مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کے لیے چین زبردستی مسلمان خواتین کو مانع حمل دوائیاں دینے لگا، انتہائی پریشان کن دعویٰ سامنے آگیا

مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کے لیے چین زبردستی مسلمان خواتین کو مانع حمل ...
مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کے لیے چین زبردستی مسلمان خواتین کو مانع حمل دوائیاں دینے لگا، انتہائی پریشان کن دعویٰ سامنے آگیا

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین میں یغور مسلمانوں پر ظلم و تشدد کی خبریں گاہے سامنے آتی رہتی ہیں جنہیں لاکھوں کی تعداد میں ازسرنو تعلیم کے نام پر حراستی مراکز میں رکھا جا رہا ہے اور ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ اب اس حوالے سے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی رپورٹ میں ایک اور پریشان کن دعویٰ کر دیا ہے۔ خبررساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ چینی حکام یغور مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کے لیے ان کی خواتین کو زبردستی مانع حمل ادویات دے رہے ہیں اور ان کے اسقاط حمل کروا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سنکیانگ میں حکام نے مسلمان خواتین پر لازم قرار دے رکھا ہے کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ اپنا حمل کا ٹیسٹ کرواتی رہیں۔ وہ انہیں مانع حمل ادویات دیتے ہیں اور اس دوران جو خاتون حاملہ ہو جائے اس کا اسقاط حمل کروا دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین سے فرار ہو کر امریکہ جانے والی مسلمان خاتون گلنار امیرزخ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ جو خاتون حمل کا ٹیسٹ نہ کروائے یا مانع حمل ادویات نہ لے اسے طویل قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حراستی مراکز میں جن وجوہات کی بناءپر لوگوں کو قید کیاجاتا ہے ان میں سب سے بڑی وجہ زیادہ بچے پیدا کرنا ہے۔ جس میاں بیوی کے زیادہ بچے ہوں انہیں حراستی مرکز میں قید کر لیا جاتا ہے اور ان کے بچے حکومتی تحویل میں لے لیے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو بھاری جرمانے بھی کیے جاتے ہیں۔ پولیس یغور مسلمانوں کے گھروں میں چھاپے مارتی اور چھپے ہوئے بچوں کو تلاش کرتی ہے۔ گلنار کا کہنا تھا کہ وہ خود تیسرا بچہ پیدا کرنے پر 2ہزار 685ڈالر جرمانہ ادا کر چکی ہے۔ اتنے بھاری جرمانے کے علاوہ اسے دو سال تک حراستی مرکز میں قید بھی رکھا گیا تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -