکھتا رہا۔پاکستان میں شامی صاحب اور قدرت اللہ چودھری کے ساتھ ہماری بہت گپ شپ رہتی۔ قدرت اللہ چودھری کو میں ایک ماہراور مستند اخبار نویس اور علم دوست شخصیت تصورکرتاہوں۔

سوال: آپ نے 2008ء تک کالم لکھا اوراس کے بعد چھوڑدیا، کیوں؟

جواب: 2007ء میں میرے ساتھ ٹریجڈی یہ ہوئی کہ میری بصارت جواب دیتی گئی اور 2008ء میں نظر بالکل ختم ہوگئی تو میں نے نوائے وقت میں آخری کالم ”جب چراغوں میں روشنی نہ رہی“لکھا جو میری کتاب ”صبح دوام زندگی“میں بھی موجود ہے۔

سوال: آپ کس قلم کار یاسیاست دان سے زیادہ متاثرہیں؟

جواب: مشتاق یوسفی، کرنل محمد خان، اورہمارے دورکے ایک اہم ساتھی تھے سید خورشید گیلانی (مرحوم)،انہوں نے بھی متاثرکیا۔ سیاستدانوں میں مجھے سب سے زیادہ نواب آف کالاباغ امیر محمدخان نے بہت متاثرکیا۔

سوال: اپنا کوئی ایسا شعریاغزل جو آپ کو بے حد پسند ہو؟

جواب: 2008ء میں جب میری آنکھیں بے نور ہوگئیں توچند اشعار میری زبان سے جاری ہوئے جو اب بھی زبان پر رہتے ہیں، لیجئے آپ بھی سنیے۔عنوان ہے ”آنکھیں جوبے نور ہوئیں“۔

میرے خدا،ان آنکھوں سے کیاقصور ہوا

کہ دیدارِ یارمجھ سے دور ہوا

وہ جو روٹھ گئی بینائی مجھ سے

کیوں میرا جہاں،ناگہاں بے نورہوا

سجا رکھا تھا، جودل میں اپنے

وہ نقش ِ یار،چکنا چُور ہوا

وہ نظارے جو دور ہوئے،سارے

جرم تومجھ سے کوئی ضرور ہوا

سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی مجھ کو

میرے خدا، میں کس قدر مجبور ہوا

دن بھی لگے اب رات کی مانند

کٹھن یہ راستہ میرے حضور ہوا

دکھ تو یہ ہے، دکھ چھپاؤں کیسے

یہ حادثہ تو گلی گلی مشہورہوا

میں بھی راضی برضا ہوں نیازیؔ

کہ ایسا ہی،خدا کو منظورہوا

سوال: کسی اہم ادبی اور صحافتی شخصیت سے کوئی وابستہ یادیں؟

جواب: نوائے وقت کے مجید نظامی ایک عظیم انسان تھے۔مصروفیت کے باوجو د مجھے وقت دیتے اورگپ شپ لگاتے۔ مجیب الرحمن شامی، قدرت اللہ چودھری،اجمل نیازی، اسد اللہ غالب وغیرہ سے اچھا تعلق رہا اور یہ جینوئن لوگ ہیں۔

سوال: تحریک پاکستان کے حوالے سے کوئی اہم واقعہ سنائیے؟

جواب: بہت سی یادیں ہیں جو جگنوؤں کی طرح ذہن میں جگمگاتی ہیں۔یہ 1946ء کازمانہ تھا۔برصغیر میں آزادی کے نعرے گونج رہے تھے اور پاکستان موومنٹ اپنے عروج پرتھی۔”لے کے رہیں گے پاکستان“کے نعرے مسلمانان ہند کاجزو ایمان بن چکے تھے۔ہندو او ر انگریز اس سیلاب کے آگے اپنے طور پر بند باندھنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ بڑے بڑے جلسے ہوتے،جلو س نکلتے، گولیاں چلتیں، لاٹھی چارج، پکڑ دھکڑ روزکا

معمول تھا۔میں ان دنوں گورنمنٹ ہائی سکول میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔میری عمر کے لڑکے اور تو کچھ کر نہیں سکتے تھے، بس چھوٹی چھوٹی گلیوں اور کوچوں میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے تھے۔عمر کچی تھی،سیاست کی باریکیوں سے ناآشنا تھے لیکن دل میں عقیدت اورمحبت کی بنیادیں واضح طور پر پختہ تھیں۔کیونکہ پاکستان ایک عقیدہ بن چکا تھا۔ایک دن ہمارے سکول کے قریب سے مسلم لیگ کا جلوس گزرا جو ضلع کچہری کی طرف رواں دواں تھا۔انگریز کا دورتھا ا ور کچہری انگریز کی طاقت اور ہیبت کی پہچان ہواکرتی تھی۔کچہر ی میں ضلع کے سیاہ و سفید کا مالک انگریز ڈپٹی کمشنر بیٹھا کرتا تھا اور وہاں پولیس کا سخت پہرا ہوتاتھا کہ پرندہ بھی پر نہیں ما رسکتاتھا۔کسی جلوس کا اس طرف آنا ہی اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ لیکن تحریک پاکستان کا یہ جلوس پورے جذبے سے اسی کچہری کی طرف روانہ تھا۔جس وقت جلوس سکول سے آگے بڑھا تو مسلمان طالب علموں کی کثیر تعداد بھی ساتھ ہولی۔ ہم بھی اپنا بستہ اٹھائے جلوس کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ کم سنی تھی لیکن جذبہ صادق تھا۔اپنے لیڈروں کی محبت دلوں میں موجزن تھی۔جلوس جس وقت کچہری کی عقبی سمت میں پہنچا تو ایک خوبرو اور گورا چٹا نوجوان جو اس جلو س کا روح رواں تھا پروقار انداز میں آگے بڑھا تو فضا ”امیر عبد اللہ خان روکھڑی، زندہ باد“کے نعروں سے گونج اٹھی۔یہ نوجوان مسلسل آگے بڑھتا گیا اور کچہری کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا عمارت پر لگے ”یونین جیک“کے پاس جاپہنچا۔ یہ یونین جیک عمارت کی سب سے اونچی منڈیر پر نہایت تمکنت سے لہرا رہا تھا۔ یونین جیک کوئی عام جھنڈا نہ تھا بلکہ سلطنت برطانیہ کی عالمگیرحیثیت کا ایک نشان تھا جس کی عمل دار ی میں سورج بھی غروب نہیں ہوتا تھا۔لیکن آج چشم فلک نے وہ منظر دیکھا کہ ایک باہمت نوجوان نے غلامی کی اس علامت کو نفرت اور غصے سے اتار کر تار تار کر دیاتھااور سب لوگ دم بخود ہو گئے تھے۔پھر اس نوجوان نے جہاں سے انگریز کا جھنڈا اتار ا تھا وہاں پاکستان کا علامتی جھنڈا لہر ا دیا۔اس جرم پر امیر عبد اللہ خان روکھڑی کو پولیس نے گرفتار کیا اور انہیں چار سال قید کی سزاسنائی گئی۔

سوال: آپ کی کتنی کتابیں چھپ چکی ہیں؟

جواب: میری آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں جو خزینہ علم و ادب لاہور کی طرف سے شائع ہوئی ہیں۔یہ میرے نثری مضامین ہیں، ان کے علاوہ ایک شعری مجموعہ بھی ہے۔ میں نے اس لیے شگفتہ اسلوب اپنایاتاکہ میرانقطہ نظر کسی پرگراں نہ گزرے ، عہد ساز کالم نویس اور ادیب امیر نواز نیازی سے خصوصی گفتگو

نوٹ: انٹرویو میں کہی گئی باتوں سے روزنامہ پاکستان کا متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید :

بلاگ -